جلَتے بجُھتے ، گھر کے چراغ ,عالم آرا

0
2189

ہماری گننے کی صلاحیت اور گنتی ہمارے سیاست دانوں نے بڑے عرصے سے خراب کر دی ہے ۔پہلے بیس کروڑ کی گردان تھی جو ہمیں کبھی بھی کسی ایک کے ساتھ نظر نہیں آئے ۔اب جب سے اپوزیشن کے لوگ کرپشن کرنے کی چکی میں ڈالے جا رہے ہیں پکڑے جارہے ہیں ،تو احتجاج ہو تو کہتے ہیں لاکھوں کا مجمع تھا ،اسمبلی کے باہر جمع ہوں تو کہتے ہیں لاکھوں لوگ تھے اب یہ کیسے لاکھوں ہیں جو ہمیں کہیں نہ ٹٰی وی میں دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی خبروں میں لگی تصویروں میں ۔شاید ڈالر کی طرح یہ بھی اُڑان بھر گئے ہیں کہ ایک کی جگہ سو گنو ۔آنے والے کہتے ہیں کہ کرپٹ کو نہیں چھوڑینگے بس یہ ہی بات ہمارے کانوں میں رَس گھول دیتی ہے ۔لیکن ملک کے یہ جلتے بُجھتے چراغ ٹمٹما رہے ہیں اور ہم اُس دن بہت خوش ہونگے جس دن ہمارے ملک سے کرپشن کا چراغ بُجھا دیا جائیگا اور ایمانداری اور دیانتداری کا چراغ جلا دیا جائیگا انشاء اللہ
سفر تکلیف دہ ہے لیکن مسافر کہہ رہے ہیں کہ منزل ہمارے سامنے ہے ہم مان لیتے ہیں ۔لیکن جب تک آپ کے کام نظر نہیں آئینگے کیسے یقین کریں ۔زمینیں جن پر قبضے ہیں چھڑائے جانے کا مژدہ سنایا جارہا ہے ۔بیرونِ ملک پاکستانیوں کی زمینیں بھی ہیں لیکن کوئی شُنوائی نہیں ہے اگر ان پر بھی نظر کی جائے اور حق دار کے حق ادا کر دئے جائیں اور بتایا جائے کہ کس کس کی زمین واپس کر دی گئی ہے تو ایک خوشخبری ہوگی ۔قبضہ مافیا سے نمٹنا آسان نہیں لیکن ناممکن بھی نہیں ہے ۔
سینٹ اور اسمبلی کی رونق دیکھنے کے لائق ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ چوروں ڈاکو ؤں کو نہیں چھوڑینگے ۔پر ہمیں حیرت ہے کہ اسمبلی ممبران کیوں سیخ پا ہیں ۔مولانا کیوں اس قدر برہم ہیں ۔اب ہم شان میں یہ گُستاخی تو نہیں کر سکتے کہ ،کہیں کیا واقعئی چور کی داڑھی میں تنکا ہوتا ہے ۔کیونکہ اسمبلی میں بیٹھے لوگوں کا ان باتوں پر اس قدر ناراض ہونا جب کہ نام کسی کا بھی نہ لیا گیا ہو اور اپنے وزیرِ اعظم کو برے القاب سے نوازنا کہاں کا انصاف ہے ۔یا واقعئی بات صحیح ہے کہ چیخیں نکلیں گی اور دور دور تک سُنی بھی جائینگی ۔دوسری طرف پارلیمنٹ میں بجائے جواب دیں اور اگر الزام تراشی ہو رہی ہے تو صفائی پیش کریں ماحول کو خراب کر رہے ہیں “،ہمیں کہیں بھی کوئی نئی بات نہیں لگ رہی ‘‘۔یہ کہنا ہے اپوزیشن کا ۔بے شک اُن کے حساب سے تو کوئی نئی بات نہیں ہورہی کیونکہ یہ سب ڈانڈے اُن ہی کے لگائے ہوئے ہیں اور انہیں کم کرتے کرتے شاید پی ٹی آئی کا سانس پھول جائیگا کیونکہ ان کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ انہیں اُکھاڑ پھینکنا اکیلے وزیراعظم کے بس کی بات نہیں ہے اس کے لئے اُنہیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو پچھلوں سے کہیں کوئی رابطہ نہ رکھتے ہوں مگر شاید ایسے لوگوں کا ملنا مشکل ہی نہیں بڑا مشکل ہو رہا ہے مگر ہمیں کہیں امید ہے کہ کچھ لوگوں کے ضمیر ضرور جاگ جائینگے اور وہ اپنے ملک اور اپنی قوم کے لئے کچھ بہتری لانے کی طرف ضرور توجہ کرینگے اور اپنے اداروں میں کرپشن کی نشاندہی بھی کرینگے اور کرپٹ لوگوں کو ڈھونڈھنے میں حکومت کا ہاتھ بھی بٹائینگے ۔ ہمیں روشنی نظر آرہی ہے گو ہلکی ہے مگر امید ہے کہ تیز ہوجائیگی اور اسکی چکا چوند سے قسمت بدلے گی پاکستانی عوام کی ۔ اب شاید کوئی بھی کرپٹ بچ نہیں سکے گا جلد یا بہ دیر ہر کرپٹ ،بے ایمان اور دھوکہ دینے والا اس چکی میں پسے گا بڑے طمطراق کے ساتھ اور وہ دن خوشی کا دن ہوگا پاکستانیوں کے لئے اس کی عوام کے لئے ۔ملک جس نہج پر پہنچ چکا ہے اُس کی سب سے بڑی وجہ ہے انصاف میں دیر اور نا انصافی کا فروغ ،قانون سازی کی کمی اور بے جا نوازشات ۔
تحقیق لازم ہے ہر اُس الزام کی جو کسی پر بھی لگایا جائے ۔لیکن اس کے لئے بھی قانون کو جاگنا ہوگا ،چیف صآحب کہتے ہیں کہ گھر بنانا خالہ جی کا گھر نہیں بلا شک لیکن بنیاد رکھ لینا ایک اچھی بات ہے کہتے ہیں کہ اگر ہمت کرو تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے اس دور میں نا صحیح اگلے دور میں کسی کا بھی ہو یہ گھر بن جائینگے ۔اچھے کاموں کی پزیرائی ہونی چاہئے ۔سب کچھ اچھا نہیں ہو سکتا کہ تفریق اللہ رب العذت کی طرف سے بھی ہے ،“ فرمان ہے مفہوم ‘‘ ہم جس کا چاہے رزق تنگ کر دیتے ہیں اور جس کا چاہے وسیع کر دیتے ہیں ‘‘تو کوئی بھی برابری نہیں کر سکتا ضرور کوئی کمی کا شکار ہوگا کسی کے پاس بہت ہوگا لیکن ناجائز جہاں ہوگا وہاں سے نکالنے کا حکم ہے ،اور غریبوں میں بانٹنے کا حکم ہے ۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی وزیر نشاندہی کرے کہ اداروں میں پورے پورے خاندان براجمان ہیں تو سینٹ کے اسپیکر اُس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ سینٹ کا اجلاس چلایا جاسکے لیکن جن پر الزام لگایا جا رہا ہے وہ یہ مہربانی نہیں کرتے کہ ثبوت دے دیں کہ غلط بیانی کر رہے ہیں وزیرِ مملکت یہ تو حال ہے ہمارے ایمانداروں کا ؟؟ ایک مولانا صاحب جن سے ہم انتہائی شائستگی اور بردباری کی توقع کرتے ہیں وہ اسمبلی میں تقریر کرتے ہیں کہ پچاس پکڑنے والوں کا نام لئے بغیر وزیرِ اعظم نے ہم سب کو زلیل کیا ہے اب ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ نام لینے چاہئیں تھے کیا ؟اور جب اآپ اس میں شامل نہیں ہیں تو اپ کو اتنا برا کیوں لگا آپ کو تو تائید کرنی چاہئے تھی اس بات کی کہ یہ ایک خوش آئیند قدم ہے کہ جس پر پچھلی حکومتوں اور عدلیہ نے کبھی ہاتھ ہی نہیں ڈالا اب اگر باز پُرس ہورہی ہے تو اتنا دُکھ اور افسوس کیوں ۔۔
ہمیں تو لگتا ہے یہ ملک کی قسمتوں سے کھیلنے والے جلتے بجھتے چراغ اسی طر ح بھڑکتے رہینگے جب تک کہ کوئی الزام ثابت نہیں کیا جاتا ۔اور ثبوت جیسا کہ ہم کہتے ہیں اور لکھتے رہے ہیں کہ وہ ثبوت جو کرپشن کو ثابت کریں شاید ہمارے ملک میں عُنقا ہیں کیونکہ سب کچھ سامنے ہے لیکن کچھ بھی عدل کے سامنے نہیں ہوتا ۔وہ نہ معلوم کس ثبوت پر فیصلہ دیں گے ۔میڈیا اینکر ثبوت دکھا دکھا کر بات کرتے ہیں لیکن یہ اتنے نا کافی ہوتے ہیں کہ کوئی ان پر فیصلہ تو کیا کرے گا کان بھی نہیں دھرتا ۔ہمارے خلفاء بھیس بدل کر اپنی ریاست میں گھوما کرتے تھے اپنی رعایا کا حال معلوم کرنے کے لئے اور جہاں کہیں کوئی نا انصافی کی بھنک بھی ملتی تھی تو فیصلہ صادر ہو جاتا تھا کہ جواب دو ۔لیکن ہم اتنے بد قسمت ہیں کہ سب کچھ سامنے ہوتے ہوئے بھی فیصلے کی آس میں سالوں سالوں گزار دیتے ہیں اور دنیا کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے ۔
انصاف میں تاخیر ملک کی قسمت سے کھیلنا ہے یہ قانون سازی بھی ہونی چاہئے کہ فیصلے کتنے دنوں میں ہو جاتے چاہئیں حکومت وقت کو اس بات پر سب سے جلدی توجہ دینی چاہئے ۔فواد حسن فواد، اسحاق ڈار، شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم ،ایان علی ،اور باقی بھی سب کیا ان کو اتنا لمبا عرصہ درکار ہے اپنے جرم قبول کرنے یا نہ کرنے کا ۔عدل کہاں ہے کیوں سامنے نہیں آتا بڑے بڑے حادثے ماڈل ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن کہاں فائلوں میں بند ہیں کیوں نہیں کھلتے ۔ایک دم ھنگامہ اُٹھتا ہے اور پھر سنا ٹا ۔یہ کیسا قانون ہے کہ کوئی قانون کی نظر میں آتا ہی نہیں کیا سانحئہ مادل ٹاؤں جیسا واقعہ کہیں بھی کسی بھی ملک میں نظر آتا ہے ؟ یا وہ ساری جانیں تھیں ہی اس قابل کہ اس طرح روند دی جاتیں ،نہ خادمِ اعلیٰ کو پتہ چلتا نہ وزیرَ داخلہ کو سب بری الذمہ ،،
اگر اب بھی یہ فیصلے نہ آئے تو پھر کیسی تبدیلی کہاں کی تبدیلی ،کیسا انصاف اور کہاں کا قانون ،چیف صآحب سے بہت سی امیدیں تھیں اور ہیں لیکن ان حساس مقدموں پر اگر آپ کی توجہ نہ ہوئی تو پھر مایوسی ہی مقدر ہوگی ۔ہماری تو خواہش ہے کہ پہلے اُن مقدمات پر نظر کر لی جائے جو انتہائی ظالمانہ رویوں کی وجہ سے وقوع پزیر ہوئے کیا جنہوں نے گولیاں چلائیں وہ مسلمان نہیں تھے ،یا انہیں پتہ نہیں تھا کہ بلا جواز جان لینا معصوم لوگوں کی ،کتنا بڑا گناہ ہے ۔کیا جواب دیں گے وہ پولیس اہلکار جنہوں نے کسی کے بھی کہنے پر یا خود یہ کام کیا ۔اگر ضمیر زندہ ہیں تو انہیں خود ہی سامنے آنا چاہئے بتانے کے لئے کہ اُس دن ماڈل ٹاؤن میں کیا ہوا ۔کیونکہ یہ معصوم جانوں کا معاملہ ہے ۔بے ضرر خواتین کا مّعاملہ ہے بوڑھوں کا مّعاملہ ہے جوانوں کا معاملہ ہے ۔اُن معصوموں کا معاملہ جنہوں نے دنیا میں سانس بھی نہیں لی تھی ۔محترم چیف صاحب آپ کے کندھوں پر اُن سب کا بوجھ ہے ۔اس مقدمے کو سُن کر اور اسکی تفتیش کر کے ان معصوموں کا حق ادا کر دیں جو تقریبا` چار سالوں سے انصاف کے طلبگار ہیں ۔ہمیں آپ سے امید ہے کہ آپ اُن کی داد رسی ضرور کریں گے ۔
اللہ میرے ملک کو روشن چراغوں سے روشن کرے انصاف کے قانون کے اور دیانت داری کے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY