وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ چین کی 50 ارب ڈالر مالیت کی ایسی مصنوعات پر 25 فی صد ٹیکس لگانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جن میں صنعتی اہمیت کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتي مذاكرات جاری ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو کہا تھا کہ اس نے ٹیکنالوجی کی منتقلی، متاع دانش اور جدت واختراعات کے حوالے سے چین کے طرز عمل کے رد عمل میں محصولات تجویز کیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس محصولات کی زد میں آنے والی اشیاء کی حتمی فہرست کا اعلان 15 جون کو کرے گا جس کے فوراً بعد وہ نافذ ہو جائیں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے یہ اعلان اپنے ایک بیان میں کیا ہے جسے مقامی ٹیکنالوجی اور متاع دانش کو چین کے امتیازی رویے اور دباؤ کے طرز عمل سے تحفظ کا نام دیا گیا ہے۔

اس سلسلے کے دوسرے تعزیری اقدامات میں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سرمایہ کاری پر سخت تر پابندیاں اور چین کے ان شہریوں اور کمپنیوں پر برآمدی کنٹرول میں اضافہ کرنا ہے جن کا تعلق صنعتی اہمیت کی ٹیکنالوجی سے ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق سرمایہ کاری پر مجوزہ پابندیوں اور برآمد کنٹرول کا اعلان 30 جون تک کر دیا جائے گا اور جس کے فوراً بعد وہ نافذ العمل ہوجائیں گی ۔

امریکہ کے وزیر تجارت ولبر روز اس ہفتے بیجنگ جا رہے ہیں جہاں وہ اس بارے میں مذاكرات کریں گے کہ بیجنگ کے ساتھ بڑے پیمانے کا تجارتي خساره گھٹانے کے لیے، جو پچھلے سال 375 ارب ڈالر تھا، چین کس طرح زیادہ امریکی سامان خرید سکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY