ڈونلڈ ٹرمپ ,اگر “کچھ ہوتا ہے”، تو اس کا الزام جج پر ہو گا

0
226

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر “کچھ ہوتا ہے”، تو اس کا الزام جج پر ہو گا جنہوں نے سات مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والوں پر ان کی عائد کردہ پابندی کا راستہ روکا۔

اتوار کو صدر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے یقین ہی نہیں آ رہا ہے کہ ایک جج ہمارے ملک کو ایسے خطرے میں ڈالے گا۔”

گزشتہ ہفتے ریاست واشنگٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج جیمز رابرٹ نے ٹرمپ کے اس صدارتی حکم نامے پر عملدرآمد روکنے کا حکم دیا تھا جس کے تحت پناہ گزینوں اور ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن سے آنے والے پر امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کی گئی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف محکمہ انصاف کی دائر کردہ درخواست کو اتوار کو کورٹ آف اپیلز نے مسترد کر دیا تھا۔

اتوار کو کی گئی ٹوئٹس میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھوں نے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو حکم دیا ہے کہ وہ امریکہ میں داخل ہونے والے لوگوں کی “بہت احتیاط” کے ساتھ جانچ کریں۔ ان کے بقول عدالتوں نے “ہمارا کام بہت مشکل بنا دیا ہے۔”

صدر نے جج رابرٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ “جج نے ممکنہ دہشت گردوں اور دیگر ایسے افراد جن کے دل میں ہمارے بہترین مفادات کا احترام نہیں، کے لیے ہمارے ملک کو کھول دیا ہے۔ برے لوگ بہت خوش ہیں۔”

سان فرانسسکو کی اپیلز کورٹ نے وفاقی حکام اور ریاستوں کو اس ضمن میں مزید دلائل پیر کی دوپہر تک جمع کروانے کا کہا تھا کہ آیا سفری پابندی کو غیر آئینی قرار دیا جائے یا اسے بحال کر دیا جائے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ تک جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY