٭18 ستمبر 1972ء کوشاعر‘ ادیب‘ نقاد اور براڈ کاسٹر جناب مختار صدیقی وفات پا گئے

0
478

وقار زیدی ۔ کراچی

اٹھارہ ستمبر 1966 تا 20 دسمبر 1971
جنرل آغا محمد یحییٰ خان پاکستان کی بری فوج کے پانچویں سربراہ اور تیسرے صدر مملکت تھے۔ صدر ایوب خان نے اپنے دور صدارت میں انہیں 1966ء میں بری فوج کا سربراہ نامزد کیا۔ 1969ء میں ایوب خان کے استعفیٰ کے بعد عہدئہ صدارت بھی سنبھال لیا۔ یحییٰ خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر 1971ء میں ختم ہوئے جس کے بعد انہیں طویل عرصے تک نظر بند بھی رکھا گیا۔
آغا محمد یحییٰ خان 4 فروری 1917ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کے بیٹے علی یحییٰ کے بقول ان کے آبأ و اجداد 200 سال قبل براستہ افغانستان برصغیر میں آئے اور پشاور کو مسکن بنایا۔ یحییٰ خان کے خاندان کا تعلق قزلباش ذات سے ہے۔والد خان بہادر آغا سعادت علی خان انڈین پولیس میں ایک اعلی عہدیدار تھے۔
ابتدائی تعلیم گجرات سے حاصل کرنے کے بعد جامعہ پنجاب سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون چلے گئے۔ 1938ء میں فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران متعدد محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ 1945ء میں اسٹاف کالج کوئٹہ سے کورس مکمل کرکے مختلف سٹاف عہدوں پر متمکن رہے۔ بعد ازاں سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔
قیام پاکستان کے بعد مختلف ڈویژنل ہیڈ کوارٹروں اور جنرل ہیڈ کوارٹر میں اعلی عہدوں پر فائز ہوئے۔ 1962ء میں مشرقی پاکستان کے گیریڑن آفیسر کمانڈنگ مقرر کیے گئے۔ ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں نمایاں خد مات کے صلے میں ہلال جرأت کا اعزاز دیا گیا۔ ستمبر 1966ء میں جنرل محمد موسیٰ خان کے ریٹائر ہونے پر افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف مقرر ہوئے۔
نومبر 1968ء میں مخالف جماعتوں کے متحدہ محاذ نے ملک میں بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی جس نے خوں ریز ہنگاموں کی شکل اختیار کر لی۔ مارچ 1969ء تک حکومت پر ایوب خان کی گرفت بہت کمزور ہو چکی تھی۔ 25 مارچ 1969ء کو ایوب خان نے قوم سے خطاب میں اقتدار سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا جس کے بعد یحییٰ خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے اگلے سال عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ 7 دسمبر 1970ء کو ملک بھر میں قومی اسمبلی اور 17 دسمبر 1970ء کوصوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ جنہیں ملکی و غیر ملکی مبصرین نے پاکستان کی تاریخ میں پہلے آزادانہ و منصفانہ انتخابات قرار دیا۔
انتخابات کے بعد یحییٰ خان نے عوامی لیگ کو اقتدار کی منتقلی میں پس و پیش سے کام لیا تو مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اور بھارت کی فوجی مداخلت کے باعث 16 دسمبر 1971ء کو ملک کا مشرقی حصہ بنگلہ دیش بن گیا۔ جنگ بندی کے بعدپاکستانی افواج کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنا پر ملک بھر میں فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ 20 دسمبر 1971ء کو جنرل یحییٰ نے اقتدار پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا۔ 8 جنوری 1972ء کو انہیں، عوامی غیظ و غضب سے بچانے کے لیے نظر بند کر دیا گیا۔ 1978 ء میں جنرل محمد ضیا الحق نے انہیں رہا کیا لیکن وہ زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکے اور 9 اگست 1980ء کو خالق حقیقی سے جاملے۔ وہ پشاور میں اپنے آ بائی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔
——————————————————————————————

استاد امانت علی خان کی وفات

٭18 ستمبر 1974ء کو پاکستان کے نامور موسیقار اور گلوکار استاد امانت علی خان وفات پاگئے۔
استاد امانت علی خان کا تعلق برصغیر کے مشہور موسیقی دان گھرانے پٹیالہ گھرانے سے تھا۔ وہ جرنیل علی بخش کے پوتے اور استاد اختر حسین خان کے فرزند تھے۔ وہ 1928ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے تھے اور 1948ء میں پاکستان آگئے تھے۔
استاد امانت علی خان‘ بالعموم اپنے چھوٹے بھائی استاد فتح علی خان کے ہمراہ سنگت کرتے تھے وہ کلاسیکی اور ہلکی پھلکی موسیقی دونوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ استاد امانت علی خان کی آواز میں ملائمت تھی جسے فتح علی خان اپنی مرکیوں‘ تان‘ پلٹوں اور پیوندوں سے سجاتے چلے جاتے تھے اور سننے والوں پر سحر طاری کردیتے تھے۔
عموماً کلاسیکی راگ گانے والوں کو غزل اور گیت گانے میں دشواری پیش آتی ہے مگر استاد امانت علی خان اس میں استثنیٰ رکھتے تھے۔وہ جب غزل یا گیت گاتے تھے تو ان کے کمالات مزید کھل کر سامنے آتے تھے۔آتش کی غزل ’’یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے‘‘ ظہیر کاشمیری کی غزل ’’موسم بدلا رت گد رائی اہل جنوں بے باک ہوئے‘‘ سیف الدین سیف کی غزل ’’مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے‘‘ ادا جعفری کی غزل ’’ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے‘‘ ابن انشا کی غزل ’’انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘‘ اور ساقی جاوید کا ملی نغمہ ’’چاند میری زمیں پھول میرا وطن‘‘ ان کے چند ایسے ہی گائے ہوئے فن پارے ہیں جو ان کی یاد ہمیشہ تازہ رکھیں گے۔
استاد امانت علی خان لاہورمیں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودئہ خاک ہیں۔
——————————————————————————————

مختار صدیقی کی وفات

اردو کے نامور شاعر‘ ادیب‘ نقاد اور براڈ کاسٹر جناب مختار صدیقی یکم مارچ 1917ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے تعلیمی زندگی کے مدارج گوجرانوالہ اور لاہور میں طے کیے‘ وہ سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے اور شاعر اور مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت عمدہ براڈ کاسٹرتھے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے اور پھر پاکستان ٹیلی ویژن کے قیام کے بعد ٹیلی ویژن میں بطور اسکرپٹ ایڈیٹر منسلک ہوئے۔
جناب مختار صدیقی کی شاعری کے مجموعے منزل شب‘ سہ حرفی اور آثار کے نام سے شائع ہوئے۔ انہوں نے چینی مفکر ڈاکٹر لن یو تانگ کی دو کتابوں کے ترجمے جینے کی اہمیت اور جینے کا قرینہ کے نام سے کیے جو بہت مقبول ہوئے۔
٭18 ستمبر 1972ء کو اردو کے نامور شاعر‘ ادیب‘ نقاد اور براڈ کاسٹر جناب مختار صدیقی وفات پا گئے اور لاہور میں اچھرہ کے قبرستان میں آسودئہ خاک ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY