غزل جو لکھی تھی صفدر کبھی جوانی میں

0
266

بس ایک لمحہ ہی لگتا ہے بدگمانی میں
پھر اُسکے بعد سفر سارا رائیگانی میں

شکستہ دیکھ کے دیوار ودر ہوا معلوم
ہے فرق کتنا مکانی میں لامکانی میں

جبیں پسینے سے تر اور سرخ تھے رُخسار
نہ جانے کہہ گیا کیا اُس کو میں روانی میں

عجیب بات ہے نقش صدا تلک نہ ملا
تلاش تجھ کو کیا ہے تری نشانی میں

مفاہمت کا یہی ایک راستہ دیکھا
اُسے سکون میسر ہے بدزبانی میں

یہ فرق آج ہوا مجھ پہ منکشف ورنہ
میں پیار لکھتا رہا عشق کے معانی میں

میں اُسکا ہاتھ پکڑ کر زمیں پہ بیٹھ گیا
پھرایک موڑ نیا آ گیا کہانی میں

پرانی ڈائری سے آج مل گئی مجھ کو
غزل جو لکھی تھی صفدر کبھی جوانی میں

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY