اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمادیا ہے کہ جو نفس پیدا ہوا ہے اس کو موت کا مزہ ضرور چکھنا ہے اور آخرمیں خود ملک الموت کوبھی موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ ہے اس زندگی کا لب ِ لباب۔جسے ہر شخص بھولے ہوئے ہے۔ اور دنیا میں اتنا ڈوبا ہوا ہے کہ اپنے یہاں آنے کا مقصد ہی فراموش کر بیٹھا ہے؟ جبکہ یہاں اللہ سبحانہ تعالیٰ کےہر ایک کو بھیجنے کامقصد یہ ہی تھا کہ وہ اپنے نیک اعمالوں کے ذریعہ اپنی کھوئی ہوئی جنت حاصل کرلے؟ لیکن ہم اصل مقصد بھول کر دنیا کو مقصد سمجھ بیٹھے۔ جبکہ مسلمان اور غیر مسلم کا فرق ہی یہ ہے کہ مسلمان عاقبت پر یقین رکھتا ہے؟ جبکہ غیر مسلم عاقبت پر یقین نہیں رکھتا۔ یقین کی اہمیت کیا ہے اس کی تاریخ میں مثال دیکھنا ہے،تو میدان ِ کربلا میں حضرت امام حسین ؑ کے آخری الفاظ پڑھ لیجئے۔ جب شمر نے کہا کہ آپ کے لیئے سب کچھ حاضر ہے آپ یزید کے ہاتھ پر بیعت کیوں نہیں کر لیتے ؟انہوں ؑ نے جواب میں الزا مات کی وہ لمبی چوڑی فہرست نہیں دی جو ہم منبر سے روز سنتے ہیں؟فرمایا تو صرف ایک جملہ فرمایا فرمایا کہ “ میں اس کے ہاتھ میں کیسے اپنا ہاتھ دیدوں جو عاقبت پر یقین نہیں رکھتا “ اس سے ثابت یہ ہوا کہ عاقبت پر یقین رکھنا ہی اصل اسلام ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قر آن میں دنیا کی تخلیق کامقصد ہی یہ فرمایا ہے کہ“ میں نے دنیا بنائی ہی اسی لیئے ہے کہ حشر کے دن میں فیصلہ کروں کہ کو ن اپنے نیک اعمالوں کی وجہ سے جنت کا مستحق ہے اور کون دوزخ کا؟ اور مومنو! کے اعمال کا وزن بڑھانے والی جو چیز ہے وہ ہے خلوص؟ آپ الجھ جا ئیں گے کہ آخر یہ خلوص کیا ہےاور اس کی ضرورت کیوں ہے؟ خلوص وہ کیفیت ہے جوکہ کوئی بھی نیک کام کرتے ہو ئے اس کےکرتے وقت کرنے والے کے قلب کی ہوتی ہے۔ اگر وہ خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیئے کرنے والے نے کیا ہے۔ تو چھوٹا سا عمل بھی بہت وزنی ہوگا۔ اور کسی اور مقصد کے لیے کیا ہے، مثلا ً دکھاوے کے لیئے کہ مخلوق واہ واہ کرے؟ تو اس کا کوئی وزن ہی نہیں ہوگا۔کیونکہ وزن جو ہے وہ اللہ اپنے ذاتی علم پر طے کریگا۔ جبکہ اس کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی فرشتوں کے پاس لکھی ہوگی۔ مگر خلوص کے بغیر ترازو کا پلڑا ہوا میں معلق ہوگا؟ بلکہ بعض اعمال تو اس کے منہ پر پہلے ہی مارے جا چکے ہونگے جوکہ خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیئے نہیں ہونگے یا مال َ حرام سے ہونگے؟اس کے لیئے آپ حضرت البرا ء بن عازبؓ کی مشہور اورطویل ترین حدیث دیکھ لیجئے جوکہ بہت سے صفحات پر مشتمل ہے۔ میں اسے یہاں نقل نہیں کرسکتا کہ یہاں اتنی گنجائش ہی نہیں ہے؟ دوسرے آجکل جو فیشن چل گیا ہے کہ لوگ کہدیں گے کہ یہ تو حدیث ہے؟قرآن سے سند لائیے چاہے انہوں نے زندگی بھر نہ حدیث پڑھی ہو نہ ہی قرآن کو دیکھا ہو؟ اور انہیں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ اسلام کے ارکان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرسکتے بغیر حضور ﷺ کے اتباع کے جو کہ ہر قدم پر درکار ہے۔ اس میں نماز، روزہ، زکات،حج اور قربانی سب کچھ شامل ہیں۔ اس کے توڑ کے لیئے میں نے بات بجا ئے حدیث سے شروع کرنے کے صرف قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دیکر جس سے کہ حضورﷺ کے اسوہ حسنہ کی اہمیت واضح ہوجا ئے گی پیش کی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ“ تمہارے لیئے تمہارے نبی ﷺکااسوہ حسنہ نمونہ ہے “(سورہ الاحزاب آیت نمبر 21) اب میں اپنی بات کو آگے بڑھاتا ہوں۔ کہ “ کہہ دیجئے موت جس سے تم بھاگتے پھرتے ہو وہ تمہارے سامنے آکر رہے گی اور تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے اللہ کے طرف پیش کیئے جاؤگے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں سب بتائے گا(الجمہ آیت نمبر 8) دوسری آیت ً“ بھلاجو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو فاسق ہو, دونوں برابر نہیں ہوسکتے(السجدہ آیت 18 )تیسری آیت “ جولوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ان کو ان جیسا کردیں گے جو ایمان لا ئے اور نیک عمل کرتے رہے (اور) ان کی موت اور زندگی یکساں ہوگی جو دعوے کرتے (ہیں)برے کرتے ہیں (الجاثیہ آیت 21) چوتھی آیت “ (انکی کفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کے جانیں نکالتے ہیں (جبکہ یہ کفر اور شرک سے پاک ہوتے ہیں)تو سلام کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ جو تم نیک عمل کیا کرتے تھے ان کے بدلے بہشت میں داخل ہوجا ؤ(النحل 36) پانچویں آیت۔۔۔۔کاش تم ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کواسوقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا)ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لیئے ہاتھ بڑھارہے ہوں کہ “ نکالو اپنی جانیں،آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جا ئیگی اس لیئے کہ تم اللہ پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔(الانعام93) جز۔ چھٹی آیت “ اورکاش تم اس وقت کی (کیفیت) دیکھتے جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (ہتھوڑے اور کوڑے مارتے ہیں)اور کہتے ہیں (اب)عزاب ِ آتش کا مزہ چکھو(الانفال آیت 50) ان آیتوں کا لب لباب پیش کرنے کے لئیے یہ دو آیتیں مزید پیش کرتا ہوں جوکہ سورہ طہ کی آیات نمبر 47 اور48 ہیں۔ جن کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ دراصل سلامتی اس کے لیئے ہے جو ہدایت کا پابند ہوجا ئے اور عذاب اس کے لئیے ہے جو نافر مانی کرے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اس کے بعد بھی کوئی گنجا ئش رہ جاتی ہے؟ روزانہ آپ دیکھتے ہی نہیں بلکہ ان میتوں کندھا دیتے ہیں جو کل تک زندہ تھے۔ پھر بھی یقین نہیں آتا کہ ہر ایک کو مرنا ہےاور اس کے سامنے پیش ہونا ہے۔ ایک ہی سلسلہ ہے ایک ہی دین ہے اور ایک ہی خدائی کا دعوے دار ہے جو آدم ؑ سے لیکر خاتم النبین ﷺ تک اپنے نمائندے ہماری رہنمائی کے لیئے بھیجتا چلا آرہا کیا کسی دوسرے نے آج تک دعویٰ خدائی نہیں کیا ؟ جب کہ کوئی دوسرا ہے ہی نہیں تو کس کی پناہ میں جانا چاہتے ہو بہتر یہ ہی ہے کہ موت سے پہلے اس کے ہوجا ؤ۔ ورنہ تمہارے پلہ میں سوائے بچھتاوے کچھ نہیں ہوگا۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے (آمین)
میں اپنے اس مضمون کو اپنے اس قطع پر ختم کرتا ہو ع
موت سے ہے کسی کو فرار نہیں مگرکیجئے اس کا انتظار نہیں
نیک کاموں میں دیر مت کیجئے کیا رب سے اپنے ہے پیار نہیں













