پاکستان کے صوبے کے پی کے کی ہشت پہلو شخصیت اور قلم کار نصرت نسیم کی تحریروں کے مجموعے ۔۔۔کہکشاں میرے خوابوں کی۔۔ کا اجرا گیارہ مارچ ٢٠٢٠بروز بدھ ایبٹ آباد میں ہوا جس میں منتخب مدعو کردہ خواتین وحضرات نے شرکت کی۔ اس موقع پر مہمانوں کے ہال کو نفاست اور خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔

تقریب کا آغاز شمائلہ نے کیا اور اسٹیج پر شاہین اشرف علی۔نصرت نسیم اور عالمی اخبار کے مدیر اعلی لندن سے تشریف لائے جناب صفدر ھمدانی کو مدعو کیا۔ آغاز تقریب تلاوت کلام سے ہوا جس کی سعادت بنارسی صاحب کو حاصل ہوئی جبکہ نعت رسول مشعل زہرا نے پیش کی
اسکے بعد باقی ماندہ تقریب کی نظامت کے لیئےشمائلہ نے مائیک شاہین اشرف علی کے سپرد کیا جنہوں نے اپنے مخصوص انداز میں تقریب کے آخر تک نظامت کی
تقریب سے ستارہ فرید،صبا،مہوش،فاظمہ زہرا،نسیم صاحب، جناب اطہر،اشرف علی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا جنہوں نے سب سے پہلے نصرت نسیم کو انکی کتاب کے اجرا پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ انکی یہ تصنیف پڑھنے والوں میں مقبول ہو گی

تقریب کے مہمان خصوصی لندن سے تشریف لائے عالمی اخبار کے مدیر اعلی اور شاعر و ادیب و ماہر نشریات صفرر ھمدانی نے اپنے خطاب میں نصرت نسیم کی قلم کاری کے اوصاف بیان کیئے اور کہا کہ یہ فخر عالمی اخبار کو حاصل ہے کہ اس مجموعے میں شامل نصرت نسیم کی تمام تحاریر عالمی اخبار میں ہی شائع ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے معاشرے میں جہاں کُتب بینی دم توڑ چکی ہے نصرت نسیم جیسے لوگوں کا لکھنا اور پھر کتاب کو شائع بھی کروانا ایک جہاد ہے
شاہین اشرف علی نے نصرت نسیم کو انکی کتاب کی اشاعت پر دلی مبارکباد دی اور انکے لیئے کہی ہوئی اپنی نظم پیش کی
عروج فصل بہاراں نصیب ھو نصرت
شمیم گل کی طرح سے قریب ھو فطرت
تیرے قلم کو روانی عطا، کرے قدرت
یہ تیرے خواب سحر کی حسین سی صورت
یہ کہکشاں بھی ھےنصرت تمھارے خوابوں کی
اسی کتاب میں شامل مہک گلابوں کی
حسین لفظوں کے آھنگ کا، سمندر ھو
ںشگفتہ گل کی طرح لفظ بھی معطر ہوں،
کتاب اور قلم سے سجے ھوئے گھر ہوں
جمال فکر سے روشن تمھارے تیور ہوں
دبئی میں مقیم نصرت نسیم کی بیٹی عائشہ کا پیغام جو واٹس ایپ پر موصول ہوا حاضرین کو سنایا گیا جنہوں نے ایک ماں اور لکھاری کے طور پر والدہ کی تحسین کی
تقریب کے اختتام پر صاحب کتاب نصرت نسیم نے تقریب میں آنے والے شرکا کا دلی شکریہ ادا کیا اور عالمی اخبار کو یہ اعزاز دیا کہ انکے مجموعے کی تحاریر اس موقر آن لائن روزنامے میں شائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے قلمی سفر میں اپنے اہل خانہ خاص طور پر اپنے شوہر نسیم صاحب کی اعانت کا شکریہ ادا کیا
انکا کہنا تھا کہ وہ جو کچھ لکھتی ہیں وہ شہرت کے لیئے نہیں بلکہ ایک مشن کے تحت لکھتی ہیں

تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو گلدستے پہش کیئے گئے اورتقریب کے شرکا کی عشایئے سے تواضع کی گئی اور اس طرح یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی
شاہین اشرف علی













