سعودیہ میں انسانوں اور روبوٹس کا نیا شہربسایا جائے گا

0
136

سعودی عرب میں پانچ سوارب ڈالرزکی لاگت سے ایک نیا شہرآباد ہونے جارہا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شہرمیں عام آدمی کے ساتھ ساتھ روبوٹس بھی گھومتے پھرتے نظرآئیں گے اورروبوٹس کی تعداد انسانوں سے زیادہ ہوگی۔
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاض میں ہونے والی ’فیوچرانوسٹمنٹ انیشی ایٹیو کانفرنس‘ یعنی ایف آئی آئی سی میں نئے شہرکے منصوبے ’نیوم‘ کے بارے میں بتایا کہ ملک کے شمال مغربی علاقے میں یہ نیا شہرآباد کیا جائے گا جس کی سرحدیں مصراوراردن سے ملیں گی، ’نیوم‘ میں شمسی توانائی کے ساتھ ساتھ پن چکی سے پیدا ہونے والی بجلی بھی استعمال میں لائی جائے گی۔
نئے شہرکا صنعتی علاقہ 26ہزار 4سو اسکوائر کلومیڑ پر محیط ہوگا جو جدّت، سعودی روایات اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج ہوگا۔

سعودی ولی عہد کا کہنا ہے کہ ہم بنیاد سے نیا شہر تعمیر کریں گے جوڈرون فرینڈلی شہر اور روبوٹس کے ذریعے ترقی کا مرکز ہوگا، ہم کچھ مختلف، کچھ الگ کرنا چاہتے ہیں، نیوم ایسے خواب دیکھنے والوں کی جگہ ہے جو دنیا میں کچھ نیا تخلیق کرنا چاہتے ہیں،کچھ غیرمعمولی کرنا چاہتے ہیں۔
سعودی اخبار ’عرب نیوز‘ کے مطابق جاپان کے سوفٹ بینک کے چیئرمین ماسا یوشی سن کا کہنا ہے کہ نئے سعودی شہر ’نیوم‘ میں انسانوں سے زیادہ روبوٹس دکھائی دیں گے، ان کا بینک سعودی عرب میں گرین انرجی کے فروغ کے منصوبے کے لیے سعودی الیکٹرک میں بھی سرمایہ کاری کرے گا۔

بوسٹن ڈائنامکس کے سی ای اومارک ریبرٹ نے بتایا کہ نئے شہرمیں روبوٹس بہت سے فرائض انجام دیں گے، مثلاً سیکیورٹی، لاجسٹکس، ہوم ڈلیوری اور سب سے بڑھ کر بزرگ اورکمزور افراد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری۔
یہ تمام منصوبے سعودی ولی عہد شاہ سلمان کے ملک کی معیشت کو بحال کرنے اور تیل پر انحصار کم کرنے کے ویژن کا حصہ ہیں۔
نیوم پروجیکٹ میں توانائی، پانی، بائیو ٹیک اور روبوٹکس سمیت 9مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY