سب سے پہلا انٹرویو ایران کے پہلے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کا

0
600

۔اس ملک کی سیاست ، انقلاب کی ہوا ، اس لیڈرز اور ان کے نظریات ، ملک کے نظام ، اور سیاسی آئیڈیالوجی کے پیش نظر سوچا ہے کہ دنیا بھر کے انقلابی راہنماوں کے انٹرویوز کا اردو میں ترجمہ کر کے انہیں پیش کیا جائے۔ تاکہ انقلاب کی الف ب ، دنیا بھر کے راہنماوں کے نظریات وغیرہ کے بارے میں آگاہی مل سکے۔ ان انٹرویوز کو پیورلی ایکڈیمیک نقطہ نظر سے ہی پڑھا جائے۔

۔

سب سے پہلا انٹرویو ایران کے پہلے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کا ہے ، جو کہ اٹلی کی مشہور اور ٹاپ جرنسلٹ اوریانہ فیلیسی Oriana Fallaci نے لیا ، جو عالمی راہنماووں کے انٹرویو کی وجہ سے مقبول ہیں، اور انٹریو کے بیچ میں اپنا نقاب اتار پھینکنے کی وجہ سے اس کا انٹریو کافی مقبولیت حاصل کر سکتا۔ یہ انٹرویو 12 ستمبر 1979 کو لیا گیا ، جو نیو یارک ٹائمز نے شائع کیا۔

نوٹ : ( انٹریو لمبا ہے اس لیے متعدد حصوں میں پوسٹ کیا جارہا ہے)

۔————

فیلسی : جو فیصلہ آپ کرتے ہیں وہ حکم ہوتا ہے ، تو ایران میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ایران میں کوئی آزادی نہیں ہے اور انقلاب آزادی نہیں لایا۔

خمینی : ایران میرے ہاتھوں میں نہیں ہے ، یہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ، کیونکہ یہ ایران کے عوام تھے جنہوں نے یہ ملک اس شخص کے حوالے کیا جو ان کا خادم ہے ، اور یہ خادم صرف وہی چاہتا ہے جو ان کیلئے اچھا ہے۔ آپ خود بھی اچھی طرح دیکھا کہ کس طرح آیت اللہ محمود طالقانی کی وفات کے بعد لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے ، یہ بتاتا ہے کہ یہ لوگ آزاد ہیں ، یہ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ لوگ صرف خدا کے بندے کی پیروی کرتے ہیں اور یہی آزادی ہے۔

فیلیسی : معذرت کہ میں اصرار کروں گی ، میرا مطلب تھا جیسے کہ آج ایران میں آپ نے خوف کو پروان چڑھایا ، ہہت سے لوگ آپ کو ڈیکٹیٹر کہتے ہیں ، شاہ کے بعد نیا ڈیکٹیٹر ، نیا باس ، نیا آقا۔ آپ اس کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے ، کیا آپ اس سے رنجیدہ ہوتے ہیں ؟ آپ کو اس کی پرواہ ہے ؟

روح اللہ خمینی : ایک طرف تو مجھے یہ سُن کر افسوس ہوتا ہے ، ہاں یہ میرے اذیت اور تکلیف دہ ہے ، کیونکہ یہ ناانصافی اور زیادتی ہے کہ یہ مجھے ڈیکٹیٹر کہیں. لیکن دوسری طرف مجھے ان سب کی زرا برابر بھی پرواہ نہیں ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ شر انسان کی فطرت کا لازمہ ہے اور اس قسم کا شر ہمارے دشمنوں کی طرف سے ہے۔

یہ راستہ جو ہم نے انتخاب کیا ہے ، یہ عالمی استبدادی قوتوں ( سپر پاورز ) کے خلاف جنگ اور مزاحمت کا راستہ ، یہ تو بہت عام بات ہے کہ ان سپر پاورز کے نمک خوار مجھے ایسے زہریلے القابات سے نوازیں ، اور نہ ہی میں کسی گمان اور غلط فہمی میں مبتلا ہوں ، کہ اس مزاحمت کے نتیجے میں یہ سپرپاورز جو ہمیں لوٹنے اور غارت کرنے کے عادی ہیں ، یہ خوش ہوں گے اور ایسے ہی خاموش رہیں گے۔ شاہ کے وفادار تو بہت کچھ کہتے ہیں ، یہاں تک کہتے ہیں کہ خمینی نے عورتوں کے سینے کاٹنے تک کا حکم دیا ، آپ مجھے بتائیں کہ جب سے آپ ایران میں ہیں کیا آپ کو اس چیز کے کوئی شواہد اور ثبوت ملے ہیں کہ میں نے ایسا کوئی غیر انسانی اور ظالمانہ اقدام کیا ہو ؟

فیلیسی : نہیں مجھے ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ، لیکن آپ نے لوگوں کو خوفزدہ کیا ہے ، جیسا کہ یہ لاکھوں کا مجمع جو باہر آپ کے انتظار میں آپ کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ، اور آپ کے نام کے نعرے لگانے کیلئے بیٹھا ہے یہ بھی خوفزدہ لوگ ہیں۔ آپ کو اس طرح ان کو دیکھ کر کیسا لگتا ہے ؟

روح اللہ خمینی : مجھے انہیں سن کر اور دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے باہری اور اندرونی دشمنوں کو نکال پھینکا ، ان کے اندر یہ جذبہ بھڑکتا رہنا چاہیے کیونکہ یہ ملک ابھی بھی دشمنوں کے نرخے میں ہے ، یہ ان کا ذہین عشق ہے ، اور ذہین عشق کی خوش محسوس کی جاتی ہے۔

فیلیسی: عشق یا مذہبی جنون ؟ اور وہ بھی فسطائی مذہبی جنون ، اور وہ بھی سب سے خطرناک قسم کا ، ایران میں بہت سارے میں جو اس فسطائیت کو ناپسند کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ایران میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔

روح اللہ خمینی : نہیں یہ نا ہی مذہبی جنون ہے اور نہ ہی فسطائیت ہے ، میں ایک بار پھر سے یہ دہرانا چاہتا ہوں ، کہ یہ ان کا مجھ سے عشق ہے ، اور یہ مجھ سے عشق کرتے ہیں کیونکہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ میں ان کا خیال کرتا ہوں ، اور ان کے مفاد ہی میں اقدام کرتا ہوں اور کروں گا ، جیسا کہ اسلامی نظام لانا ، اسلام عدل و انصاف ہے ، ڈیکٹیٹر شِپ اسلام میں برا ہی عظیم گناہ ہے ، فسطائیت اور اسلام اک دوسرے کی بلکل ضد ہیں ، فسطائیت مغرب میں پروان چڑھتی ہے ، اسلامی تہذیب میں نہیں۔

فیلیسی :مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی بات سمجھ ہی نہیں رہے ، یا فسطائیت کا مطلب ہی نہیں سمجھ رہے ، میرا مطلب ہے کہ مشہور رحجان ، جیسا کہ ہمارے ہاں اٹلی میں جب میسولینی کیلئے لوگ نعرے لگاتے تھے اور ا یہاں ایران میں آپ کیلئے بھی لوگ نعرے لگاتے ہیں ، وہ میسولینی کو ھی فالو کرتے تھے ، اب یہاں یہ لوگ آپ کا حکم مانتے ہیں۔

روح اللہ خمینی : نہیں ، کیونکہ ہمارے لوگ مسلمان ہیں ، جن کو علماء نے روھانیت اور نیکی کی تربیت دی ہے ، فسطائیت یہاں تب ممکن ہوتی اگر شاہ یہاں واپس آجاتا یا پھر کمیونیسٹس آجاتے ، اور ہمیں ختم کر دیتے۔ میرے لیے نعرہ اصل میں آزادی اور ڈیماکریسی کیلئے نعرہ ہے۔

فیلیسی : ٹھیک پھر آئیں آزادی اور ڈیماکریسی پر بات کرتے ہیں ، قم میں آپ نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ یہ اسلامی حکومت سوچنے اور اظہار کی آزادی ہر کسی کو دے گی ، یہاں تک کمینوسٹس اور نسلی اقلیتوں کو بھی۔ لیکن یہ وعدہ پورا نہیں ہوا بلکہ اب کمینسٹس کو شیطان کی اولاد کہا جاتا ہے ، اور نسلی اقلیتوں کے سربراہان کو زمینی شیطان کہا گیا۔۔

روح اللہ خمینی : پہلے آپ خود کسی بات کی تصدیق کرتی ہیں اور پھر مجھ سے یہ توقع رکھتی ہیں کہ میں آپ کے بیان کی وضاحت کروں۔ آپ یہاں تک گمان کرتی ہیں کہ میں ان لوگوں کی منصوبہ بندی کی اجازت دوں گا جو اس ملک میں انکارکی اور کرپشن چاہتے ہیں۔ جیسا کہ آزادی اظہارِ رائے کا مطلب ملک میں کرپشن اور انارکی پھیلانا ہو۔ آپ کے سوال کے جواب میں نے پانچ مہینے صبر کیا ، ان لوگوں کو برداشت کیا جو ہمارے نظریے اور رائے کے خلاف ہیں۔ وہ مکمل آزادی تھے وہ جو کرنا چاہتے تھے ان کو آزادی تھی۔ میں نے یہاں تک کہ کامیونسٹس کو گفتگو اور ڈائیلاگ کیلئے بھی دعوت دی ، لیکن اس کے بدلے انہوں نے گندم کے کھیت جلا دئیے ، ایلکٹورل آفسس پر حملے کیے اور ڈائیلاک کی دعوت کا جوا اسلحے اور بندوقوں سے دیا۔ دراصل یہی تو وہ لوگ تھے جنہوں نے کردوں کے مسائل پیدا کیے ۔ پس ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ یہ ہماری دی ہوئی آزادی کو ہمارے ہی خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں تباہ کرنے کیلئے درپے ہیں۔ یہ آزادی نہیں چاہتے بلکہ اس حکومت کو تہہ و بالا کرنے کا لائسنس چاہتے ہیں ، اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ پچھلے رجیم اور مغربی قوتوں کی ایما پر یہ کر رہے تھے پس ہم نے ان پر پابندی لگا دی۔

۔

فیلیسی : مثال کے طور پر آپوزیشن کے اخبار پر پابندی لگانا ؟۔

روح اللہ خمینی : جیسا کہ میں نے تذکرہ کیا کہ وہ اخبار ” آئیندگان ” اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ جس کے صیہونیوں ( اسرائیلی سیاسی تحریک ) کے ساتھ تعلقات تھے ، ان ہی کے دئیے ہوئے لقموں اور نظریات اور منصوبوں پر یہ لوگ اس ملک میں فساد برپا کر رہے تھے۔ یہ لوگ پرانے رجیم کو واپس لانا چاہتے تھے ، جو کہ مغری قوتوں ( امریکہ اور برطانیہ ) کا نمک خوار اور آلہ کار تھا۔ اور یہ آزادی چھیننا نہیں ہے۔

( جاری ہے )

جسٹن سنو ۔

SHARE

LEAVE A REPLY