امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے دنیا کے 60 سے زیادہ ملکوں کے عوام کے لیے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی 11 کروڑ سے زیادہ خوراکیں بھیج دی ہیں۔
منگل کے روز وائٹ ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں اسے ایک “اہم سنگ میل” قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے، “امریکہ کے پاس دنیا کو دینے کے لیے ویکسین کا ذخیرہ موجود ہے اور وہ بیرون ملک کرونا وائرس کے خلاف اسی مقصد کے تحت لڑ رہا ہے جیسے کہ وہ ملک کے اندر یہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔”
امریکہ ویکسین عطیہ کرنے والا عالمی لیڈر بن گیا
اس سے قبل صدر جو بائیڈن نےجون کے اختتام تک دنیا بھر کے ملکوں کو عالمی وبا سے بچاؤ کی ویکسین کی کم از کم 8 کروڑ خوراکیں عطیہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ منگل کے اس اعلان سے یہ وعدہ پورا ہو گیا ہے اور، “کووڈ-19 کی ویکسین عطیہ کرنے والے ایک عالمی لیڈر کے طور پر امریکہ کی حیثیت مسلم ہو گئی ہے۔”
……………………..
امریکہ کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ کرونا کے تیزی سے پھیلنے والے ڈیلٹا ویریئنٹ کے خدشے کے پیشِ نظر ملک میں آئندہ ہفتوں میں یومیہ کیسز دو لاکھ تک پہنچ سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈاکٹر فاؤچی نے امریکی نیوز ایجنسی ’میکلاچی واشنگٹن بیورو‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت زیادہ شدید ہے اور ہم اس وجہ سے واقعی پریشانی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ جو یہ سوچ رہے ہیں کہ کرونا ویکسین صرف ان کے لیے ہے تو ایسا نہیں ہے۔ یہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔
امریکہ میں یبماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے ادارے سی ڈی سی کے مطابق امریکہ میں رپورٹ ہونے والے مجموعی کیسز میں سے 83 فی صد کیسز ڈیلٹا ویریئنٹ کے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی کرونا رسپانس ٹیم کے مطابق ویکسین نہ لگوانے والے شہری کرونا کے 97 فی صد تشویش ناک کیسز کی نمائندگی کرتے ہیں۔













