خواجہ ناظم الدین کی وفات۔22 / اکتوبر 1964ء کو حرکت قلب بند

0
447

قرآن مجید کا سب سے چھوٹا نسخہ
* 22 اکتوبر 2004ء کو گنیز بک آف ریکارڈز کے منتظمین نے اعلان کیا کہ انہوں نے جدہ میں مقیم ایک پاکستانی ڈاکٹر ، ڈاکٹر محمد سعید فضل کریم بیبانی کا یہ دعویٰ تسلیم کرلیا ہے کہ وہ دنیا میں قرآن مجید کے سب سے چھوٹے نسخے کے مالک ہیں۔
ڈاکٹر محمد سعید فضل کریم بیبانی قرآن پاک کے جس نسخے کے مالک ہیں وہ 1.70 سینٹی میٹر لمبا، 1.28 سینٹی میٹر چوڑا اور 0.72 سینٹی میٹر موٹا ہے۔ قرآن مجید کا یہ نسخہ 1292ھ (1875ء) میں شائع ہوا تھا۔ یہ مغربی خط میں تحریر کیا گیا ہے جو مراکش اور تیونس میں رائج ہے۔ قرآن مجید کا یہ نسخہ علی عثمان نے تحریر کیا تھا اور اسے قاہرہ (مصر) سے شائع کیا گیا تھا۔ اس نسخے میں 571 صفحات ہیں جنہیں محدب عدسے کی مدد سے پڑھا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر محمد سعید فضل کریم بیبانی 1962ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ لارنس کالج مری اور کیڈٹ کالج حسن ابدال کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور انہوں نے ایک غیر منقوط نعتیہ مجموعہ ممدوح کردگار کے نام سے تحریر کیا ہے۔
——————————————————————————————

خواجہ ناظم الدین کی وفات۔22 / اکتوبر 1964ء کو حرکت قلب بند
* 19 / جولائی 1894ء پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل اور دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی تاریخ پیدائش ہے۔
خواجہ ناظم الدین جدوجہد آزادی کے ممتاز رہنما اور قائد اعظم محمد علی جناح کے بااعتماد ساتھی تھے۔ وہ ڈھاکا میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نواب سلیم اللہ کے بھانجے تھے جو آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔ خواجہ ناظم الدین نے مسلم یونیورسٹی‘ علی گڑھ اور کیمبرج یونیورسٹی‘ برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر سیاسی میدان میں داخل ہوئے۔ وہ ڈھاکا میونسپل کمیٹی کے چیئرمین‘ مجلس دستور ساز بنگال کے رکن اور متحدہ بنگال کے وزیر تعلیم‘ وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کے مناصب پر فائز رہے۔ 1937ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور پھر تاعمر اسی جماعت سے منسلک رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ مشرقی پاکستان کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ 1948ء میں قائد اعظم کی وفات کے بعد انہیں پاکستان کا گورنر جنرل منتخب کیا گیا 1951ء میں جب لیاقت علی خان شہید ہوئے تو وہ پاکستان کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔
* 1953ء میں گورنر جنرل غلام محمد نے انہیں غیر آئینی طور پر برطرف کردیا جس کے بعد وہ دلبرداشتہ ہوکر سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔ 1963ء میں ایک مرتبہ پھر سیاست کے میدان میں متحرک ہوئے۔ 1965ء کے صدارتی انتخابات کے لیے وہ بھی ایک ممکنہ امیدوار تھے مگر خود انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو امیدوار بنائے جانے کے لیے کوشش کی اور کامیاب رہے۔ ابھی یہ صدارتی مہم جاری تھی کہ 22 / اکتوبر 1964ء کو حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔
———————————————————————————————

خان عبدالقیوم خان کی وفات

*22 اکتوبر 1981ء کو پاکستان کے نامور سیاستدان خان عبدالقیوم خان اسلام آباد میں وفات پاگئے اور حسن گڑھی ضلع پشاور میں آسودۂ خاک ہوئے۔
خان عبدالقیوم خان 16 / جولائی 1901ء کو چترال میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ پشاور، علی گڑھ، اور لندن کے فارغ التحصیل تھے۔ 1937ء میں کانگریس کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی اور پارلیمانی زندگی کا آغاز کیا تاہم قیام پاکستان سے قبل آل انڈیا مسلم لیگ سے وابستہ ہوگئے اور پھر تمام عمر نہ صرف اسی جماعت کے دامن سے وابستہ رہے بلکہ اس کی قیادت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔
خان عبدالقیوم خان، سرحد کے وزیراعلیٰ، وفاقی وزیر خوراک و زراعت، وفاقی وزیر صنعت اور وفاقی وزیر داخلہ کے مناصب پر فائز رہے تھے۔ 1977ء کے عام انتخابات میں شکست کے بعد وہ سیاست سے کنارہ کش ہوگئے اور اسی گوشہ گیری کے عالم میں دنیا سے رخصت ہوئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY