اکیس نومبر ۔پاکستان کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام لندن میں انتقال کرگئے۔

وقار زیدی ۔ کراچی

اسلم پرویز کی وفات

اکیس نومبر 1984ء کو پاکستان کے مشہور فلمی اداکار اسلم پرویز ایک ہفتہ تک موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد خالق حقیقی سے جاملے۔

14 نومبر 1984ء کو اسلم پرویز اداکار اقبال حسن کے ساتھ ہدایت کار حیدر چوہدری کی فلم جھورا کی عکس بندی کے بعد فیروز پور روڈ، لاہور سے اپنے گھر واپس جارہے تھے کہ ان کی کار کا ایک ویگن سے تصادم ہوگیا۔ اس تصادم کے نتیجے میں اقبال حسن جائے حادثہ پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔

اسلم پرویز کا اصل نام ضیا تھا ان کی فلمی زندگی کا آغاز1955ء میں انور کمال پاشا کی فلم قاتل سے ہوا تھا۔ابتدا میں وہ فلموں میں مرکزی کردار ادا کرتے تھے جن میں پاٹے خان، پردیس، پینگاں، پاسبان، مس 56، چن ماہی، آنکھ کا نشہ، چھو منتر اور کوئل جیسی فلموں کے نام سرفہرست ہیں۔بعدازاں وہ فلموں میں ولن کا کردار ادا کرنے لگے۔ان کی ایسی فلموں میں فلم سہیلی،انسان اور آدمی، رواج، بہاروں پھول برسائو، شکوہ، دامن اور بہن بھائی کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
————————————————————
ڈاکٹر عبدالسلام کی وفات

اکیس نومبر 1996ء کو پاکستان کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام لندن میں انتقال کرگئے۔

ڈاکٹر عبدالسلام 29 جنوری 1926ء کو موضع سنتوک داس ضلع ساہیوال میں پیدا ہوئے تھے۔ جھنگ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہورسے ایم ایس سی کیا۔ ایم ایس سی میں اول آنے پر انہیں کیمبرج یونیورسٹی نے اعلیٰ تعلیم نے اسکالر شپ مل گیا چنانچہ 1946ء میں وہ کیمبرج چلے گئے جہاں سے انہوں نے نظری طبعیات میں پی ایچ ڈی کیا۔ 1951ء میں وہ وطن واپس آئے اور پہلے گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔ 1954ء میں وہ دوبارہ انگلستان چلے گئے وہاں بھی وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔

وہ 1964ء میں ڈاکٹر صاحب نے اٹلی کے شہر ٹریسٹ میں انٹرنیشنل سینٹر برائے نظری طبعیات کی بنیاد ڈالی۔ 1979ء میں انہیں طبعیات کا نوبیل انعام عطا کیا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی تھے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی، ستارۂ امتیاز اور نشان امتیاز کے اعزازات عطا کئے تھے۔

انہیں دنیا کی 36یونیورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں عطا کی تھیں اس کے علاوہ انہیں 22ممالک نے اپنے اعلیٰ اعزازات سے نوازا تھا، جن میں اردن کا نشان استقلال، وینزویلا کا نشان اندرے بیلو ، اٹلی کا نشان میرٹ ، ہاپکنز پرائز، ایڈمز پرائز، میکسویل میڈل ، ایٹم پرائز برائے امن، گتھیری میڈل، آئن اسٹائن میڈل اور لومن سوف میڈل سرفہرست ہیں۔
ڈاکٹر عبدالسلام نے نظری طبعیات اور تیسری دنیا کی تعلیمی اور سائنسی مسائل کے حوالے سے 300 سے زیادہ مقالات تحریر کئے جن میں سے چند کتابی مجموعوں کی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالسلام ربوہ میں آسودۂ خاک ہیں
—————————————————————-
اطہر نفیس کی وفات

21 نومبر 1980ء کو اردو کے ایک معروف اور معتبر غزل گو شاعر جناب اطہر نفیس کراچی میں وفات پاگئے۔

اطہرنفیس کا اصل نام کنور اطہر علی خان تھا۔ وہ 1933ء میں جگنیر ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ جناب اطہر نفیس نے ابتدائی تعلیم مسلم یونیورسٹی اسکول علی گڑھ سے حاصل کی اور پھر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی چلے آئے اور روزنامہ جنگ کے ادارے سے وابستہ ہوگئے۔

جناب اطہر نفیس نے غزل گوئی کو اپنے اظہار سخن کا ذریعہ بنایا اور اسے ایک اعتبار عطا کیا۔ وہ میر کے مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے غزل کو ایک دھیما اور نرم لہجہ عطا کیا جو ان کی پہچان بن گیا۔
اطہر نفیس کا پہل
ا مجموعہ کلام ’’کلام‘‘ 1975ء میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ ان کا دوسرا مجموعہ کلام ’’ہم صورت گر کچھ خوابوں کے‘‘ ابھی تشنہ طباعت ہے۔

جناب اطہر نفیس سخی حسن، کراچی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY