سُر سرسوَتی – لتا منگیشکر، ایک باب

0
926

یہ سن سینتالیس کی ممبئی کی لوکل ٹرین ہے ۔ مشہور میوزک ڈائریکٹر انل بسو اس کے ساتھ ایک سانولی سی لڑکی چپ چاپ بیٹھی ہے۔ اگلے اسٹیشن پر ایک خوبصورت اور وجیہ نوجوان ڈبے میں داخل ہوتا ہے۔
” ارے انل دا۔۔کیسے ہیں آپ۔۔۔اور یہ کون ہے”
” یہ بہت اچھا گاتی ہے۔ میری فلم کے لئے گا رہی ہے”
” کہاں کی ہے؟” نوجوان نے پوچھا۔ لڑکی خاموش بیٹھی سن رہی ہے۔
” یہیں کی ہے۔ مراٹھی ہے”
” اور آپ اس سے اردو گانے گوائیں گے دادا؟” خوبرو نوجوان کے لہجے میں طنز چھپا ہوا تھا۔
” کیوں ! کیا حرج ہے؟”
” ارے دادا، یہ بھلا اردو کیسے گائے گی۔ اور ان مر اٹھوں کے گانوں سے تو دال بھات کی بو آتی ہے” نوجوان کا انداز تمسخرانہ تھا۔ لڑکی نے پہلو بدل کر زخمی نظروں سے نوجوان کو دیکھا اور گردن جھکا لی۔

اور اب تاریخ کے ہند سے بدل جاتے ہیں اور وقت بھی بدل جاتا ہے۔ وہ سن 47 تھا۔ اب سن 74 ہے۔

لندن کا رائل البرٹ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔آج ایک مشہور مغنیہ کا شو ہے۔ لوگ بے چینی سے مغنیہ کا انتظار کررہے ہیں ۔ لیکن اس سے پہلے وہی خوبرو نوجوان ، جو اب ایک شاندار شخصیت میں ڈھل چکا ہےمغنیہ کا تعارف کراتے ہوئے کہہ رہا ہے۔
” جس طرح پھول کی خوشبو کا، بچے کی مسکراہٹ کا کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوتا، اسی طرح لتا منگیشکر کی آواز قدرت کی تخلیق کا ایک کرشمہ ہے”
” یہ میری چھوٹی سی نازک سی بہن ہیں” نوجوان مغنیہ کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے۔

جی ہاں یہ نوجوان تھے لاکھوں دلوں کی دھڑکن ” دلیپ کمار” اور جس مراٹھن کی آواز سے انہیں دال بھات کی بو آنے کا خدشہ تھا، آج اس کی آواز کو پھول کی خوشبو اور بچے کی مسکراہٹ سے تشبیہ دے رہے تھے۔
اور لتا کو دلیپ یا کسی اور کی سند کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ مالک نے وہ گلا، وہ آواز انہیں دی ہے جو سیدھی دل میں اترتی ہے۔ جس کے لئے تعریف کے سارے الفاظ ختم ہوجائیں لیکن بات پھر بھی نہ بنے۔
اور بات بنے بھی تو کیسے۔ دوچار، دس پندرہ، سو دوسو، ہزار دو ہزار گیت ہوں تو کوئی بات بھی کرے۔ یہاں تو تیس چالیس ، یا پچاس ہزار کے قریب گانے ہیں اور ایک بھی ایسا نہیں کہ جسے، ہلکا یا معمولی کہہ سکیں بھلا اس کی آواز اور گائیکی کے بارے میں کوئی کیا تبصرہ کرسکتا ہے۔ اور مجھ جیسا، جسے موسیقی کی ابجد کا بھی علم نہیں وہ لاکھ سر مارے ، لتا کی آواز کی تعریف کا حق ادا کرنے کے قابل ایک جملہ بھی نہیں کہہ سکتا۔
سر، تال، اور مٹھاس کی اس سر سوتی کی آواز تو بچپن سے کانوں میں آتی رہی لیکن اسے پہچانا بہت ہی بعد میں۔ اور آئیے میں بتاؤں کہ لتا کو کب اور کیسے پہچانا۔

اور یہ ان دنوں کی بات ہے کہ دنیا کو نیا نیا آنکھ کھول کر دیکھا تھا۔ گھر میں اشد ضروریات زندگی سے زیادہ کچھ نہیں تھا ۔ ریڈیو اس زمانے میں ایک عیاشی تھی اور کسی کسی گھر میں ہی ہوتا تھا یا پھر کسی ہوٹل ، چائے خانے یا درزی کی دکان میں ہوتا۔ لیکن آواز کی لہروں پر تو کوئی پابندی نہیں۔ ریڈیو سننے سے ہم محروم نہیں تھے۔
پھر ان دنوں ایک اور چیز تھی جو ” رکارڈنگ” کہلاتی تھی۔ یعنی شادی بیاہ یا کسی اور خوشی کے موقعہ پر باآواز بلند ‘ ریکارڈ ‘ بجانا۔ یہ بھی تمبو قنات والے ہی مہیا کرتے تھے۔
کہیں شادی ہوتی اور ہمارے کانوں میں جہاں اور گانوں کی آوازیں آتیں وہیں ایک سریلی سی آواز میں یہ گیت بھی سنائی دیتے۔
” راجہ کی آئے گی برات، رنگیلی ہوگی رات، مگن میں ناچوں ھی”
” ہوا میں اڑتا جائے، میرا لال دوپٹہ ململ کا ہوجی، ہوجی۔”
” دغا دغا وئی وئی وئی، ہوگئی، تم سے محبت ہوگئی”

اور پھر یہ گیت تو بہت ہی سنائی دیتا
” پیار کیا تو ڈرنا کیا، جب پیار کیا تو ڈرنا کیا”

یہ سب گیت سنتے لیکن ان دنوں اتنی سمجھ کہاں کہ کون گا رہا ہے، ہمیں تو سارے گانے ایک ہی جیسے لگتے۔
سن باسٹھ میں ہندوستان جانا ہوا، جہاں ہم چھ ماہ رہے۔ رکارڈنگ کا رواج یہاں پاکستان سے بھی بڑھ کر تھا۔ جس قصبے میں ہم رہے، وہاں تقریباً ہر روز کوئی نہ کوئی تہوار، یا شادی بیاہ وغیرہ ہوتے رہتے تھے۔ سیاسی جلسے بھی بہت ہوتے تھے، شاید کوئی بلدیاتی انتخابات تھے۔ جلسوں کو گرمانے اور سامعین کو جمع کرنے کے لئے گانوں کا سہارا لیا جاتا۔ بہرحال تقریباً ہر روز ہی گانے سنائی دیتے۔
یہاں ان دنوں “جنگلی” گنگا جمنا ” جس دیش میں گنگا بہتی ہے” اور جب پیار کسی سے ہوتا ہے” فلمیں چل رہی تھیں اور ریکارڈنگ میں ان ہی فلموں کے گیت زیادہ سنائی دیتے۔ انہی میں ایک مدھر اور سریلی آواز میں یہ گیت بھی سنائی دیتے۔
دو ہنسوں کا جوڑا بچھڑ گیو رے
ڈھونڈو ڈھونڈو رے ساجنا، مورے کان کا بالا
احسان ترا ہوگا مجھ پر دل چاہتا ہے مجھے کہنے دو
آو بسنتی پون پاگل نہ جارے نہ جا روکو کوئی

لیکن ہم اور گانوں کی طرح انہیں بھی سنتے۔ پاکستان واپسی ہوئی تو یہاں پر بھی یہی آواز سنائی دیتی۔ یہ سن چونسٹھ تک کا تذکرہ ہے۔
ان دنوں جو گانے سنائی دیتے ان میں ‘ جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا” پنکھ ہوتے تو اڑ آتی رے” گذرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ، حافظ خدا تمہارا’ ، تیرا میرا پیار ہے امر” کہیں دیپ جلے کہیں دل” یہ سب گانے سنائی دیتے، کانوں کو بہت اچھے بھی لگتے، لیکن کون گا رہا ہے، یہ جاننے کی کبھی کوشش بھی نہیں کی، نہ ہی اس وقت عمر کچھ ایسی تھی کہ ان باتوں پر دھیان دیتے۔

پھر آیا سن پینسٹھ اور ہندوستان پاکستان میں جنگ چھڑ گئی۔ ادھر ایوب خان نے اپنی وہ یادگار تقریر کی جس نے سینے میں جوش بھر دیا، شکیل احمد نے اپنی گرج دار آواز میں ایوب خان کے الفاظ خبروں میں سنا کر شعلوں کو ہوا دی، اور خبروں کے بعد ایک نغمہ گونجا
” اللہ کے وعدے پہ مجاہد کو یقیں ہے، اب فتح مبیں، فتح مبیں ہے”
پھر یکے بعد دیگرے ایسے ہی نغمےسنائی دیتے
” اے پتر ہٹاں تے نئی وکدے”
میرا ماہی چھیل چھبیلا ہائی نی جرنیل نی جرنیل نی۔
میریاڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں۔

تو اب ہمیں معلوم ہونے لگا کہ فلاں نغمہ مہدی حسن نے گایا ہے اور فلاں ملکہ ترنم نورجہاں نے۔ پہلی بار گلوکاروں کے ناموں پر غور کیا۔۔
جنگ کے ایک ڈیڑھ سال تو خون کو گرما دینے والے جنگی اور قومی نغمے ہی فضاؤں میں گونجتے رہتے۔ ہندوستانی فلمیں آنا بند ہوگئی تھیں۔ ریڈیو پر بھی اب صرف پاکستانی گیت ہی بجتے۔ اب جو ہوش سنبھالا ہے اور کچھ کچھ گانوں اور گانے والوں کے نام کی سدھ بدھ ہوئی تو صرف مہدی حسن، احمد رشدی، مسعود رانا، سلیم رضا، نورجہاں، نسیم بیگم، مالا اور رونا لیلی کے ناموں سے ہی شناسائی تھی۔ ہندوستان اور ہندوستان سے متعلق کوئی بات سننے کے ہم روادار ہی نہیں تھے۔ ساتھ ہی ایک احساس تفاخر تھا کہ ہم نے بنیوں کو ناکوں چنے چبوائے ہیں اور
ہم ان سے برتر ہیں، یعنی ہماری ہر چیز ان سے بڑھ کر ہے۔ ہمارے گانے والے بھی ان سے اچھے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
پھر ہوا یوں کہ سن 68′ 69 کے قریب ہمارے گھر میں ٹیپ ریکارڈ اور گراموفون وغیرہ آئے جو بحرین سے ہمارے چچا لائے تھے۔ ان میں بھارتی گیت تھے۔ گیت سننے میں تو بہت اچھے لگتے لیکن میں ان گلوکاروں کو اپنے گلوکاروں سے بڑھ کر ماننے کو تیار نہیں تھا۔ بھلا ہماری مادام نورجہاں اور مہدی حسن کا کیا مقابلہ۔۔۔
جادو لیکن سر چڑھ کر بولتا ہے۔ پہلے تو ریڈیو سیلون اور’ بناکا گیت مالا ‘سن سن کر ہندوستانی گانوں کی طرف مائل ہوئے۔ پھر اکہتر کی جنگ ہوئی لیکن اس بار جوش جلد ہی ٹھنڈا پڑ گیا۔ ایک دوسال بعد ہی ہمارے گلی کوچوں میں پھر سے ہندوستانی گیت سنائی دینے لگے۔ اور جب سے یہ گیت سنائی دئیے
موسم ہے عاشقانہ، اے دل کہیں سے ان کو ایسے میں ڈھونڈ لانا
انہی لوگوں نے ہے چھینا دوپٹہ میرا
یونہی کوئی مل گیا تھا سرراہ چلتے چلتے،
ٹھاڑے رہیو آو بانکے یار رے

اب میں آپ کو اپنے دل کی بات بتاؤں ۔ پہلی بار میں نے لتا منگیشکر کی آواز کو ” سنجیدگی سے لیا” ۔ یہ آواز گویا دل میں اترتی چلی جاتی۔ میں لاکھ اپنے تعصب کے مارے اسے ناپسند کرنے کی کوشش کرتا لیکن ایسی سریلی ، میٹھی اور مدھ بھری آواز کوئی اور نہ لگتی۔
پھر جب سن پچھتر میں پردیس آگیا تو یہاں تو تقریباً ہر روز ہی ہندوستانی فلم دیکھتے۔ آہستہ آہستہ سارے ہندوستانی فنکار سمجھتے آتے چلے گئے۔۔۔ہم نے اپنے فنکاروں کو کیا سمجھا تھا، ہندوستانی اداکار اور گلوکار کیسے تھے یہ ایک الگ کہانی ہے۔ بس یوں جان لیجئے کہ ہم پاکستان میں سنتوش اور محمد علی کے مقابلے میں دلیپ کمار کو رکھتے تھے لیکن علم نہیں تھا کہ دلیپ کمار کیا چیز ہوتی ہے۔ اب یہاں آکر سمجھ میں آتا گیا کہ اسلم پرویز جنہیں پران کی مثال دی جاتی تھی، تو پران اور اسلم پرویز میں کیا فرق ہوتا ہے۔

