سترہ اگست 1988ءجنرل ضیاء الحق کا طیارہ بہاولپور میں گر کر تباہ

0
211

جنرل محمد ضیاء الحق (12 اگست 1924ء تا 17 اگست 1988ء) پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ تھے جنہوں نے 1977ء میں اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگایا اور بعد ازاں صدارت کا عہدہ سنبھالا۔ وہ تا دم وفات، سپاہ سالار اور صدرات، دونوں عہدوں پر فائز رہے۔

سابق صدر مملکت و سابق چیف آف آرمی سٹاف۔ 1924ء میں جالندھر میں ایک غریب کسان محمد اکبر کے ہاں پیدا ہوئے۔ جالندھر اور دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ سن 1945ء میں فوج میں کمیشن ملا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برما ، ملایا اور انڈونیشیا میں خدمات انجام دیں۔ پاکستان کی آزادی کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ 1964ء میں لیفٹینٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی اور سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔ 1960ء تا 1968ء ایک کیولر رجمنٹ کی قیادت کی۔ اردن کی شاہی افواج میں خدمات انجام دیں ، مئی 1969ء میں آرمرڈ ڈویژن کا کرنل سٹاف اور پھر بریگیڈیر بنا دیا گیا۔ 1973ء میں میجر جنرل اور اپریل 1975ء میں لیفٹنٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کور کمانڈر بنا دیا گیا۔ یکم مارچ 1976ء کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف مقرر ہوئے۔

پاکستان قومی اتحاد نے 1977 میں انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یوں اس ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے اور 4 جولائی 1977 کی شام مارشل لا کا نفاذ کردیا گیا۔
انہوں نے آئین کو معطل نہیں کیا اور یہ اعلان کیا کہ آپریشن فیئر پلے کا مقصد صرف ملک میں 90 دن کے اندر انتخابات کروانا ہے ۔مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پر ایک شہری کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ ہائیکورٹ نے ان کو سزائے موت سنائی اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی توثیق کر دی۔ یوں 4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔

دسمبر 1984ء کو انہیں نے صدارتی ریفرنڈم کروایا جس میں کامیابی کے بعد انکے منصب صدارت میں توثیق ہوگئی۔

فروری 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرانے کااعلان کیا ۔ پیپلز پارٹی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ۔ محمد خان جونیجو وزیر اعظم بنے ۔ باہمی اعتماد کی بنیاد پر 30 دسمبر 1985ء کو مارشل لا اٹھا لیا گیا اور بے اعتمادی کی بنیاد پر آٹھویں ترمیم کے تحت جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988ء کو محمدخان جونیجو کی حکومت برطرف کر دی۔

سوویت روس کی افغانستان پر جارحیت کا مقصد پاکستان فتح کرکے بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے روس اور بھارت کی جانب سے ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کا احساس کرتے ہوئے اور افغانستان کی آزادی کے لیے کوشاں عوام کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔
بعض حلقوں کی جانب سے جنرل موصوف کو بدنام کرنے کےلیے امریکا کو افغان جہاد کا روح رواں ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن امریکا صرف اپنی مطلب برآری کےلیے افغان جہاد میں شامل ہوا تھا۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو ضیاء الحق صاحب نے دہشت گردی کی فصل بوئی کیونکہ انہوں نے جو مدرسے بنوائے ان میں سے نکلنے والے مجاہد ان کی موت کے 13 سال بعد دہشت گرد بن گئے۔ ۔ساتھ ہی جنرل نے کشمیر میں جدجہد شروع کروایا۔ بھارت سے بنگلہ دیش کا بدلہ لینے کے لیے انہوں نے انڈیا میں سکھوں کی تحریک خالصتان شروع کروائی جو ب پھارت کے پنجاب اور کئی دیگر علاقوں پر مشتمل سکھوں کا ایک الگ ملک بنانے کے لئے تھی ۔ اس کی قیادت اس سکھ جنرل کے ہاتھ میں دی گئی جو بنگلہ دیش کی علیحدگی کے وقت بھارتی مسلح افواج کا کمانڈر تھا۔ اس دوران جنرل پر اسرار موت کا شکار ہو گئے۔بعض اطلاعات کے مطابق اس تحریک خالصتان کو ناکام بنانے میں بے نظیر بھٹو نے اہم کردار ادا کیا تھا

SHARE

LEAVE A REPLY