سندھ پولیس نے ‘غیر قانونی’ دھرنوں، احتجاج اور ریلیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے باعث کراچی میں معمولات زندگی 3 روز تک معطل رہے تھے۔
سینڑل پولیس آفس میں انسپکٹرجنرل پولیس (آئی جی پی) ڈاکٹر سید کلیم امام کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا۔
کورنگی پولیس نے اسی کے تحت ایک فیکٹری کے چوکی دار کی شکایت پر درجن سے زائد مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جو جبری طور پر صنعتی یونٹ کو بند کرنے اور اشتعال پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے توہین رسالت کے مقدمے میں آسیہ بی بی کو بری کرنے کے خلاف کئی مذہبی جماعتوں کی جانب سے منظم دھرنوں کے پس منظر میں اجلاس منعقد کیا گیا تھا، شہر کے کئی علاقوں میں احتجاج سے شہر کے معمولات زندگی متاثر ہوئے تھے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ملک بھر میں دھرنوں کے دوران املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا، وزارت داخلہ نے شرپسندوں کی ابتدائی تصاویر جاری کردیں۔
وزارت داخلہ نے املاک کو نقصان پہنچانے والوں کی ابتدائی تصاویر جاری کر دیں، تصاویراسپیشل برانچ اوردیگرذرائع سےموصول ہوئی ہیںاور کہا گیا ہے کہ املاک کو نقصان پہنچانے والوں کی مزید تصاویر بھی جاری ہوں گی













