ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت کے لیے عمان پہنچ گئے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈمذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی۔
اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر رابطے کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، اقدام کا مقصدکسی بھی قسم کے تصادم یا کشیدگی سے بچناہے۔
ایرانی مذاکرات کار نے کہا کہ سوئٹزر لینڈ مذاکرات کی بنیاد پر لبنان کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کی ضمانت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران اپنے طریقہ کار کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے سے تعاون جاری رکھے گا، فیصلے مشاورتی اسمبلی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق ہوں گے۔
اس سے قبل سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکا مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا بتایا تھا کہ ایران کے لیے تیل اور پیٹروکیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے اور کچھ منجمد اثاثے جاری کر دیے گئے ہیں۔













