ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی وفات

عالم اسلام کے عظیم اسکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ 9 / فروری 1908ء کو حیدرآباد (دکن) کے ایک ذی علم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مدرسہ نظامیہ سے مولوی کامل اور جامعہ عثمانیہ سے بی اے، ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کئے اور 1932ء میں جرمنی کی بون یونیورسٹی سے ڈی فل کیا۔ ان کی اعلیٰ قابلیت کے باعث انہیں بون یونیورسٹی میں لیکچرر مقرر کیا گیا۔ بعدازاں وہ پیرس آگئے جہاں انہوں نے ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہ سات دہائیوں تک علم کی روشنی پھیلاتے رہے۔ وہ متعدد علمی اداروں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے سات زبانوں میں سو سے زیادہ کتابیں اور ایک ہزار سے زیاہ مضامین تحریر کئے۔ وہ 22 زبانیں جانتے تھے۔ وہ قرارداد مقاصد کی منظوری کے وقت پاکستان آئے اور اس وقت حکومت پاکستان نے ان سے اہم مشورت اور معاونت حاصل کی۔ انہوں نے جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں بارہ لیکچر بھی دیئے جو خطبات بہاولپور کے نام سے مشہور ہوئے۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے قرآن پاک کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا اور فقہ حدیث اور سیرت النبیؐ کے مختلف پہلوئوں پر لاتعداد کتابیں تحریر کیں۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ صحیفہ ہمام ابن منبہ کی تدوین ہے۔ 101ھ میں تحریر کردہ اس کتاب کی مختلف جلدیں دنیا کے مختلف ممالک کے کتب خانوں میں محفوظ تو تھیں مگر کوئی انہیں یکجا کرنے والا نہ تھا۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے انہیں مدون کرکے شائع کیا۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تحریروں کی بدولت امریکا، یورپ اور افریقہ میں اسلام بھی بڑی سرعت سے پھیلا اور صرف فرانس میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی۔
حکومت پاکستان نے ڈاکٹر محمد حمید اللہ کو ہلال امتیاز کا اعزاز عطا کرکے اپنے اس اعزاز کی قدر و قیمت میں اضافہ کیا تھا۔
سترہ / دسمبر 2002ء کو ڈاکٹر محمد حمید اللہ جیکسن ولے، فلوریڈا امریکا میں وفات پاگئے جہاں وہ علاج کی غرض سے مقیم تھے۔
————————————————————————————————————-

خوانچہ فروش کی خود کشی

سترہ دسمبر 2010کے ایک واقعے نے دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا

تیونس میں ایک خوانچہ فروش نوجوان محمد بوعزیزی کے خود کو آگ لگانے کے بعد ایسے واقعات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے عرب دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔
جھلس کر ہلاک ہونے والے بو عزیزی عرب دنیا کے ان بیروزگار نوجوانوں کا نمائندہ بن گئے جو خطے کی آبادی کا ساٹھ فیصد ہیں۔

جو واقعات بوعزیزی کی خودکشی کا باعث بنے، ان کا الزام سرکاری انسپیکٹر فائدا حمدی پر لگایا جاتا ہے جبکہ وہ اس الزام کی تردید کرتی ہیں۔ ان کا بھی یہ کہنا ہے کہ ’بوعزیزی پانی سے بھرے ہوئے گلاس میں وہ آخری قطرہ ثابت ہوئے جس کے بعد پانی باہر آگیا۔‘

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY