نوچ کر لے گیا جسکو جتنی ضرورت تھی ۔ محمد عرفان فانی

1
634

نوچ کر لے گیا جسکو جتنی ضرورت تھی
میں سبکو عزیز تھا مگر ضرورتوں کیلیئے
ہمارے وسائل سے دلی ،اسلام آباد اور بیجینگ کے اندھیرے دور ہوتے رھے اور ہم خود روشنی کو ترستے رہے ۔
واضع ھو کہ کشمیر اسوقت 3 ایٹمی طاقتوں چین بھارت اور پاکستان کے درمیان آباد ایک ایسا خطہ ہے جسکا تھوڑا تھوڑا حصہ تینوں ایٹمی طاقتوں کے پاس ہے

نیلم جھلم ڈیم ھو یا گلپور ڈیم ھولاڑ ڈیم ھو یا منگلا ڈیم یا پھر مقبوضہ کشمیر میں واقع بھگھار ڈیم یا چین کے کسی ڈیم کو ہی لے لیجیئے جو کشمیر سے نکلنے والے پانی سے بنایا گیا ھو المختصر ان تینوں ملکوں نے کشمیر سے نکلنے والے دریاوں پر ڈیم بنا رکھے ہیں اور بجلی حاصل کر کے اپنی معشیت کی گاڑی رفتہ رفتہ ترقی کی منازل طہ کرتے جا رہے ہیں
:
جبکہ دوسری طرف کشمیر بے چارہ جسکے وسائل کو آئے روز نوچا جا رہا ہے اس میں صنعت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے کشمیر کے تقریبنا 20 فیصد لوگ آج بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔ کشمیر کے ڈیموں سے حاصل ھونے والی بجلی پہلے پاکستان جاتی ہے پھر کشمیریوں کو تھوڑی بہت ملتی ہے۔اسیطرح مقبوضہ کشمیر کے بھگھار ڈیم کی بجلی پہلے انڈیا میں جاتی ہے۔ پھر بچی کھچی بجلی کشمیریوں کو دی جاتی ہے۔یہ بات بھی واضع رہے کشمیر میں جو نیلم اور جھلم کے نام سے ڈیم بنائے جا رہے ہیں اس ڈیم کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے آزاد کشمیر کی عوام سے پچھلے دس سال سے ہر مہینے بجلی کے آنے والے بل کے ساتھ ٹیکس لیا جا رہا ہے۔ ہمارا پیسہ ہمارا پانی ہماری محنت پھر بھی ہمارے لوک بجلی سے محروم___یقین نہ آئے تو پہاڑ پر لگے کھمبے پاکستان کی جاتے ھوئے دیکھ سکتے ہیں۔۔۔
ایک اور بات واضع کرتا چلو آزاد کشمیر سے 2400 میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کی جا رہی یے اور پورے آزاد کشمیر کی ضرورت 375 میگاواٹ ہے اس کے باوجود آزاد کشمیر کے بعض علاقے بجلی سے محروم ہیں اور جن علاقوں میں بجلی ہے وہاں کم ولٹیج اور شاٹ فال کا سامنا ہے۔۔۔
آزاد کشمیر کی کسی بھی سیاسی جماعت میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے اپنا حق لے سکیں. مظفرآباد پارلیمنٹ ہاوس میں ایک دو جماعتوں کو چھوڑ کر کشمیر کی سب سیاسی جماعتیں کٹھ پتلیاں ہیں انکو کٹھ پتلی کی طرح نچایا جا رہا ہے اور کشمیر کے قدرتئ وسائل کو پاکستان کی سیاسی جماعتیں نوچ نوچ کے کھا رہی ہیں پھر طعنہ کشمیریوں کو دیا جاتا ہے کہ پاکستان کا کھاتے ھو پاکستان سے غداری کرتے ھو پانی تک کشمیریوں سے چھین کے لے کر جایا جا رہا ہے کشمیریوں کے منہ سے نوالہ لیکر اپنے منہ میں ڈالا جا رہا ہے ایمان سے فیصلہ کراو اپنے ضمیروں سے کون کس کا کھاتا ہے اور کون غدار ہے ھم صرف اپنا حق مانگتے ہیں ہمیں ہمارا حق دو کب تک اسیطرح پاک اور بھارت کشمیریوں کا خون چوستے رہیں گے کب تک.؟؟؟

محمد عرفان فانی۔ آزاد کشمیر

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY