سابق وزیر اعظم نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ نیب ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست پر اعتراضات کیخلاف اپیل خارج کرنے کے 16 نومبر کے فیصلے میں سقم ہے، فیصلہ چیلنج ہو تو عدالت میرٹ پر از سر نو سماعت کی پابند ہے، چیمبر میں سماعت نہیں ہوتی، عدالت قرار دے چکی ہے کہ تکنیکی نکات انصاف میں حائل نہیں ہو سکتے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت ناہید بٹ کیس میں نظرثانی درخواست خارج ہونے کے بعد لارجر بینچ کی تشکیل کا حکم دے چکی ہے لہٰذا نواز شریف کی آئینی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات اور اس کیخلاف اپیل خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور درخواست کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے۔












