پوچھنا نہیں خبردار,عالم آرا

0
559

آندھی کا رُخ سندھ کی طرف مُڑ گیا ہے ۔ہر طرف سے شور و غوغا بپا ہے کہ تم نے ہماری دولت کے بارے میں پوچھنے کی ہمت کیسے کی ،ہم جو اعلیٰ خاندان سے ہیں ۔ہم جنہیں بارہ خون معاف ہیں ،ہماری طرف تم آئے کیسے ؟۔ ساری پی پی پی طریقئہ کار پر تنقید کر رہی ہے ۔خواتین کی دُہائی دی جارہی ہے ۔ کہتے ہیں کہ تلاشی لیتے ہوئے سارے کاغزات کنگھال ڈالے ،پوچھا کہ تہہ خانہ ہے کہ نہیں ہے ۔اور یہ باتیں خواتین سے بدسلوکی گردانی گئیں ۔ہمیں نہیں پتہ کیا گزری مگر جب خواتین اہلکار بھی موجود تھیں پھر کیسی تکلیف ۔کیا کبھی باقی ملزموں کے گھروں کی تلاشی کی ویڈیو کبھی کسی کو دکھائی ہے جہاں نہ بچوں کی تمیز کی جاتی ہے نہ بڑوں بوڑھوں کی کیونکہ وہ عام آدمی ہوتے ہیں عوام ہوتے ہیں ۔ہم تو سوچ رہے تھے اتنا لمبا وقت نیب نے لیا ہے تو شاید کہیں دیواروں سے بھی کچھ مال بر آمد کر لیں کہ ہم نے اکثر تلاشی میں دیواروں سے دَھن نکلتے بھی دیکھا ہے جسے گننے کے لئے بھی مشینیں چاہئیں تھیں لیکن وہ سب کہاں گیا اور اُن پر کیا گزری جن کے پاس سے یہ مال بر آمد ہوا تھا کوئی خبر نہیں ۔
جن اسپیکر کو پکڑا گیا کہا جاتا ہے کہ اُن کا خاندان انتہائی معزز خاندان ہے ہمیں کوئی شک و شبہ نہیں لیکن ایک مثال یہ بھی سامنے ہے کہ اولیاء کے گھر شیطان اور شیطان کے گھر اولیاء پیدا ہوسکتا ہے اب اس بات کو کسی بھی غلط طرف نہ لیا جائے ہم ایک مثال لکھ رہے ہیں ۔یہ دیکھیں کہ ہو کیا رہا ہے ۔ہم اپنے آباء و اجداد کے پیچھے چھپ نہیں سکتے اور نہ ہی ہمارے سیاست دانوں کی اس بات سے متفق ہیں کہ کوئی تین دفعہ کا وزیرِ اعظم ہے یا کسی بڑے کی اولاد ہے تو اُسے بارہ خون معاف ہیں ۔ہم نے اب تک اسی روئیے کی وجہ سے چھوٹ دی ہے، ہر لوٹنے والے کو، مگر اب ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔کہتے ہیں ہماری عزت مجروح ہوتی ہے ،،اور تم نے جو عوام کی عزت لوٹی اُس کا جواب کون دے گا ؟ آپ سے تو پوچھ گچھ بھی جرم بن جاتی ہے کہ کیوں پوچھا کہ ہم نے کیسے کھایا ۔اور عوام کے منہ کا نوالہ تک آپ لوگوں نے چھین لیا لیکن اپنے عیش میں کوئی کمی نہیں کی ۔
کہا گیا کہ عورتوں ۔چادر اور چار دیواری کی بے توقیری کی گئی ۔عورتوں کو یہاں تک پہنچایا کس نے ؟ کیوں آپ نے بیٹی ،بہن ،بیوی، ماں کے ناموں پر دولت بنائی بھی اور چھپائی بھی پھر جب وہ پھنستی ہیں تو آپ وا ویلا مچاتے ہو کہاں ہیں آپ کے ضمیر ۔کیوں سُلا دیا ہے اُنہیں ۔کیا آپ کو یاد نہیں کہ جرم کسی سے بھی ہو کوئی معافی نہیں ہے جب میرے پیارے نبی ہزاروں درود لاکھوں سلام آپ کی پیاری ذات پر فرماتے ہیں مفہوم کہ اگر فاطمہ بنتِ محمد بھی چوری کرے تو سزا وہ ہی ہے جو ایک عام انسان کی پھر عورتیں کیسے بری الزمہ ہونگی اپنے الزم سے ۔اور جب آپ نے اُنکی آڑ میں اپنا پیسہ چھپایا ہے تو یہ کیسی بات ہے کہ عورتوں کو کسی بھی پوچھ گچھ میں شامل نہ کیا جائے ۔
خورشید شاپہ صاحب نے ٹھیک کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ کبھی نہیں ہو ا؟؟ در اصل بات یہ ہی ہے شاہ صاحب کہ تبدیلی آرہی ہے ۔اور آپ سارے ان ہوش رُبا باتوں کے عادی ہی نہیں ہیں آپ تو حکم دینے اور دولت کےانبار حاصل کر نے کے عادی ہیں آپ کو پاکستان کی یہ روشن تاریخ کیسے بھائے گی ۔آپ کو عادت ہے حکم دینے کی بلڈرز کے ساتھ مل کر ملکی زمین کو بیچنے کی مال بنانے کی اور اُسے چھپانے کی ۔آپ سارے جو ایک دوسرے کے ساتھی بنتے ہیں بلا جواز تو نہیں بنتے ۔۔۔
اسی طرح گاڑیوں کا مژدہ سنایا جاتا ہے کہ دسیوں گاڑیاں نکلی ہیں ۔کہاں جاتی ہیں ہمیں پتہ نہیں ۔کہیں ویڈیو میں وزیرِ تعلیم پنجاب سابق والے پیسہ لیتے دکھائی دیتے ہیں کیا بنا ،خبر نہیں ؟ ہماری اتنی سی التجا ہے کہ جب آپ یہ ساری باتیں میڈیا پر لاتے ہیں تو اب اُن کا انجام بھی بتایا کریں کہ کیا ہوا کتنا آپ نے واپس لیا اور کس خزانے میں جمع کیا ۔کیونکہ ان تمام دولتوں کے باوجود ہمارا خزانہ خالی کا خالی ہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پِس پِس کر کہیں کا نہیں رہا ۔
ہمارا اِس حکومت کو ایک مشورہ ہے ۔۔۔۔ اگر آپ کھانے پینے کا سامان روزمرہ غریب کے استعمال کی چیزیں سستی کردیں کسی بھی طرح ،،،تو شاید بہت بڑا سکون ملے گا عوام کو کہ کم از کم آٹا دال تو مئیسر ہے گھی تیل چینی تو خرید سکتے ہیں بچوں کو دودھ تو پلا سکتے ہیں ۔باقی چیزیں جو عیش و عشرت میں استعمال ہوتی ہیں انہیں جتنا چاہے مہنگا کر دیں ہم کچھ نہیں کہینگے ۔اور امیر کے پاس اس ملک میں اتنا پیسہ ہے کہ وہ صرف ہماری آڑ لے کر وا ویلا مچاتا ہے اُسے مہنگائی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔وہاں کی بیگمات اور صاحب حضرات کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ چنا کس بھاؤ بِک رہا ہے ۔کیونکہ پہلے تو لوگ چنے کھا کر بھی گزارا کر لیتے تھے مگرانہوں نے ملک کو اتنا لوٹ لیا ہے کہ چنے کھانا بھی ایک مشکل بات ہے ۔جس ملک میں بے حسی اتنی بڑھا دی جائے وہاں حس بیدار ہوتے ہوتے وقت تو لگے گا مگر کچھ کام اگر جلدی اور اہمیت دے کر کر دئے جائیں تو باقی کاموں کے لئے آسانی ہو جائیگی ۔
