اسرائیل کی ایک مقامی عدالت نے فلسطینی شاعرہ اور ادیبہ دارین طاطور پر ’دہشت گرد‘ گروپوں کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف نفرت پر اکسانے کا الزام عاید کیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ طاطور اپنی شاعری کے ذریعے سوشل میڈیا پر فلسطینی نوجوانوں کو اسرائیل کے خلاف اکسا رہی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی عدالت کی طرف سے یہ الزام طاطور کے اکتوبر 2015ء کو شوشل میڈیا پر پوسٹ منظوم کلام کی بنیاد پر عایدکیا گیا۔ اس میں انہیں ایک ویڈٰیو فوٹیج میں’قاوم یا شعبی قاوم‘[میری قوم مزاحمت جاری رکھیے‘ کے الفاظ استعمال کیےگئے ہیں۔ اس نظم کے ساتھ فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں۔

فلسطینی شاعرہ کو اسرائیلی پولیس نے 11 اکتوبر 2015ء کو شمالی فلسطین الناصرہ شہر کے رینیہ علاقے سے گرفتار کیا تھا۔ نومبر میں ان پر اسرائیل کے خلاف تشدد پر اکسانے اور ایک دہشت گرد گروپ کی حمایت کرنے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ ان کے خلاف جاری مقدمہ کی سماعت 31 مئی تک ملتوی کردی گئی ہے۔ آئندہ کی تاریخ میں عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین

SHARE

LEAVE A REPLY