جوبائیڈن کہتے ہیں کہ امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی صدارتی امیدوار کو76,343,332 ووٹ ملے ہیں۔
امریکی ریاست ڈیلاویئر میں خطاب کرتے ہوئے ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ہم امریکی صدارتی ریس جیت چکے ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ الیکشن ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ جو بائیڈن اور اُن کا حمایتی میڈیا اُنہیں جھوٹ کی بنیاد پر فاتح قرار دے رہا ہے۔
ہفتے کو صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں صدر نے کہا کہ ابھی کسی ریاست نے بائیڈن کی کامیابی کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔ بہت سی ریاستوں میں لازمی دوبارہ گنتی ہو گی جب کہ بعض ریاستوں میں ہم نے قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالت سے رُجوع کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ ہفتے کو خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور امریکہ کے بیشتر نشریاتی اداروں نے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج میں جو بائیڈن کی کامیابی کی خبریں نشر کی تھیں۔
صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ریاست پینسلوینیا میں اُن کی انتخابی مہم کے مبصرین کو ووٹوں کی گنتی کے مشاہدے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اُن کے بقول میڈیا نہیں بلکہ قانون کے مطابق کاسٹ کیے گئے ووٹ ہی فاتح کا تعین کرتے ہیں
صدارتی انتخابات کے بعد امریکا بھر میں احتجاج ہو رہا ہے، شہر فلاڈیلفیا میں ڈیموکریٹس اور رپبلیکنز کارکن آمنے سامنے آ گئے، مظاہرین اپنے اپنے امیدواروں کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کے لیے بہترین صدر ہیں جبکہ بائیڈن کے حامی ہر ووٹ گننے کا نعرہ لگاتے رہے۔ شرکا نے بائیڈن اور ٹرمپ کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
ریاست فلوریڈ ا کے شہر میامی میں ٹرمپ کے حامیوں نے سڑک کنارے مظاہرہ کیا، شرکا نے صدر کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھی۔ صدر ٹرمپ کے سپوٹرز سڑک کنارے کھڑے ہو کر مزید چار سال، مزید چار سال کے نعرے لگاتے رہے۔ سیاسی کارکنوں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ٹھیک کہہ رہے کہ ڈیموکریٹس الیکشن چوری کر رہے ہیں۔
پنسلوینیا، مشی گن اور جارجیا میں امریکی عدالتوں نے ٹرمپ کمپین کی طرف کی ووٹوں کی گنتی رکوانے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ ٹرمپ مہم کی ان شکایات کا جواب دیتے ہوئے جج نے کہا ہے کہ دونوں جماعتوں رپبلکن اور ڈیموکریٹس کو نگرانی کے لیے 60 نمائندے بھیجنے کی اجازت نہیں۔
……………………………
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جو بائیڈن نے جہاں جہاں جیت کا دعویٰ کیا ہے ان تمام ریاستوں میں بائیڈن کی جیت کو چیلنج کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ان تمام ریاستوں میں ووٹرز فراڈ اور اسٹیٹ الیکشن فراڈ کو چیلنج کریں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ بہت سےثبوت ہیں، میڈیا دیکھتے رہیں، ہم جیتیں گے۔دو سری طرف ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے امریکی عوام سے انتخابی مہم کی تلخ یادیں بُھلانے کی اپیل کردی، کہا ہمیں مخالف سوچ رکھنے والوں سے دشمنوں جیسا برتاؤ روکنا ہوگا۔
امریکا کے صدارتی انتخاب کے امید وار جو بائیڈن نے اپنی تقریر میں پاکستانی سیاستدانوں کے لیے سبق چھوڑ دیا۔
جو بائیڈن نے کہا کہ سینیٹر ہیرس اور میں انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹ لینےکی تاریخ رقم کررہے ہیں، جبکہ صدر اور نائب صدر کے لیے سات کروڑ سے زائد ووٹ لینے ہیں، جب الیکشن کا یہ مرحلہ ختم ہوجائے گا تو ہم نے وہ کرنا ہے جو ایک امریکی ہونے کے ناطے ہم نے ہمیشہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے مہم کی تلخ یادوں کو بھلا دیں، ہمیں مخالفین کے ساتھ دشمن جیسا برتاؤ ختم کرنا ہوگا، ہم آپس میں دشمن نہیں ہیں، امریکی ہونے کے ناطے ہمیں جوڑنے والی چیزیں تقسیم کرنے والوں سے زیادہ مضبوط کرنی ہیں۔
جو بائیڈن نے کہا کہ اس لیے میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اور آپ نے ایک ڈیموکریٹ کی حیثیت سے مہم چلائی لیکن میں اپنی ذمہ داریاں امریکی صدر کی حیثیت سے پوری کروں گا۔
امریکا میں 59ویں صدارتی انتخابات کے بعدنتائج آنےکاسلسلہ جاری ہے ،اہم ریاستوں میں سےایک ریاست نیواڈامیں87فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے ۔
ایڈیسن ریسرچ کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوارجوبائیڈن کے49.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگےہیں ، جبکہ ری پبلکن امیدوارٹرمپ 48.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں ۔
ریاست پنسلوانیا میں 92 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے ، جہاں ری پبلکن امیدوار ٹرمپ 50.3 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں ،جبکہ ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کے 48.4 فیصد ووٹ ہیں۔
ایڈیسن ریسرچ کے مطابق ریاست جارجیا میں صدر ٹرمپ اور حریف جوبائیڈن کے درمیان مقابلہ سخت ہوگیا،ریاست جارجیا میں الیکٹورل کالج ووٹ کی تعداد 16 ہے، جبکہ ریاست جارجیا میں 98 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل کرلی گئی ہے ،جہاں ری پبلکن امیدوارٹرمپ 49.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں ، جبکہ ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کے 49.2 فیصد ووٹ ہیں۔
امریکی چینل کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو اب تک 253 الیکٹورل ووٹ حاصل ہیں،صدر ٹرمپ نےمختلف ریاستوں سے اب تک 214 الیکٹورل ووٹ لیےہیں۔
امریکی چینل کا کہنا ہے کہ جارجیا میں جوبائیڈن کی جیت صدارتی انتخاب کی جیت بھی بن جائےگی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی پر تحفظات کا اظہار کرنے والے صدر ٹرمپ کی جماعت نے تین ریاستوں پینسلوینیا، مشی گن اور جارجیا میں عدالت سے رُجوع کر لیا ہے۔
ری پبلکن پارٹی کی انتخابی مہم کا کہنا ہے کہ پینسلوینیا اور نیواڈا میں ری پبلکن جماعت کے نمائندوں کو ووٹوں کی گنتی کے مقام تک رسائی کے لیے بھی عدالت سے رُجوع کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ریاست مشی گن میں دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی سیکریٹری آف اسٹیٹ کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی کے دوران غیر جانب دار مبصرین موجود نہیں تھے۔
ریاست جارجیا کی کیتھم کاؤنٹی میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاست یقینی بنائے کہ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں پر ریاستی قوانین کا اطلاق ہوا ہے یا نہیں۔
ری پبلکن انتخابی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ ریاست جارجیا کی دیگر متعدد کاؤنٹیز میں بھی ایسی ہی قانونی چارہ جوئی کرنے سے متعلق سوچ رہے ہیں۔
ری پبلکن انتخابی مہم کے ڈپٹی منیجر جسٹن کلارک کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ریاست پینسلوینیا میں ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی گنتی کے معاملے پر بھی مداخلت کرے۔
خیال رہے کہ پینسلوینیا میں ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو ڈاک کے ذریعے پوسٹ کیے گئے اور چھ نومبر تک موصول ہونے والے ووٹس کو وہ گنتی میں شمار کریں گے۔
انتخابی مہم کے منیجر بل اسٹیپئن کا کہنا ہے کہ وہ ریاست وسکونسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بھی مطالبہ کریں گے۔ ان کی طرف سے وسکونسن کی متعدد کاؤنٹیز میں بے ضابطگیوں کا بھی الزام لگایا گیا تاہم ان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری طرف صدارتی امیدوار جو بائیڈن کا بدھ کو کہنا تھا کہ تمام ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری رہنا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ “ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہم سے جمہوریت کو دُور لے جائے۔”
ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کے ترجمان اینڈریو بیٹس کا کہنا تھا کہ جو جماعت انتخاب جیتنے کے دعوے کر رہی ہو وہ کبھی عدالت سے رُجوع نہیں کرتی۔
بیٹس کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے صرف ان ریاستوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جہاں وہ ہار چکے ہیں جب کہ وہ اُن ریاستوں میں گنتی رکوانا چاہتے ہیں جہاں سے وہ ہار رہے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکہ میں ہر انتخابات میں بذریعہ ڈاک موصول ہونے والے ووٹوں کی تصدیق میں قدرے زیادہ وقت لگتا ہے۔ تاہم اس سال کرونا وبا اور دیگر وجوہات کی بنا پر ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے پہلے کی نسبت زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی عوام میں انتخابی نتائج جاننے سے متعلق بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔













