ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ امریکی حملے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی ہیں، امریکا نے ایرانی ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر معاہدےکی خلاف ورزی کی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی افواج نےامریکی حملوں کے ردعمل میں امریکا سے منسلک اہداف پردفاعی کارروائیاں کیں، خلیج کے جنوبی ساحل پر واقع ممالک اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں جس کی امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کر دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک کمرشل جہاز پر حملے کے جواب میں امریکی افواج نے کارروائی کرتے ہوئے ایران پر فضائی حملہ کیا ہے۔
سینٹکام کے مطابق 25 جون کو ایران نے کمرشل جہاز پر ڈرون سے حملہ کیا، جس کے بعد امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹکام نے واضح کیا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ گزرگاہ کی فراہمی اور رابطہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی مکمل پابندی کو یقینی بنانے کے لیے امریکی فوج موجود اور چوکس رہے گی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے ساحلی شہر سیریک میں ایک گولا گرا ہے۔
اس سے پہلے امریکی ٹرمپ نے ممکنہ ردعمل کے سوال پر صحافیوں کو جواب دیا تھاکہ آپ کو خود پتہ چل جائے گا۔













