کس کی طبیعت خراب ہوئی، کس کو طبی امداد کی ضرورت پڑ گئی؟پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے اجلاس کے دوران ایمبولینس بلڈنگ کے اندر منگوائی گئی تو سوال کرنے والے پریشان اور سیکیورٹی ادارے حیران رہ گئے، جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔

وزیر مملکت مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ ایمبولینس کو جوڈیشل اکیڈی بلا کر خوف پھیلانے کی کوشش کی گئی۔

گرمی کی شدت،پاناما کیس کی حدت میں سب کی نظریں وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی پیشی پرجمی تھیں کہ اسی دوران جوڈیشل اکیڈمی میں دو ایمبولینسز طلب کر لی گئیں، ایک کو اندر بھیجا گیا، دوسری کو کو گیٹ سے ہی واپس بھجوا دیا گیا۔

سوال اٹھا کہ کس کی طبیعت ناساز ہوئی؟ ایسا کیا ضرورت پری کہ ایمبولینس طلب کی گئی؟

پولیس حکام نے بتایا کہ ایمبولینس احتیاطی تدبیر کے طور پر بلائی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ڈسپنسری سمیت کوئی طبی امداد کی سہولت موجود نہیں اس لیے ایمبولینس منگائی گئی ہے۔

سربراہ پمز پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ ایمبولینس معمول کے مطابق جوڈیشل اکیڈمی بھیجی گئی ہے۔

جوڈیشل اکیڈمی انتظامیہ نے کہا کہ سماعت طویل ہے اس لیے جے آئی ٹی سربراہ کے حکم پر ایمبولینس بلائی گئی ہے۔

وزیر مملکت اطلاعات نے بعد میں پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ حسین نواز یا سعید احمد کے لیے ایمبولینس بھیجنے کی خبر سراسر غلط ہے، ایمبولینس کو جوڈیشل اکیڈمی بلا کر خوف پھیلانے کی کوشش کی گئی۔

سوال یہ ہے کہ ایمبولینس کس نے بلائی، کیوں بلائی، کس کے لیے بلائی اور اگر بطور احتیاط بلائی تو پہلے کیوں نہیں بلائی؟

SHARE

LEAVE A REPLY