ایسٹر کو عیسائیوں کا دوسرے سب سے بڑے تہوار کی حیثیت حاصل ہے جوکہ ان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پھر سے جی اٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مدتوں اس کی تاریخ میں اختلاف رہا۔
سنہ 325ء میں رومی بادشاہ، قسطنطین اول نے ایشیائے کوچک (ترکی) کے مقام پرازنک میں عیسائی علما کی ایک کونسل بلائی جسے نائسیا کی پہلی کونسل کہتے ہیں۔ لیکن یہ کونسل بھی ، مشرقی اور مغربی کیلنڈوں میں اختلاف کے باعث کوئی متفقہ تاریخ مقرر نہ کرسکی۔
آرتھوڈاکس ایسٹرن چرچ ایسٹرکی تاریخ کا تعین جولین کیلنڈر سے کرتا ہے۔ مغربی ممالک میں یہ تہوار 22 مارچ سے 25 اپریل تک کسی اتوار کو منایا جاتا ہے۔
کچھ محققین کے مطابق ایسٹر موسم بہار کی اینگلو سیکسن دیوی تھی اور یہ جشن دراصل بہار کا جشن ہے جو یسوع مسیح کی ولادت سے قبل بھی منایا جاتا تھا۔ ہندوستان میں یہ تہوار ہولی کے نام سے، انہیں دنوں اوراسی طریقے سے منایا جاتا ہے۔ ایران میں اسے نوروز کہتے ہیں اور وہاں یہ 21 مارچ کو منایا جاتا ہے۔













بہت معلوماتی مضمون ۔۔۔۔بہت شکریہ