سپریم کورٹ میں پاناماپیپر عملدرآمد کیس کی چوتھی سماعت ملتوی
آج کی سماعت معمول سے زیادہ وقت تک جاری رہی اور وکیل سلمان راجہ اور ججوں کے درمیان دلچسپ مکالموں کا تبادلہ ہوا
سپریم کورٹ میں پاناماپیپر عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے سامنے کیس بادی النظر میں جعلی دستاویزات دینے کا ہے لیکن فی الحال بادی النظر سے آگے نہیں جانا چاہتے۔
پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ جمع کرانے کے بعد عدالت عظمت کے 3 رکنی بینچ نے آج کیس کی چوتھی سماعت کی جس میں وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے جس کے بعد عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی تاہم سلمان اکرم راجہ کل بھی دلائل دیں گے۔
جسٹس عظمت سعید نے دوران سماعت کہا کہ ہمارے سامنے کیس بادی النظر میں جعلی دستاویزات دینے کا ہے، فی الحال بادی النظر سے آگے نہیں جانا چاہتے ۔اگر جعلی دستاویزات عدالت میں پیش ہوں تو کیا ہوتا ہے؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جعلی دستاویزات پیش کرنے پر مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا جعلی دستاویزات پیش کرنے پر7 سال کی سزا ہوتی ہے۔













