سینٹرل پروڈکشن یونٹ کے انچارج ڈپٹی کنٹرولر سید شہوار حیدر کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں ریڈیو پاکستان لاہور کے نورجہاں آڈیٹوریم میں خصوصی تعزیتی ریفرنس ’’بیادِ شہوار حیدر‘‘ منعقد ہوا۔ تعزیتی ریفرنس میں شرکت کے لیے ڈائریکٹر جنرل شفقت جلیل خصوصی طور پر اسلام آباد سے تشریف لائے جبکہ ملتان سے ڈپٹی کنٹرولر آصف خان کھیتران‘ میرپور کے اسٹیشن ڈائریکٹر محمد شکیل ‘ اسٹیشن ڈائریکٹر ناروال حسن فاروقی ‘ اسٹیشن ڈائریکٹر سیالکوٹ احمد رضا چیمہ ‘ سینئر پروڈیوسر اکمل شہزاد گھمن اسلام آباد سے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر آئے ۔ سید شہوار حیدر کے اس تعزیتی ریفرنس میں ڈپٹی کنٹرولر انیلا سلیم (پروگرامز)‘ ڈپٹی کنٹرولر ایف ایم چورانوےجاوید اختر کے علاوہ ان کے بھائی سید علی اصغر ‘ سید شہسوار حیدر کی بیٹیاں ‘ انعم ‘ڈاکٹرسنبل اور بیٹا محمد معیز حیدر بھی موجود تھے جبکہ دیگر شرکاء میں اداکار راشد محمود ‘ گلوکار انور رفیع ‘آصف جاوید ‘ امجد پرویز ‘ گلوکارہ حنانصر اللہ‘ صائمہ ممتاز ‘ معروف شاعر اعجاز فیروز اورتو قیر شریفی کے علاوہ ان کے دیرینہ دوست، پروڈیوسرز اور دیگر عملے کی بڑی تعداد شامل تھی ۔

shahwar ref1
تعزیتی ریفرنس کی نظامت کے فرائض سینئر پروڈیوسر زبیر بشیر نے انجام دئیے۔ اس موقع پر اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان لاہور نزاکت شکیلہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہوار حیدر بلا شبہ ایک بہترین پروڈیوسرتھے ، وہ اپنے کام پر بھرپور دسترس رکھتے تھے۔ اور اس سے بڑھ کران کی خوبی اور خصوصیت میرے نزدیک یہ ہے کہ اسکی زندگی میں بھی اور اسکی وفات کے بعد بھی میں جس کسی سے ملی ہوں اس نے یہی کہا کہ شہوار مجھ کو ہی سب سے زیادہ پیار کرتے تھے۔

shahwar ref3

میں حیران ہو ں کہ مفادپرستی اور دوست کُشی کے اس عہد میں اللہ پاک نے اپنے ایسے بندے بھی ہمارے درمیان رکھے ہیں جو صرف محبت تقسیم کرتے ہیں اور خلق خدا کو اپنے جیسا سمجھتے اور ہر کس وناکس کی مدد دستگیری اور احوال پر سی کو تیار رہتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ کا کہنا تھا کہ میری آنکھوں میں شہوار حیدر کا مسکراتا ہوا چہرہ اسوقت بھی موجود ہے۔ اگر اسکی شخصیت اور نجی وعلمی زندگی کا احاطہ ایک فقرے میں کرنا چاہوں تو کہوں گی کہ شہوار حیدر باادب، تہذیب کا حامل، نرم دل، ہر وقت مسکرانے والا، عزت کرنے والا، دُکھ درد میں شریک ہونے والا، محبت کرنے والا، محبت تقسیم کرنے والا اور ایک پروفیشنل شخص تھا اس نے پروڈیوسر سے ڈپٹی کنٹرولر تک کا سفر پوری ایمانداری اورکمٹمنٹ سے گزارا۔

shahwar ref4shahwar ref5

تقریب کے اختتام پر اپنے خطاب میں ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان خواجہ شفقت جلیل کا کہنا تھا کہ ریڈیوپاکستان ایک ایسا ادارہ ہے جس سے لوگ آج بھی محبت رکھتے ہیں ۔ لوگ اس سے توقع رکھتے ہیں کہ اس کی حیثیت کو بحال کیا جائے ۔سید شہوار حیدر کی آج بہت ضرورت تھی جو ریڈیو کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا تھا۔یہ ایک خاندان کا نقصان تو ہے ہی مگر ریڈیوپاکستان کا بھی گرانقدر اثاثہ چلا گیا ۔

shahwar ref2

ایف ایم ۱۰۱سیالکوٹ کے اسٹیشن ڈائریکٹر احمد رضاس چیمہ نے مرحوم سید شہوارحیدرکو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سید شہوارحیدرایف ایم 101سیالکوٹ کے پہلے اسٹیشن ڈائریکٹر تھے۔ایف ایم ۱۰۱سیالکوٹ کے درودیوار میں ابھی بھی ان کی مہک ویسے ہی موجود ہے وہاں کے ڈی جیزکی ایسی تربیت کی کہ وہ آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں۔
ناروال کے اسٹیشن ڈائریکٹر حسن فاروقی نے شہوار حیدر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ دل کو یقین نہیں آتا کہ آج سید شہوار حیدر ہمارے ساتھ نہیں ہیں ۔ 30سال پرانا ساتھ تھا مگرکل کی بات ہی لگتی ہے۔ وہ انتہائی مخلص دوست تھا جس کی کمی پوری نہیں ہو گی ۔
سنٹرل پروڈکشن یونٹ کے پروگرام منیجر شاہد امین نے سید شہوار حیدر مرحوم کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہاکہ آج بہت بوجھل دل کے ساتھ یہاں موجود ہیں ۔ ہمارا محبت کرنے والا نیک سیرت انسان ہم سے جدا ہو گیا ۔ وہ سب میں آسانیاں تقسیم کرنے والا شخص تھا اللہ اس کی اگلی منزلیں آسان کرے۔

shahwar ref6

ایف ایم ۱۰۱لاہور کے انچارج پروگرام منیجر مصطفی کمال نے سید شہوار حیدر کے لیے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا وہ بہترین پروڈیوسر اور بہترین انسان تھے ۔ موسیقی کے اسرار رموز سے مکمل آگاہی رکھتے تھے۔وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گے ۔ سینئر صحافی تنویر شہزاد نے سید شہوار حیدر کے لیے کہا کہ وہ ایک بہت ہی پیارے دوست تھے ۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمارا بڑا سہارا چھن گیا ہو ہم سے۔گلوکار انوررفیع نے اس موقع پر کہا کہ سید شہوار حیدر واقعی نایاب انسان تھے جس کا نعمل البدل نہیں مل سکتا ۔ وہ بنا بتائے چپ چاپ لوگوں کی ہر طرح مدد کرتے تھے اور بنا بتائے ہی چلے گئے۔
معروف شاعر اعجاز فیروز نے کہا سید شہوار حیدر کی موسیقی کے حوالے سے خدمات فراموش نہیں کی جاسکتی ۔ انتظامیہ سے گذارش ہے کہ ریڈیو کے یاد باغ میں ان کے نام سے درخت لگا دیں تاکہ ان کی یاد ہمیشہ رہے ۔
گلوکارہ صائمہ ممتاز نے کہا کہ سید شہوار حیدر نے مجھے متعارف کروایاس میں ان کا احسان اور ان کی شفقت کو کبھی نہیں بھول سکتی ۔
گلوکار آصف جاوید نے کہا کہ سید شہوار حیدر میرے بہترین دوست اور چھوٹے بھائیوں کی طرح تھے میں انکو کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔
اداکار راشد محمود نے کہا کہ سید شہوار حیدر کے ساتھ طویل عرصہ دوستی رہی وہ ایک بہترین انسان اور ذمہ دار آفیسر تھے۔
گلوکار امجد پرویز نے کہا کہ میری سید شہوار حیدر کے ساتھ طویل رفاقت تھی اور اس کے جانے کے بعد بھی رہے گی ۔ وہ ریڈیو کے لیے بنا تھا اور آخری دن بھی اس نے ریڈیو پر بھرپور انداز میں گزارہ ۔ سی پی یوکا کوئی اسٹوڈیو ان کے نام سے موسوم کر دیا جائے۔
نشریاتی دنیا میں سیدشہوار حیدرکے پہلے استاد محترم صفدر ہمدانی نے انگلینڈ سے ٹیلی فون پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریڈیو کا اثاثہ تھے اور فرما بردار شاگرد تھے۔اسے جانے کی جلدی تھی اس لیے جلدی جلدی سب کام نمٹا پر چلا گیا ۔
کوئی جاتا ہے یوں شہوار حیدر
یہ دل روتا ہے خوں شہوار حیدر
جوانی میں ہی تم کو موت آئی
سدھارے جلد کیوں شہوار حیدر
سید شہوار حیدر نے تمام عمر اپنے پیشے کے ساتھ وفا کی اور اپنی تمامتر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ریڈیو پاکستان اور اس کے پروگراموں کی بہتری کیلئے ہر ممکن جد و جہد کرتے رہے، وہ یقیناً ریڈیو پاکستان کیلئے گرانقدر سرمایہ تھے ہمیں ان پر فخر ہے ۔ اللہ پاک ان کے درجات بلند کر کے جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔
تقریب کے اختتام پر پروگرام منیجر حافظ حفظ الرحمن نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعا کروائی ۔

کاشف غوری

ریڈیو لاہور

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY