بھارت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا، برطانیہ کو پیچھے چھوڑ دیا

0
718

بھارت کی معیشت عالمی وبا کے باوجود ترقی کر رہی ہے، جس نے برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔

ایک دہائی قبل بھارت کی معیشت گیارہویں نمبر پر تھی جب کہ برطانیہ پانچویں نمبر پر تھا۔

دنیا کی معیشت پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ‘بلومبرگ’ نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعداد و شمار کے تجزیے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔

بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ متعلقہ سہ ماہی کے آخری دن تخمینوں کی بنیاد اور ڈالر کی شرح مبادلہ کا استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا گیا ہے کہ مارچ کی سہ ماہی میں بھارتی معیشت کا حجم 854.7 ارب ڈالر تھا جب کہ برطانوی معیشت کا حجم 816 ارب ڈالر رہا۔

بلومبرگ کا مزید کہنا ہے کہ بھارت کی معیشت کے تیزی سے فروغ کو دیکھتے ہوئے خیال کیا جاتا ہے کہ آئندہ کچھ برس میں بھارتی اور برطانوی معیشت کے درمیان کا فرق کافی وسیع ہو جائے گا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ بھارت کی معیشت کا فروغ رواں سال میں سات فی صد ہو جائے گا۔ مارکیٹ کے اشارے بتاتے ہیں کہ مورگن اسٹینلے کیپٹل انٹرنیشنل (ای ایس سی آئی) کی ابھرتی ہوئی مارکیٹس کے انڈیکس میں بھارتی معیشت چین کے بعد دوسرے نمبر پر آگئی ہے۔

آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں بتاتی ہیں کہ بھارت 2022 میں سالانہ بنیادوں پر ڈالر کے لحاظ سے برطانیہ کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بھارت صرف امریکہ، چین، جاپان اور جرمنی سے پیچھے رہ جائے گا۔

رینکنگ میں یہ تبدیلی ایسے وقت آئی ہے جب برطانیہ نیا وزیرِ اعظم منتخب کرنے جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ لز ٹراس نے بھارتی نژاد امیدوار رشی سُنک کو وزیرِ اعظم کے عہدے کی دوڑمیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ رینکنگ میں برطانیہ کے پیچھے رہنے کی بڑی وجہ مہنگائی اور زندگی گزارنے کے لیے درکار سہولیات کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے گزشتہ ماہ 1982 کے بعد پہلی بار اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں دوہرے ہندسے میں افراطِ زر یعنی 10.1 فی صد کی مہنگائی دیکھی تھی۔

بھارتی معیشت کے فروغ کی اس خبر سے مارکیٹ میں تیزی آئی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY