عہد حاضر میں کووڈ-۱۹ کی وبا، روس –یوکرین تنازعہ اور کچھ ترقی یافتہ ممالک کی تحفظ پسندانہ مالیاتی پالیسیوں نے بنی نوع انسان کو بہت سے مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ ان مسائل کے نمایاں اثرات کی وجہ سے خوراک، توانائی ، مالیات، پیداوار ، سپلائی چین اور ماحولیاتی عدم تحفظ سمیت کئی اہم خطرات نے سر اٹھا لیا ہے۔ان تمام خطرات کا مقابلہ باہمی تفہیم کو فروغ دیکر کیا جا سکتا ہے۔ ایسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے چین مسلسل اصلاحات کو فروغ دیتا رہتا ہے اور ہر علاقے کے مطابق ترقیاتی ماڈلز متعارف کرواتا ہے۔ چین کے صوبہ فوجیان میں اصلاحات و کھلے پن کے عمل نے لوگوں کی زندگیوں کو یکسر تبدیل کر دیا۔ وہاں کی اصلاحات کی کہانی بہت سے ممالک اور خطوں کے لیے قابل تقلید ہے۔
جون 1985 میں، شی جن پھنگ کو چین کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع فوجیان صوبے میں رہنما کے عہدے پر فائض کیا گیا۔ شی جن پھنگ نے فوجیان میں ساڑھے 17 سال تک خدمات سرانجام دیں۔ فوجیان چین کے کھلے پن کے سلسلے میں پیش پیش رہا ہے، لیکن یہ علاقہ بہت سے مسائل سے بھی دو چار تھا. فوجیان میں اپنے کام کے دوران، شی جن پھنگ نے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے، سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور اس علاقے کو بیرونی دنیا کے لیے کھولنے کے لیے کئی جدید اصلاحات کی قیادت کی۔
1980 کی دہائی میں، فوجیان کے کچھ علاقوں کے کسان غربت کا شکار تھے۔ اس وقت، فوجیان زرعی کالج میں لکڑی کے بجائے گھاس کے ساتھ خوردنی فنگس کاشت کرنے کے تجربے میں ایک اہم پیش رفت حاصل کی گئی ۔ “فنگس” اور “گھاس” کی کراس اسٹڈی کے ذریعے جن زاؤ ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا گیا ۔شی جن پھنگ نے اس تحقیقی کامیابی پر بڑی توجہ دی ۔ان کی ہدایت اور رہنمائی میں جلد ہی، یہ سائنسی کامیابی صوبہ فوجیان کے لیے غربت سے چھٹکارا پانے اور ماحولیاتی تحفظ حاصل کرنے میں مدد کرنے کا ایک مؤثر طریقہ بن گیا۔ جن زاؤ ٹیکنالوجی سے نہ صرف مقامی لوگوں کو اچھی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا گیا ، بلکہ اسے پورے ملک اور چین سے باہر بھی برآمد کیا گیا ، جس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوئے۔ جولائی 1997 میں، ایک چینی تکنیکی ماہر گروپ نے جن زاؤ ٹیکنالوجی کو پاپوا نیو گنی میں متعارف کروایا۔ 2017 میں، جن زاؤ ٹیکنالوجی کو اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی امور کے محکمے نے “چین-اقوام متحدہ امن اور ترقیاتی فنڈ” کے منصوبے میں شامل کیا تھا۔ آج چین کے صوبہ فوجیان سے جنم لیے والی جن زاؤ ٹیکنالوجی 106 ممالک میں پھیل چکی ہے۔ فجی اور روانڈا سمیت دنیا کے 13 ممالک میں اس سے متعلق تجرباتی مراکز قائم کیے گئے ہیں اور ہزاروں مقامی افراد کو جن زاؤ ٹیکنالوجی میں مہارتوں کی تربیت دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ جنوری 1989 میں شی جن پھنگ صوبہ فو جیان کے شہر نینگ دہ میں سی پی سی کے سربراہ تھے اور اس وقت انہوں نے ایک کتاب میں یہ تصور پیش کیا ہے کہ جنگلات آب وزر اور خوراک کے ذخائر ہیں۔ یہ تصور ان کے حیاتیاتی تحفظ کے نظریے کی بنیاد سمجھا جا سکتا ہے۔ان کی قیادت میں فو جیان میں جنگلات کے انتظامات سے متعلق اصلاحات کا آغاز کیا گیا ۔کئی برسوں کی کوشش کے بعد اس وقت کے فوجیان میں ماحولیاتی تحفظ کو بڑا فروغ ملا ۔وو پھنگ کاؤنٹی کی مثال لی جائے، تو سال 2017 میں اسےچین کے قدرتی “آکسیجن بار”کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا اور وہاں جنگلات کے رقبے کی شرح تقریباً اسی فیصد ہو چکی ہے، وہاں کے دیہات میں رہنے والے لوگ جنگلات میں مخصوص پودے لگا کر لکڑی کاٹے بغیر بھی پیسے کما سکتے ہیں ۔یوں وہاں کے جنگلات لوگوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے “سبز بینک” میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
شی جن پھنگ کی رہنمائی میں “ڈیجیٹل فوجیان” کی تعمیر کا عمل تیزی سے آگے بڑھا اور یہ علاقہ ڈیجیٹل ترقی کی راہ میں سب سے آگے رکھا ہے۔ 1990 کی دہائی میں عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ کی کمرشلائزیشن کا عمل شروع ہوا۔ یکم اکتوبر 2000 کو قومی دن سے قبل فوجیان صوبے کے گورنر شی جن پھنگ کو “ڈیجیٹل فوجیان” پروجیکٹ کی تجویز موصول ہوئی۔ معلومات کی گہری سمجھ اور دور اندیشی کے باعث، شی جن پھنگ نے ماہر وانگ چھن میِن کی تجویز کو بہت اہمیت دی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ “ڈیجیٹل فوجیان” کی تعمیر بہت اہمیت کی حامل ہے اور صوبائی حکومت اس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ شی جن پھنگ نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ صوبائی حکومت “ڈیجیٹل فوجیان” کی تعمیر کے لیے ایک رہنما گروپ تشکیل دے گی ،جس میں وہ خود رہنما گروپ کی سربراہی کریں گے۔ محض آدھے مہینے بعد، “ڈیجیٹل فوجیان” منصوبے کو صوبائی حکومت کے اگلے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے کے ڈرافٹ کا حصہ بنایا گیا ۔ 16 جنوری 2002 کو فوجیان کی صوبائی حکومت کے انفارمیشن نیٹ ورک کا آغاز ہوا۔2020 میں، فوجیان کی ڈیجیٹل معیشت کا پیمانہ 2 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا، جس کی شرح نمو 17.6فیصد ہے جو صوبے کے جی ڈی پی کا 45 فیصد سے زیادہ ہے۔
زبیر بشیر













