دو جون 1986ء کو پاکستان کے مشہور مزاحیہ اداکار ننھا نے خودکشی کر لی

0
277

دو جون 1986ء کو پاکستان کے مشہور مزاحیہ اداکار ننھا نے خودکشی کر لی
اداکار ننھا کا اصل نام رفیع خاور تھا اور وہ 1942ء میں ساہیوال میں پیدا ہوئے تھے۔ پاکستان ٹیلی وژن کے آغاز کے بعد انہوں نے کمال احمد رضوی کے پہلے ڈرامہ سیریل آئو نوکری کریں سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا اس کے بعد کمال احمد رضوی کی ایک اور ڈرامہ سیریز الف نون سے ان کی شہرت کا آغاز ہوا۔ اس سیریز میں ان کا کام دیکھ کر شباب کیرانوی نے انہیں اپنی فلم وطن کا سپاہی میں مزاحیہ اداکار کا کردار دے دیا۔
اس کے بعد ننھا نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور دو دہائی تک فلمی دنیا میں بطور مزاحیہ اداکار چھائے رہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 391 فلموں میں کام کیا جس میں سے 166 فلمیں اردو، 221 فلمیں، پنجابی 3 فلمیں پشتو اور ایک فلم سندھی زبان میں بنائی گئی تھی۔ بطور اداکار ان کی آخری فلم ہم سے نہ ٹکرانا تھی جبکہ ان کی آخری ریلیز ہونے والی فلم کا نام پسوڑی بادشاہ تھا۔
زندگی کے آخری ایام میں اداکار ننھا، فلمی اداکارہ نازلی کی زلف کے اسیر ہوگئے اور اسی عشق میں ناکامی کے بعد 2 جون 1986ء کو انہوں نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ وہ علامہ اقبال ٹائون، لاہور میں کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں
—————————————————————————————————————-

مجیب عالم کی وفات

٭2 جون 2004ء کو نامور گلوکار مجیب عالم کراچی میں وفات پاگئے اور سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
مجیب عالم 1948ء میں بھارت کے شہر کان پور میں پیدا ہوئے تھے۔ بچپن ہی سے ان کی آواز بے حد سریلی تھی جس سے متاثر ہوکر موسیقار حسن لطیف نے انہیں اپنی فلم نرگس میں گائیکی کا موقع دیا مگر یہ فلم ریلیز نہ ہوسکی۔ مجیب عالم کی ریلیز ہونے والی پہلی فلم مجبور تھی۔ 1966ء میں انہوں نے فلم جلوہ اور 1967ء میں چکوری کا ایک نغمہ ریکارڈ کروایا۔ اس نغمے کو جس کے بول تھے وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں، مجیب عالم کو نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔ اس کے بعد مجیب عالم نے واپس پلٹ کر نہیں دیکھا اور یکے بعد دیگرے متعدد مقبول نغمات سے فلمی دنیا کو سجاتے چلے گئے۔ جن فلموں میں ان کے گائے ہوئے نغمے بہت پسند کئے گئے ان میں دل دیوانہ، گھر اپنا گھر، جان آرزو، ماں بیٹا، لوری، تم ملے پیار ملا، سوغات، شمع اور پروانہ، قسم اس وقت کی، آوارہ، میرے ہمسفر، انجان، حاتم طائی اور میں کہاں منزل کہاں کے نام سرفہرست ہیں۔
————————————————————————————————————–

طاہرہ نقوی کی وفات

٭ پاکستان ٹیلی وژن کی مقبول فن کارہ طاہرہ نقوی کی تاریخ پیدائش 20 اگست1956ء ہے۔
طاہرہ نقوی سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے گائوں آلو مہار میں پیدا ہوئی تھیں۔ فن کارانہ زندگی کا آغاز ریڈیو سے کیا پھر ٹیلی وژن کے ڈراموں میں کام کرنا شروع کیا جہاں مختصر عرصے میں بہت اچھے اور نمایاں کردار ادا کئے۔ طویل ڈرامہ زندگی بندگی اور ڈرامہ سیریل ’’وارث‘‘ میں ان کے کردار آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔ انہیں 1981ء کی بہترین اداکارہ کا پی ٹی وی ایوارڈ بھی دیا گیا۔طاہرہ نقوی نے دو فلموں میں بھی کام کیا جن میں پہلی فلم بدلتے موسم تھی اور دوسری فلم ’’میاں بیوی راضی‘‘ مگر وہ خود کو فلمی دنیا کے ماحول سے ہم آہنگ نہ کرسکیں اور انہوں نے مزید فلموں میں کام کرنے سے انکار کردیا۔
اپریل 1982ء میں طاہرہ نقوی شدید بیمار پڑیں، ان کا مرض سرطان تشخیص ہوا، انہیں علاج کے لئے سی ایم ایچ راولپنڈی منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
2 جون 1982ء کو طاہرہ نقوی دنیا سے رخصت ہوئیں اور لاہور میں حضرت میاں میر کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئیں۔
————————————————————————————————————–

شاہ فیصل مسجد اسلام آباد کی تعمیر مکمل ہوئی

٭1959ء میں جب اسلام آباد کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی تو ان منصوبہ سازوں کے ذہن میں ایک ایسی مسجد کا خاکہ بھی تھا، جو پرشکوہ بھی ہو، پر جمال بھی ہو اور اس جدید ترین شہر کی شناخت اور پہچان بھی ہو۔ اسلام آباد کا شہر آہستہ آہستہ بستا رہا اور جب 1966ء میں سعودی عرب کے شاہ فیصل پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو انہوں نے اس مسجد کے تمام تر اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا۔
1968ء میں حکومت پاکستان نے اس مسجد کے ڈیزائن کے لئے ایک بین الاقوامی مقابلے کا اہتمام کیا۔ یہ مقابلہ ترکی کے جواں سال آرکٹیکٹ ویدت دلو کے نے جیتا۔ مارچ 1975ء میں جب شاہ فیصل شہید کردیئے گئے تو حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا کہ یہ مسجد ان کے نام سے معنون کردی جائے۔ چنانچہ 28 نومبر 1975ء کو حکومت نے اس مسجد کا نام ’’شاہ فیصل مسجد‘‘ رکھنے کا اعلان کردیا۔
اکتوبر 1976ء میںجب سعودی عرب کے فرمانروا شاہ خالد پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو حکومت پاکستان نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے بھائی کے نام سے معنون اس عظیم مسجد کا سنگ بنیاد نصب فرمائیں۔ چنانچہ 12 اکتوبر 1976ء مطابق 17 شوال 1396ھ کو شاہ خالد نے ایک باوقار تقریب میں اس عظیم الشان مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔
فیصل مسجد کے مرکزی ہال کا رقبہ 51 ہزار 984 فٹ مربع فٹ ہے مرکزی ہال کے چاروں طرف چار مینار ہیں جن میں سے ہر ایک کی بلندی 286 فٹ ہے۔ مسجد کا مرکزی ہال ایک خیمے کی شکل میں ڈیزائن کیا گیا ہے جس کی اونچائی اندرونی جانب سے 134 فٹ اور بیرونی جانب سے 150 فٹ ہے۔ اس مرکزی ہال میں پاکستان کے دو ممتاز مصوروں صادقین اور گل جی نے بھی آیات ربانی کی خطاطی کا شرف حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس ہال کے اوپر نصب کئے جانے والے طلائی ہلال کی تنصیب کا کام بھی گل جی نے انجام دیا تھا۔
یہ مسجد 10 سال کی شب و روز تعمیر کی بعد 2 جون 1986ء مطابق 23 رمضان المبارک 1406ھ کو پایہ تکمیل کو پہنچی۔ یوں وہ خواب جو شاہ فیصل نے 1966ء میں دیکھا تھا، دو دہائیوں کے بعد حقیقت کا روپ دھار گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY