سابق وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری احسن اقبال نے الیکشن 2018ء میں دہشتگردی کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ہمارے پاس اطلاعات موجود ہیں۔

سابق وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری احسن اقبال نے کہا ہے کہ مارنے والے سے بچانے والا زیادہ بڑا ہے، گولی لگی تو ہوش میں تھا، اگر فون نہ سن رہا ہوتا تو شاید گولی سیدھی سینے میں لگتی۔ گولی مارنے والے شخص کو سیکیورٹی اہلکاروں نے قابو کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں نفرت پھیل چکی ہے جو انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ میرے جسم میں موجود گولی یاد کرائے گی کہ یہ نفرت کی گولی ہے۔ مذہب اور لسانیت کے نام پر ایسی نفرت کو پروان نہیں چڑھانا چاہیے۔ دہشت گردی سے نمٹ لیا، اب اس نفرت کو ختم کرنا ہو گا۔ کسی شخص کو کوئی حق نہیں وہ کسی کی جان لے، کسی کو سزا دینا ریاست کا کام ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے دنیا نیوز کے پروگرام ”محاذ“ میں انٹرویو کے دوران کیا۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا تسلسل ملک کے لیے بہت ضروری ہے۔ 2013ء کے مقابلے میں آج کا پاکستان بہت بہتر ہے۔ ملک کی ایکسپورٹ بڑھ رہی ہے۔ عالمی ادارے بھی معاشی بہتری کا اعتراف کر رہے ہیں لیکن پچھلے ایک سال سے جاری سیاسی ڈرامے کی وجہ سے معیشت پر اثر پڑا ہے۔ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے عدلیہ، فوج، سیاست دان اور میڈیا سب کو ایک پیج پر آنا ہو گا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سسٹم میں پرابلم ہے جو جمہوریت کو چلنے نہیں دیتی۔ نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ ہمیں اس سسٹم کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) ہی پاکستان کو آگے لے کر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو پارٹی میں بہت سارے لوگ مشورے دیتے ہیں، یہ کہنا درست نہیں صرف دو لوگ ہی مشورے دیتے ہیں۔

سابق وزیرِ داخلہ نے کہا کہ الیکشن میں دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں اس حوالے سے ہمارے پاس انٹیلی جنس اطلاعات موجود ہیں، دہشت گرد ملک میں خوف پھیلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لیڈروں کو سیکیورٹی خدشات ہیں، انہیں سیکیورٹی دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت استحکام کی ضرورت ہے، موجودہ حالات میں پاکستان عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا، الیکشن میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

SHARE

LEAVE A REPLY