سعودی عرب میں عملی طور پر کاروبار حکومت شہزادہ سلمان چلا رہے ہیں جنہوں نے اختیارات لینے کے بعد ملک میں ایسی ایسی تبدیلیاں کی ہیں کہ دنیا حیران ہو رہی ہے

ملک میں جو تازہ ترین تبدیلی رونما ہو رہی ہے اسکے مطابقریاض کے ایک معروف ھوٹل میں ویلنٹائن ڈے کی بھرپور تیاریاں
ھو رھی ھیں ۔
ایک زمانہ تھا کہ مملکت میں محبت جیسی خرافات کی کوئی گنجائش نہیں تھی مگراب وقت بدل رھا ھے ترجیحات بدل رھی ہیں
انداز بدل رھے ہیں عید الحب کی تیاریاں شروع ھوگئی ہیں اور ساڑھے چھ سوڈالر کے عوض اس ھوٹل میں کمرہ بک کرایا جاسکتاہے یہ وھی ھوٹل ھے جہاں امریکی صدر نے بھی قیام کیا تھا

ایک اور اہم تبدیلی کہ سعودیہ میںآئندہ خواتین سے پوچھ گچھ کا کام لیڈی انسپکٹرز ہی کیا کریں گی۔

قانونی اور شرعی امور میں مہارت حاصل کرنے والی خواتین کو انسپکٹرز کے طور پر تعینات کیا جاسکے گا۔

سعودی وکیل خاتون نورہ السلامہ نے’سبق‘ ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مملکت میں لیڈی انسپکٹر کے طور پر کام کرنے کی اہل خواتین موجود ہیں انہیں تربیتی کورس کرانا ہوگا۔

شریعت اور قانون کے شعبوں سے فارغ ہونے والی خواتین بھی اس میں حصہ لے سکتی ہیں اور سعودی عرب نیز غیرملکی جامعات سے فوجداری کے قانون میں ایم اے پاس خواتین کو بھی انسپکٹر کے طور پر تعینات کیا جاسکے گا۔

السلامہ نے مذکورہ فیصلے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد زندگی کے مختلف شعبوں میں سعودی خواتین کو اپنی خدمات فراہم کرنے کا موقع دینا ہے۔

لیڈی انسپکٹرز کا دائرہ کار خواتین کے مقدمات تک محدود نہیں رہے گا جہاں تک زیر حراست خواتین کی نجی حیثیت کی پاسبانی کا معاملہ ہے تو فوجداری نظام کی کارروائی اور لڑکیوں کی نگہداشت کرنے والے اداروں کے قوانین اس کی بہترین ضمانت ہیں۔

ایک اور وکیل خاتون احلام الشہرانی نے کہاکہ یہ بہت بڑا اقدام ہے۔ اس سے عدلیہ میں خواتین کو مزید تحفظ حاصل ہوگا۔ ملزم خاتون لیڈی انسپکٹرز کے ساتھ کھل کر گفتگو کرسکتی ہے۔

اس سے قبل سعودی خاتون نے اس میدان میں کبھی قدم نہیں رکھا

سعودی حکومت نے ملک کی سب سے بڑی آئل کمپنی ’ارامکو‘ کے ڈھانچے میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اس کے کچھ شیئر پرائیویٹائز کرنے کا ایک سنجیدہ قدم اٹھایا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری گزٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کے 60 ارب ریال کے منافع کی مکمل ادائیگی کی جا چکی ہے۔ کمپنی کے 2 کھرب ریال عمومی حصص مساوی ووٹنگ رائٹس غیرنامزد قدر کے تقسیم کیے گئے ہیں۔

ارامکو کے حوالے سے حکومت کی تبدیلی کی ابتدائی معلومات کے مطابق کمپنی کو 11 رکنی ایک انتظامی کونسل چلائے گی، کونسل کی مدت تین سال ہو گی جس کے بعد نئی کونسل عمل میں لائی جائے گی۔

انتظامی کونسل کے چھ ارکان کا انتخاب براہ راست حکومت کرے گی، کسی دوسرے شیئر ہولڈر کا غیر سرکاری ہولڈنگ گروپ کی ملکیت میں زیادہ سے زیادہ صفراعشارہ 1 فی صد شیئر ہوں گے۔

کونسل کے پاس کمپنی کو علاقائی اورعالمی مارکیٹوں میں شمولیت کا اختیار ہو گا

آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی عالمی کمپنیوں ’کریم‘ اور ’اوبر‘ نے سعودی عرب میں خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کا آغاز کردیا۔

دونوں کمپنیوں نے خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کے پروگرام کا آغاز سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کےفیصلے کے بعد کیا۔

خیال رہے کہ سعودی حکومت نے گزشتہ برس ستمبر میں پہلی بار خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی تھی۔

حکومتی منصوبے کے تحت جون 2018 تک خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کردیے جائیں گے، جس کے بعد وہ گاڑیاں چلا سکیں گی۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے اپنی خبر میں بتایا کہ خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت ملنے کے بعد ’اوبر‘ اور ’کریم‘ نے عورت ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے مختلف شہروں میں ٹریننگ سیشنز کا آغاز کردیا۔

’کریم‘ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ’ریاض، جدہ اور الخوبر‘ میں خواتین ڈرائیورز کی بھرتی کے لیے 90 منٹ کے ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کیا، جس دوران سیکڑوں خواتین کو سرٹیفائڈ کرلیا گیا۔

ان سیشنز کے دوران ان خواتین کی ڈرائیونگ کے لیے تصدیق کی گئی، جن خواتین کے پاس پہلے ہی ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا۔

ان خواتین نے بیرون ممالک میں رہائش کے دوران ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر رکھے تھے۔

سعودی عرب میں ’کریم‘ کی چیف پرائیویسی آفیسر عبداللہ الیاس کے مطابق انہیں ہزاروں خواتین پہلے ہی ڈرائیونگ کے لیے درخواست دے چکی ہیں۔
عبداللہ الیاس کے مطابق ان کی کمپنی جون 2018 تک 10 ہزار خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ادھر سعودی عرب میں ’اوبر‘ کے جنرل مینیجر زید ہریس کے مطابق ان کی کمپنی نے بھی خواتین کو بھرتی کرنے کے حوالے سے ملک کے مختلف شہروں میں سیشنز کا انعقاد کیا۔

زید ہریس کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی بھی خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرے گی، تاکہ خواتین صارفین کو محفوظ اور آرامدہ سفر کی سہولیات پہنچائی جاسکیں۔

دونوں کمپنیوں کے مطابق ان کے خواتین صارفین کی تعداد مردوں کے مقابلے کہیں زیادہ ہے، جب کہ دونوں کمپنیوں کے پاس اس وقت صرف مرد ڈرائیورز خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
’اوبر‘ اور ’کریم‘ کے مطابق ان کے زیادہ تر مرد ڈرائیورز کا تعلق سعودی عرب سے ہی ہے، جو اپنی گاڑیوں کے ذریعے اپنی مالی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس وقت سعودی عرب کی 80 فیصد خواتین اپنی سفری سہولیات کے لیے امریکی کمپنی’اوبر‘ جب کہ 70 فیصد خواتین دبئی کی کمپنی ’کریم‘ کی سروس استعمال کرتی ہیں۔

’کریم‘ اس وقت سعودی عرب، مشرق وسطیٰ و افریقی ممالک اور پاکستان سمیت دنیا کے 13 ممالک میں کام کر رہی ہے۔

جب کہ ’اوبر‘ بھی سعودی عرب، پاکستان، مشرقی وسطی و افریقی ممالک سمیت یورپ و امریکی ممالک میں بھی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔

سعودی عرب میں حکومت کی جانب سے مملکت میں خواتین پر ڈرائیونگ پر عائد پابندی کو ہٹانے کے تاریخی فیصلے کے بعد اب کہا ہے کہ خواتین ٹرک اور موٹرسائیکل چلانے کے قابل ہوجائیں گی۔

رواں سال ستمبر میں فرمانروا شاہ سلمان اگلے سال جون سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دیتے ہوئے عائد پابندی ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا جو سعودی عرب کا جدید ریاست کی جانب سفر کا ایک حصہ ہے۔

سعودی عرب کے ڈائریکٹوریٹ آف ٹریفک نے عائد پابندی کو ہٹانے کے بعد نئے قوانین کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہاں، ہم خواتین کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت دیں گے’ اور اسی طرح ٹرک چلانے کی بھی اجازت ہوگی جو حکومت کی جانب سے ڈرائیونگ میں خواتین اور مردوں کے حقوق کو برابر کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خواتین کی کاروں کو کوئی مخصوص پلیٹ نمبر لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا لیکن جو خواتین ڈرائیونگ کے دوران حادثات یا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوں گی ان سے معاملات طے کرنے کے خاص سینٹر ہوں جن کو صرف خواتین ہی چلائیں گی۔

یاد رہے کہ سعودی عرب دنیا بھر میں واحد ملک تھا جہاں پر خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد تھی اور اس کو پوری دنیا میں خیلیجی ممالک میں خواتین کے ظلم کو علامتی طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

سعودی عرب کی جانب سے اگلے سال جون میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی ہٹانے کے فیصلے کو ملک کے اندر اور بیرونی دنیا میں بھی سراہا جارہا ہے جو خواتین کارکنوں کی جانب سے دہائیوں کی جدوجہد کے بعد سامنے آیا ہے جبکہ کئی خواتین کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

رواں سال ستمبر میں سعودی عرب کے 87ویں قومی دن کے موقع پر اسٹیڈیم میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کے لیے خواتین کو پہلی مرتبہ اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔

سعودی عرب میں قومی دن کے سلسلے میں دارالحکومت ریاض میں کنگ فہد انٹرنیشنل اسٹیڈیم سمیت پورے ملک میں تقریبات منعقد ہوئیں جن کا مقصد قومی جوش و جذبے کو بڑھانا تھا۔

بحیرہ احمر کے ساحلوں پر واقع شہر جدہ میں ایک میوزیکل کنسرٹ منعقد کیا گیا تھا جہاں سعودی عرب کے 11 موسیقاروں نے شرکت کی تھی جبکہ اس موقع پر روایتی رقص کا مظاہرہ کیا گیا اور علاقے میں شاندار آتش بازی کی گئی

اتین کے لئے سجائے گئے ایک کنسرٹ کی منظر کشی ہے۔

ریاض کے کنگ فہد کلچرل سینٹر میں لبنانی گلوکارہ حبا تواجی نے جب پرفارمنس شروع کی تو ہزاروں خواتین کا مجمع جھوم اٹھا۔

نوجوان لڑکیاں اور خواتین سیلین ڈی یون، وٹنی ہیوسٹن کے ساتھ ساتھ عربی گانوں پر بھی بھرپور طریقے سے انجوائے کرتی دکھائی دیں۔

فرانسیسی خبرایجنسی اے ایف پی کے مطابق کانسرٹ کی میزبان نے حبا تواجی کو اسٹیج پرمدعو کرتے ہوئے اسے سعودی عرب کے لئے قابل فخر لمحہ قرار دیا۔

کانسرٹ کے دوران فیشن ایبل ملبوسات پہنے خواتین اس یادگار تقریب کو اپنے اسمارٹ فونز میں ویڈیوز اور تصاویرکی شکل میں محفوظ کرتی رہیں۔

کانسرٹ کے دوران خواتین پر مبنی مجمع نے حبا تواجی کو ان کی شاندار پرفارمنس پر کبھی زوردار تالیوں سے تو کبھی کھڑے ہو کر اور آوازیں لگا کر بھرپور داد دی۔

کامیاب اور تاریخی کانسرٹ کے بعد حبا تواجی بھی اپنی خوشی اور جذبات کو چھپا نہیں سکیں۔ انہوں نے کانسرٹ کے بعد ٹوئٹ میں اسے اپنی زندگی کا ناقابل فراموش تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کانسرٹ سے ظاہر ہو گیا کہ موسیقی لوگوں کے لئے ایک مثبت پیغام ہے۔

جب لبنانی گلوکارہ حبا تواجی نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ فہد ثقافتی مرکز پر اپنی پرفارمنس شروع کی تو صرف خواتین پر مبنی شائقین کی جانب سے ان کی زبردست پذیرائی ہوئی۔

خواتین کے لیے کانسرٹ سعودی عرب میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب میں مختلف بین الاقوامی گلوکاروں کے کنسرٹس بھی منعقد کئے گئے۔

آئندہ سال سعودی عرب میں خواتین نہ صرف گاڑی چلا سکیں گی بلکہ کھیلوں کے میدانوں میں بھی جاسکیں گی

شاہین اشرف علی۔ کویت

SHARE

LEAVE A REPLY