یہ ایک محاورہ ہے ۔جو بہت کچھ حقیقت بتاتا ہے ۔کہ جو کچھ پکائو گے وہ ہی چمچے سے نکالوگے ۔اآج کل جو کچھ پَک رہا ہے وہ اس قابل ہی نہیں کہ اُس کا زکر کچھ اچھائی کے ساتھ کیا جاسکے مگر مجبوری ہے کہ سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کا وطیرہ ہم نے چھوڑ ہی دیا ہے ۔اور اگر کچھ ازہان اِس طرف آتے بھی ہیں تو اُن کا ایسا مذاق اُڑایا جاتا ہے کہ بس ۔
پہلے اسمبلیوں سے تعلیم کو ختم کیا گیا قانون بنا شاید کہ ڈگری ضروری نہیں کیونکہ جب ڈگریوں کی شرط تھی تو لوگ جعلی ڈگریاں لے کر اسمبلی میں پہنچ گئے ۔سزا وار وہ ٹھرے جنہوں نے وہ ڈگریاں خریدیں یا بنوائیں لیکن کوئی بھی بیچنے والا یا دینے والا کبھی پکڑ میں نہیں آیا اور نہ ہی انہیں پکڑنے کی کوشش کی گئی ۔کیونکہ اگر انہیں پکڑ لیا جاتا تو شاید یہ کاروبار ہی ختم ہو جاتا ۔اور ہمارے بڑے کسی ایسے کاروبار کو بند کرنا ہی نہیں چاہتے جس سے خرابی پھیلانے والوں کی کمی ملک میں واقع ہو ؟؟

اَب سُنتے ہیں کہ یہ قانون لایا جا رہا ہے کہ باسٹھ تریسٹھ کو ختم کیا جائے ،نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ۔اور ہم بھی بہت اطمینان سے ہو گئے یہ خبر سُن کر کہ چلو روز روز کی جِھک جِھک سے تو جان چھوٹے گی ۔جب سچ سننا ہے نہ سچ بولنا ہے تو پھر جو بھی ہوتا رہے حکومت کسی طرح بھی چلے کوئی بھی چلائے ہمیں کیا ؟ اب کونسے ایمنداری کے ڈھول پِٹ رہے ہیں جو باسٹھ تریسٹھ کے ختم ہونے سے خاموش ہو جائینگے ۔عوام تو اب بھی ننگے بھوکے ہیں جب شاید اور مُشکل میں آجائینگے اور بَھر جائینگے بینک غیر ممالک کے ہماری دولت سے ۔کیونکہ کوئی پوچھ ہی نہیں ہوگی ۔پوچھ تو اب بھی نہیں ہے جو بھی کرپشن اور جھوٹ کے خلاف اُٹھتا ہے اُسے چَھٹی کا دودھ یاد دلا دیا جاتا ہے اپنے حواریوں کےزریعے ۔

ساری پارٹیاں ایک اُبھرتی پارٹی کو دبانے کے چکر میں ہیں کیونکہ اُس میں کچھ لوگ برائیوں کے خلاف اُٹھنا چاہتے ہیں اُس کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں ۔اچھی باتوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں ،بھلا یہ سب کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے جب ہانڈی میں قورمہ پکایا جا رہا ہو بے ایمانی کا تو دال کیسے نکالی جاسکتی ہےایمانداری کی ۔جو لوگ دال پر بھروسہ کرنے کو کہینگے وہ تو عقل سے عاری ہی سمجھے جائینگے ۔انصاف نام ہی لوگوں کے لئے بھول بھلیاں ہے ،

لیکن اگر ہمت اور استقانمت سے کھڑا ہوا جائے تو یہ جھوٹ اور بے ایمانی کی دیواریں ریت کا ڈھیر بن سکتی ہیں صرف اور صرف انصاف کرنا چاہئے بیچ کی راہ ہمیشہ غلط ہوتی ہے جو کمزور کرتی ہے سوچوں کو ،بدلنے کی طاقت کو ،کھڑا ہونے کے عظم کو ،اچھا بننے کی خواہش کو ۔قومی وقار کو ،ٹکرا جانے کی ہمت کو اور بدل جانے کی صلاحیت کو ۔اگر ہم میں تھوڑا بہت بھی شعور باقی ہے تو ہمیں اچھے برے کو سمجھنا ہوگا ۔اپنے لئے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے اُن کے مستقبل کے لئے ۔اُن کی اآزاد زہنیت کے لئے ،اُن کے سامنے بڑھتے اور پھیلتے خطروں کے لئے ۔کہ جب ہم پر وقت پڑتا ہے خدانخواستہ تو کوئی بھی آگے نہیں آتا ساری دُنیا صرف اور صرف دیکھتی ہے کہ ہم پر کیا گزر رہی ہے ۔وہ چاہتی ہے کہ ہم کمزور ہوں اُن کے ہاتھوں میں کھیلیں جیسے ہمارے لیڈر کھیلتے ہیں ۔مگر کاش ہماری نئی نسل اپنی شناخت کو قائم رکھے ، شخصیت پرستی سے بچے ،

ہم سب ہی کو سوچنا ہوگا کہ بے ایمانی کی ہانڈی سے ایمانداری نہیں نکالی جا سکتی ۔کرپشن کی ہانڈی سے حق حلال کی کمائی نہیں نکالی جا سکتی ۔جھوٹ کی ہانڈی سے سچ نہیں نکلے گا ،غلط بیانی کی ہانڈی میں حق نہیں پکے گا ۔ بد تہذیبی کی ہانڈی سے تہذیب نہیں نکالی جا سکتی ۔راستے موجود ہیں ایک بار صفائی کی ٹھان لی جائے تو وارے کے نیارے ہو سکتے ہیں ۔کوئی ایک دِل کِڑا کر کے کود پڑے آتشِ نمرود میں تو اُجالا ہی اُجالا ہے لیکن اگر مصلحتوں کی ہانڈی پکی تو پھر اللہ ہی حافظ ہے کہ منزل چل کر نہیں آتی کسی کی طرف ،جانا پڑتا ہے منزل کی طرف راہ کی تمام تر سعوبتوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے ،اور جب راہ اس قدر پُر خار ہو تو منزل پر صرف دامن سمیٹ کر چلنے والے ہی پہنچتے ہیں ۔اِس لئے ہم سب کو ہی اپنے دامن سمیٹنے ہونگے کہ ہر اُس خار سے بچ سکیں جو راہ میں آئے ۔معاملہ مشکل ہے اور وقت کَڑا ۔مگر سچ کی طلب اور حق کی تلاش مصلحتیں دیکھتی ہے نہ رکاوٹیں ۔اب اگر سچ کی ہانڈی پکانے کے بارے میں سوچا ہے تو اِس پر صدقِ دِل سے عمل بھی کرنا ہوگا ورنہ قوم تو بہت بار ایسے مراحل سے گزری ہے اور ہر مقدمے پر پھر ہاتھ مُٹھی لے کر الگ ہو جاتی ہے یا پھر بے اعتباری کا ایسا کڑا طوفان آتا ہے جس نے ہمیں آج کل بھی لپیٹا ہوا ہے کیونکہ ہماری ڈوئی میں کچھ بھی اچھا نہیں نکل رہا ۔بے اعتباری کمزور کرتی ہے اس لئے اعتماد بحال کرنے کے لئے حق کو کھوج نکالیں کہ یہ ہی اصل منزل ہے اور یہ ہی حق کی راہ ۔جو دنیا میں ہے وہ یہیں رہ جانا ہے ساتھ جانے ہیں صرف اور صرف اعمال ۔ہو شیار باش ۔

اللہ میرے ملک کی حفاظت فرمائے آمین

عالم آرا

SHARE

LEAVE A REPLY