ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے عملی اقدامات
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے / شگفتہ بلوچ
رپورٹ : ظفر معین بلے جعفری
وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا
پانی پانی کہتے کہتے ، ڈوب گیا ہے
(آنس معین)
پاکستان کی چالیس فیصد سے زائد آبادی اس وقت تاریخ کے بد ترین سیلاب سے متاثر ہے ۔ بہت سے مقامات پر متاثرین کی ایک بڑی تعداد پانی میں بری طرح گھرے ہوئی ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق بلوچستان ، سندھ ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختون خواہ کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں متاثرین کو مسلسل امداد ، خوراک اور پانی اور سائبان کی فوری طور پر اشد ضرورت ہے۔ مصیبت کی اس گھڑی میں وطن عزیز کے مصائب اور مشکلات میں گھرے عوام کی امداد کے لیے پاکستان کے پہلے منتخب اور ہر دلعزیز پھانسی یافتہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور میر مرتضی بھٹو کے اکلوتے فرزند میر ذوالفقار علی بھٹو جونیئر برسوں بعد اپنے پیارے وطن پاکستان لوٹے ہیں۔
سندھ دھرتی کے عوام تو ایک مدت سے غنوی بھٹو ، ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اور فاطمہ بھٹو کو پکار رہے ہیں کہ
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
اور اب ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کو مصیبت زدگان نے مایوسی میں ایک امید کی کرن جانا اور سمجھا۔ یاد رہے کہ رواں ماہ یعنی ستمبر کی بیس تاریخ کو میر مرتضی بھٹو شہید کی برسی بھی ہے ۔ اور دوسری طرف پاکستان اس وقت تاریخ کے بدترین سیاسی اور معاشی بحراں اور غیر یقینی صورت حال سے گزر رہا ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان کی معروف خاتون صحافی کہ جن کی برسوں روزنامہ جنگ سے بھی وابستگی رہی ہے اور انہیں متعدد بار بہترین کالم/فیچر نگار اور بہترین صحافتی ایوارڈز بھی ملے ہیں ۔ جی ہاں محترمہ شگفتہ بلوچ صاحبہ کہ جن کا نام ہی کافی ہے اور ان کا کام ہی ان کا تعارف ہے ۔
محترمہ شگفتہ بلوچ صاحبہ نے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے پاکستان کے امدادی اور فلاحی دورے پر کے حوالے سے ایک مفصل وڈیو میں بہت سے چونکا دینے والے انکشافات بھی کیے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیے کہ محترمہ شگفتہ بلوچ صاحبہ نے کیا بیان فرمایا