خلیج کی ملازمت تھی، جیب میں چار پیسے بھی تھی۔ میوزک سسٹم بھی خرید لیا اور ہر دوسرے روز گانوں کی کیسیٹیں بھی آتی رہیں۔۔۔اور اب جب فرصت سے، اور جان کر کہ کون گلوکار ہے، سمجھ میں آنے لگا کہ کس کا کیا مقام ہے۔۔تب سے میری پہلی پسند محمد رفیع اور لتا منگیشکر رہے۔ مجھے سارے گلوکار پسند ہیں، ہر ایک کا اپنا مقام ہے، لیکن دلی سکون مجھے لتا منگیشکر اور محمد رفیع ( اور بہت حدتک طلعت محموداور مہدی حسن) کو سن کر ملتا ہے۔ انہیں میں گھنٹوں سن سکتا ہوں۔

خیر بات ہورہی تھی لتا منگیشکر کی۔ اب ان کے بارے میں ، میں آپ کو کیا بتاؤں۔ لتا کی زندگی، خاندان، اس کی آواز ، اس کے گیتوں کی ایسی کون سی نئی بات ہے جو آپ کو نہ معلوم ہو اور میں آپ کو بتاؤں۔
لتا کتنی بڑی گلوکارہ ہے یہ تو سب ہی جانتے ہیں لیکن جب آپ اس سے ملیں گے تو لگے گا کہ ایک بہت ہی معمولی سی عورت سے مل رہے ہیں۔ُاس قدر سادگی، تصنع سے پاک اور عاجزی بہت کم فنکاروں میں دیکھنے میں آتی ہے ورنہ ہم نے تو دیکھا کہ ایک گانا ہٹ ہوگیا تو گلوکار کی آنکھوں سے کالا چشمہ ہی نہیں ہٹتا اور چاہے جتنے بے سرے ہوں موسیقی کے مقابلوں میں جج بنے ، نئے گلوکاروں کا مذاق اڑانا ہی ان کی ‘عظمت’ ہے۔
دلیپ کمار شائد لتا کی اردو کے بارے میں بات کر کے بھول گئے لیکن لتا نے اسے چیلنج سمجھ کر باقاعدہ اردو سیکھی، نہ صرف سیکھی بلکہ میر وغالب کو پڑھا،اس مراٹھن کا تلفظ اور ادائیگی سنیں کر ہمارے غزل گانے والے استاد گلوکار شرما جائیں۔ ‘ق’ ‘غ’ اور خ جیسے مشکل حروف کو اتنی صفائی اور صحیح ادا کرتی ہیں کہ اہل زبان بھی رشک کریں۔ ( ہمارے غزل کے ایک بہت بڑے گلوکار جگر کی غزل ” میرا جو حال ہو سو ہو، برق نظر گرائے جا” کو ‘ برکے نظر” ادا کرتے ہیں ).

اور دلیپ کمار ہی کیا، لتا کو کسی نے بھی شروع میں اہمیت نہیں دی۔ گلوکاری سے پہلے لتا منگیشکر اپنے والد دینا ناتھ منگیشکر کے ساتھ ان کے تھیٹر میں ادا کاری کرتی تھیں۔ لیکن گلوکاری کا بھی شوق تھا۔ یہ شوق اس قدر زیادہ تھا کہ پانچ سال کی عمر میں جب اسکول میں داخل ہوئیں تو اسکول کے بچوں کو گانا سکھانا شروع کردیا۔ ٹیچر نے یہ دیکھا تو انہیں گھر بھیج دیا۔
۱۹۴۵ میں لتا بمبئی آگئیں جہاں بھنڈی بازار میں استاد امان علی خان سے سنگیت کا پہلا درس لیا۔ تیرہ سال کی تھیں کہ والد کے انتقال کے بعد ان کے دوست ماسٹر ونائیک نے لتا کو اپنی سرپرستی میں لے لیا اور مراٹھی فلموں میں گیت گو آئے۔

ماسٹر ونائیک کے دیہانت کے بعد ماسٹر غلام حیدر نے لتا کو اپنی آغوش شفقت میں لے لیا اور لتا آج بھی ان کا نام بہت محبت اور عزت سے لیتی ہیں۔ ماسٹر جی انہیں موسیقار ششادھر مکرجی کے پاس لے گئے جنہوں نے لتا کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ اس کی آواز بہت باریک ہے۔ ماسٹر جی طیش میں آگئے اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ آئے کہ ” دیکھ لینا یہ لتا ہوگی اور موسیقار اور ہدایتکار اس کے قدموں میں جھکے ، ایک ایک گیت کے لئے بھیک مانگ رہے ہوں گے۔”
اور ماسٹر غلام حیدر ہی نے1948 میں فلم ‘ مجبور’ میں ” دل میرا توڑا، مجھے کہیں کا ناچھوڑا” گوا کر لتا کو شہرت، عزت اور احترام کی ایک ایسے سفر پر روانہ کردیا جس کی ابھی تک منزل نہیں آئی۔ اس کی آواز کا سونا آج بھی ویسا ہی کھرا ہے جیسا پہلے دن تھا۔
ان دنوں نورجہاں، ثریا، شمشاد بیگم، امیر بائی کرناٹکی اور راج کماری وغیرہ کی دھوم تھی۔ نورجہاں تو تھی ہی نورجہاں۔ لتا نے بھی ابتدا میں نورجہاں ہی کاانداز اپنایا۔ لیکن محل کے لازوال گیت ” آئے گا آیے گا، آنیوالا آئے گا” نے لتا کو نہ صرف شہرت بخشی بلکہ لتا کا اپنا انداز بھی مشہور ہوتا چلآگیا۔
رومانی گیت ہوں، یا سنجیدہ شاعری، دکھ بھرے گیت ہوں یا شوخ وچنچل گانے، ہر گیت لتا نے ایسا گایا کہ وہ گائیں اور سنا کرے کوئی۔ مدھو بالا، نرگس، میناکماری، نوتن، وحیدہ رحمان، مالا سنہا، آشا پاریکھ، سادھنا، شرمیلا ٹیگور سے لے کر ریکھا، ہیما مالنی اور مادھوری ڈکشٹ وغیرہ وہ کون سی اداکارہ ہے جس نے لتا کی سنہری آواز کو استعمال نہ کیا ہو۔
تقریباً ہر گلوکار نے لتا کے ساتھ بے شمار یاد گار گیت گائے جن میں مکیش، مناڈے، کشور، طلعت، ہیمنت کمار سب شامل ہیں لیکن محمد رفیع کے ساتھ ان کے دوگانے یادگار ترین ہیں۔ اسی طرح وہ تمام موسیقاروں کی پسندیدہ گلوکارہ ہیں لیکن نوشاد صاحب کے ساتھ ان کے گانے کبھی نہیں بھلائے جاسکتے۔ دراصل یہ شکیل بدایونی، نوشاد، محمد رفیع اور لتا کی ٹیم تھی جس نے ہندوستانی فلمی صنعت کو بے شمار ناقابل فراموش گیت دئیے۔
لتا کی بات ان کے گانوں کے بغیر نامکمل ہے، لیکن کس میں ہمت ہے کہ ان کے مقبول ترین گانوں کی فہرست بنا سکے ۔ اگر میں ان کے سو مقبول ترین گانے لکھ دوں تو آپ اتنے ہی مقبول دوسو گانے مجھے بتادیں گے۔
لتا پر بات شروع تو کی جاسکتی ہے لیکن ختم کرنا آسان نہیں۔ سر اور سنگیت کی یہ سر سوتی ہمارے درمیان موجود ہے۔ اور ہم اور آپ خوش نصیب ہیں کہ ہم نے لتا کے دور میں جنم لیا۔
حبیب جالب نے قید کے دوران لتا پر کچھ شعر کہے تھے۔ سنئیے اور سر دھنیے۔

تیرے مدھر گیتوں کے سہارے
بیتے ہیں دن رین ہمارے
تیری اگر آواز نہ ہوتی
بجھ جاتی جیون کی جیوتی
میرا تجھ میں آن بسی ہے
آنگ وہی ہے رنگ وہی ہے
جگ میں تیرے داس ہیں سارے
جتنے ہیں آکاش پہ تارے

SHARE

LEAVE A REPLY