ہم سب ہی جانتے ہیں کہ خرابی کو ٹھیک کرنا بہت وقت بھی لیتا ہے اور مشکل بھی ہے مگر جب آپ ہمت کر لیں اور ٹھان لیں کہ کام کرنا ہے تو پھر کوئی رکاوٹ رکاوٹ نہیں رہتی صرف اور صرف کام کی اہمیت سمجھنا لازم ہے ۔جو کام عوام کے لئے کرنے ہیں انہیں پہلے کریں پھر باقی طرف دیکھیں ۔ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ بیرونی دشمنوں سے زیادہ اندرونی دشمن نقصان پہنچاتے ہیں لیکن انہیں سب کے سامنے لانا بھی سب سے پہلا کام ہونا چاہئے ۔مصلحتوں میں نہ پڑیں کام کریں اور صحیح سمت میں کریں وقت کی اہمیت سمجھیں صرف وزیرِ اعظم کے کرنے سے ہر کام نہیں ہوگا پوری ٹیم کو کھڑ اہونا ہوگا آپس کے اختلاف بھلا کر متحد ہوں کہ اتحاد ہی سب سے بڑی ضرورت ہے اس وقت کی جب کھلا دشمن بھی متحرک ہے اور چھپا دشمن بھی ۔
نیب نے پھر کوئی ثبوت پیش نہ کیا اور شھباز شھباز رہے،، لاہور ہائی کورٹ کے شھباز رہے ۔اب چاہے شوکاز لیں یا نہ لیں ہمیں تو نیتیں بھی ٹھیک نہیں لگتیں اور حرکتیں بھی جائز نہیں لگتیں ۔بہتر ہے کہ سب کو معاف کر دیں ملک اب تک بھی اللہ نے چلایا ہے اور آگے بھی وہ ہی رحیم و کریم رب چلائیگا ۔مگر ہم سب کو ہی اپپنے اعمال کا سامنا کرنا پڑے گا ۔کیونکہ ہماری سمت ایمانداری اور سچائی نہیں ہے بلکہ دوستیاں اور مصلحتیں ہیں ۔ہم ملک سے وفا داری کریں نہ کریں شخصیات سے وفا داری لازمی ہے جو ہمیں نظر بھی آتی ہے ۔اور ہمیں آگے بھی بڑھنے نہیں دیتی انصاف کا رستہ بھی روکتی ہے اور سچائی کی بھی تضحیک کی جاتی ہے ۔نیب کو چاہئے کہ عدالتوں میں اچھے اور غیر جانبدار لوگ بھیجیں ورنہ سارے ثبوت سب کے سامنے رکھیں تاکہ سب کو پتہ چلے کہ ہو کیا رہا ہے ۔؟
کہتے ہیں کہ ایک شخص کا ھارٹ کا آپریشن ہوا ہے اُسے علاج کی ضرورت ہے اور علاج صرف وہ ہی کر سکتا ہے جس نے آپریشن کیا تھا ۔ہمارا سوال ہے کہ اگر وہ ڈاکٹر دنیا سے چلا جائے تو کیا ہوگا ۔دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت صرف اِن بڑوں کے لئے ہے عام آدمی عام ملزم کیا انسان نہیں ہے کہ ساری ہمدردیاں صرف ہمارے ان لٹیروں کے لئے ہیں ۔اور اگر انہوں نے ملک کے ساتھ ظلم نہیں کیا تو سب کو چاہئے کہ کُھل کر بات کریں ۔اور جو یہ روز روز کا ڈرامہ ہے اسے بند کریں ۔اسپتال میں ان لوگوں کی ملاقات بھی ہو تب بھی عام مریض دھکے کھاتا ہے کیونکہ ظلِ الیٰہی کی صاحبزادی ملنے آتی ہیں ۔کیسا مزاق ہے اسے ختم کریں ۔اگر یہ حکومت بھی اسی طرح چلے گی تو ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ۔ہم تو یہ ہی سمجھ نہیں پاتے کہ دنیا میں کسی ملک میں اس طرح ملزموں کو عزت نہیں دی جاتی جس طرح ہمارے ملک میں ۔۔
اللہ ہم سب کو عقل اور سمجھ عطا فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY