کون کہتا ہے ملک نے ترقی نہیں کی؟ ڈاکٹر نگہت نسیم

0
1005

کبھی سوچیں کہ ہم کسی حال میں بھی خوش نہیں رہتے اور اکثریت کو یہ شکوہ رہتا ہے کہ مہنگائی شدید ہے ، بجلی کے بلوں نے جان نکال لی ہے۔ پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، اشیائے خوردونوش جیسے صرف دیکھنے کے لیئے ہیں متوسط درجے کے لوگوں کی خرید سے بھی باہرہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ ویسے زور ہے وغیرہ وغیرہ پر

آپ لوگ کسی سے بھی تو خوش نہیں ہوتے،زرداری سے ناراض،نواز شریف کو بُرا بھلا اور اب بیچارہ عمران چوبیس گھنٹے آپ کے نشانے پر رہتا ہے۔ اچھا سلیکٹڈ ہے تو کیا ہوا کوئی آسمان تو نہیں گر پڑا۔ سلیکٹ کرنے والے بھی تو ملک کے ہی ہیں کوئی بھارت کے تو نہیں،اگر عمران الیکٹڈ بھی ہوتا تو یہی کر رہا ہوتا نا

اب اسلام آباد میں لنگر خانے کا افتتاح کیا ہے تو سوشل میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے کہ بھوکے اور مجبور لوگوں کے ساتھ تصویر کیوں بنائی۔ حد ہے بھئی کیا ان لوگوں کو ملک کے وزیر اعظم کے ساتھ تصویر بنانے کا حق نہیں؟ سچ کہا عمران نے کہ لوگ بے صبرے ہیں تیرہ ماہ میں ہی احتساب شروع کر دیا ہے اور پوچھتے ہیں کہ مدینے کی ریاست ابھی تک کیوں نہیں بنی۔ ان کو کیسے بتایا جائے کہ مدینے کی اصل ریاست بھی کوئی سال دو سال میں نہیں بنی تھی

ہم سنگل ٹریک لوگ ہیں بس جس بات کے پیچھے لگ گئے سوئی اسی پر اٹک گئی، یار اخبار دیکھو،ٹی وی کی خبروں میں رپورٹیں دیکھو تم سب کو یقین ہو جائے گا کہ ملک میں سکون ہے

اب اگر مطالعے کا شوق ہوتا اور حالات حاضرہ یعنی حالات حاجرہ سے واقفیت ہوتی تو یہ علم ہوتا کہ ملک میں کیسی کیس ترقی ہوئی ہے۔ وہ جو کچھ آپ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں دیکھتے ہیں وہ سب اب وطن میں موجود ہے۔ کسی شعبے میں سہی کمال کی ترقی ہوئی تو ہے نا۔ لیکن آپکو تو صرف شکایت کرنا آتی ہے

ملک کا ایک اہم ٹی وی نیٹ ورک ہے جو شاید سب سے زیادہ ایوارڈ کی تقریبات کرچکا ہے اسکی تازہ ترین تقریب میں
خواتین اداکاروں نے زیادہ تر جو لباس پہنے ہیں انکے سامنے بھارت اور یورپ کی خاتون اداکارائیں پانی بھرتی نظر آتی ہیں۔ میں نے اپنی اس تحریر میں اس تقریب کی ایک ترقی یافتہ تصویر بھی شامل کی ہے

ایک دوست کو اعتراض ہے کہ مدینے کی ریاست بنانے کی دعویدار حکومت کو یہ سب نظر نہیں آتا؟ یہ تو فحاشی ہے بداخلاقی ہے

میں نے کہا کہ اول تو ابھی مدینے کی ریاست کی بنیاد ہی نہیں رکھی گئی اور دوسرے یہ کہ جہاں اصل شہر مدینہ ہے یعنی سعودیہ وہاں بھی اب جدید ترین دنیا پیدا ہو چکی ہےسینما کھل چکے ہیں، شراب بھی ملتی ہے،جوا خانے کا بھی افتتاح ہوا ہے، فیشن شو میں ایسی تصویر سے بہت جدید ترین لباس پہنے گئے ہیں، اب ہوٹل کے کمرے میں انجانے عورت مرد کو رہنے کی بھی اجازت ہے۔اگر سعودی عرب اتنی ترقی کر سکتا ہے تو ہم کیوں دقیانوسی رہنا چاہتے ہیں؟

سوچیں تو سہی کون سی آفت آ گئی ہے،تصویر تو سب دیکھ رہے ہیں اور دیکھنا بھی چاہتے ہیں لیکن اعتراض ضرور کریں گے

شکر کریں ہم نے کسی شعبے میں ایسی کمال ترقی کی ہے۔ جشن منائیں، خوش ہو جائیں

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY