پچھلے برس کی طرح اس بار بھی ہمارے یونٹ میں رمضان المبارک کے احترام میں تمام مسلمان مریضوں ، نرسوں اور ڈاکٹروں کو سہولیات فراہم کی گئیں ۔ مریض ہوسپٹل کی بجائے فارمیسی سے افطار کے بعد دوا لے سکتے تھے ۔ نرسوں اور ڈاکٹرز کے کاموں میں سب ہاتھ بٹایا کرتے تھے ۔ پچھلی بار صرف لنڈا نے ہمارے ساتھ روزہ رکھا تھا اور اس دن کو “مسلم ڈے “ قرار دیا تھا ۔۔ روزہ رکھنے سے پہلے اس نے رمضان کے بارے میں ساری ضروری معلومات حاصل کر لی تھیں اور بڑی خوشی خوشی ہمیں سنا رہی تھی ۔ اس دفعہ اس نے ابھی تک کچھ نا کہا تھا اس لیئے میرا خیال تھا کہ یونٹ میں میرے علاوہ نفیسہ اور ہیڈلا ہی روزہ دارہونگے ۔ پرجوجینا ، لنڈا اور جین نے چار جون ، پیر کے دن روزہ رکھ کر ہم سب کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے “مسلم ڈے “ منایا ۔۔
پورا دن اپنے اپنے کام مکمل کرنے میں بیت گیا ۔ جب بھی کہیں موقعہ ملتا ان سے پوچھ لیتی کہ روزہ کیسا گزر رہا ہے اور ہر بار پہلے سے زیادہ توانا جواب مجھے سرشار کر دیتا ۔ افطار پانچ بج کر پانچ منٹپر تھا ۔ ہم سب یونٹ کے کچن روم میں جمع افطار کے انتظار میں تھے ۔ حیرت اس وقت ہوئی جب لنڈا نے کھجوروں کا ڈبہ اور کھجوروں کا رول سامنے میز پر رکھ دیا اور بڑی محبت سے بولی “آج افطار اس کی طرف سے ہے “ ۔ پچھلی بار یہ سعادت مجھے ملی تھی ۔ اس بار لنڈا بازی لے گئی ۔ ہم سب کے لئے جوجینا نے فروٹو کا بندوبست کیا ہوا تھا ۔ افطار کے بعد ہم لوگ پچھلی بار کی طرح لاکیمبا کی ہیلڈن سٹریٹ پر کھانا کھانے چلے گئے ۔

پہلے روزے سے ہی لاکیمبا کی ہیلڈن سٹریٹ ، اسٹریٹ فوڈ کی وجہ سے سڈنی کی مین اٹریکشن بنی ہوئی تھی ۔۔ لبنانی ، عراقی ، افغانی ، پاکستانی کھانوں کے اسٹالز سٹریٹ کے دونوں طرف سجے چاند رات کا منظر پیش کر رہے تھے ۔ کشمیری چائے کے ساتھ قیمہ بھرے سموسے کھاتے ہوئے نفیسہ اور میں نے جوجینا ، جین اور لنڈا کو چاند رات کے بارے میں بتایا تو سب ہی چاند رات کو دیکھنے کی تمنا میں بیتاب ہو گئے پر تمام مسلمان اسٹاف کے ڈیوٹی پر نا ہونے سے کام کی زیادتی کی وجہ سے منسوخ کر دیا اور اگلے سال کے لئے ایڈونچر رکھ دیا ۔ ہم سب نے وہاں تین گھنٹوں میں کیا کچھ نہیں کھایا ۔۔ پر جو بات “کیمل برگر “ کی تھی وہ کسی کھانے میں نا تھی ۔
مسلم ڈے کی شان میں نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کئی حدیثیں پوسٹر پر جا بجا لکھی ہویئں تھیں جنہیں لوگ رک رک کر پڑھ رہے تھے ۔ جوجینا کو ایک حدیث نے مہبوت کر دیا جس میں حضور پاک ص سے کسی نے پوچھا تھا ” مجھ پر کس کا حق زیادہ ہے ۔ حضور پاک نے دو بار فرمایا “تمہای ماں کا “اور تیسری بار کہا “تمہارے باپ کا” ۔۔” ساتھ ہی نفیسہ نے ماں کے قدموں تلے جنت کی نوید بھی سنا دی تو وہ اور بھی حیران رہ گئی ۔ اس کے بعد جانے کتنے اور موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ۔۔ جوجینا ، لنڈا اور جین نے اعتراف کیا صرف ایک دن کے روزے نے انہیں بھوک ، پیاس اور غربت کے احساس سے دوچار کئے رکھا ۔ اور انہیں سوچنے پر مجبور کر دیا کہ لوگ اس کیفیت میں کیا کیا سوچ سکتے ہیں ۔ بعد میں اسی احساس کو سامنے رکھتے ہوئے سیرین پناہ گزینوں کے لئے چیرٹی میں پیسے بھی دیئے ۔
میری طرح سب ہی کہہ رہے تھے جب تک ہم ایک دوسرے کو کشادہ دلی سے نہیں سنیں گے، قریب سے نہیں دیکھیں گے اس وقت تک ایک دوسرے کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ۔۔ مسلم امہ کا دوسرے ادیان کے لوگوں کو چھوت سمجھ کر دور دور سے ان پر لگا شدت پسندی کے داغ نہیں مٹ سکتا ۔۔ اور پھر بہت کچھ اور بھی اسی تناظر میں مچال کے طور پر سب ہی نے رائے دی ۔
یوں خوشیوں بھرا ، پاکیزہ محبتوں والا “مسلم ڈے “ اگلے سال تک ہم سب کے لئے ایک یادگار وقت بن گیا ۔۔
ڈاکٹر نگہت نسیم













