اآج کل جب ہم لکھنے بیٹھتےہیں تو ہمارا قلم بہت بھاری ہوتا ہے نہ صرف قلم بھاری ہوتا ہے بلکہ ہمارا دِل بھی بہت بھاری ہوتا ہے کہ خبریں ہی ایسی ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ غلط بیانی کو روئیں یا ہٹ دھرمی کا ماتم کریں ۔ایلیکشن ہوتے ہیں کوئی مقابل نہیں ہوتا سارے ووٹ ایک ہی صدر کو پڑ جاتے ہیں کیونکہ کوئی ہمت ہی نہیں کرتا کہ ہز ایکسی لینسی کے مقابل آسکے اور وہ مزید پانچ سال لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں داد تو دو ؟ واقعئی داد تو بنتی ہے ۔ کہتے ہیں بجلی سستی کردی ۔لوگ رَو رہے ہیں کہ بِل میں پچھتر فیصد اضافہ ہے کوئی بات نہیں داد تو دینی چاہئے ۔گیس کی لوڈ شیڈ نگ کی خوشخبری ہے داد تو ملنی چاہئے ۔ کرپشن کا الزام جس ثابت قدمی کے ساتھ جھٹلایا جا رہا ہے ۔اُس پر تو داد ہی نہیں ایوارڈ بھی ملنا چاہئے ۔ایک خبر نکالی گئی اور کوئی آج تک سامنے نہیں آیا پردہ پوشی کی بھی داد وصول کریں ۔اتنے لوگوں کے سامنے کہا گیا کہ اآلو بیس روپئے کلو ہو گئے ہیں لیکن میں قیمت میں پانچ روپئے اضافہ کر کے پچیس بتا رہا ہوں ، ہم ٹھٹک گئے کہ اچھا یہ ہی وجہ ہے کہ سارے منصوبے جو ملک میں چل رہے ہیں اپنی قیمت سے کہیں زیادہ ہیں ۔وہ پیسہ تو خیر کسی نہ کسی کھیسے میں جائیگا آلو بیچارہ تو لوٹ لوٹ کر اور گول ہوگیا کہ میں تو بَک رہا ہوں پچاس اور ساٹھ روپئے کلو مگر شاید جاتی عمرہ کا سبزی فروش اتنا سستا بیچ رہا ہو کہ وہاں سے پڑوسی ملک قریب ہے ۔ملک جس بحران سے گزر رہا ہے وہ نیا نہیں ہے کیونکہ یہ ہی حکومتیں باری باری آتی ہیں اور اپنا رنگ بکھیر کر چلی جاتی ہیں جیسا کہ ابھی سے دعوے ہورہے ہیں کہ اٹھارہ ہمارا ہے ۔بھائی اب تو سب ہی آپ کا ہے کہ حالات کچھ کرتے دکھائی نہیں دیتے اور جو کوئی کچھ کرنا چاہتا ہے اُس کے پیچھے یہ رُلی کُھلی عوام نہیں ہوتی کہ پیسہ بولتا ہے ؟

داد تو ہم اس بات کی بھی دیتے ہیں کہ جب بھی کوئی اہم مسئلہ اُٹھتا ہے کوئی نہ کوئی نیا شوشہ حکومت کی طرف سے آجاتا ہے اور سب کچھ پیچھے چلا جاتا ہے ۔ ہمیں میڈیا پر بھی غصہ آتا ہے کہ اُسے ان کی یہ حکمتِ عملی سمجھ میں کیوں نہیں آتی اور اگر آتی ہے تو یہ بھی بس پِٹھو ہی ہیں کہ جو گیند مارے سارے ہی لُڑک جاتے ہیں ۔اگر یہ اُن لوگوں کو گھاس نہ ڈالیں جو ملک دشمن اور ملک کے خلاف عمل پیرا ہیں تو وہ خود ہی کمزور پڑ جائینگے مگر ہماری حکومت ان تمام لوگوں پر ہاتھ رکھتی ہے تاکہ نبض ہاتھ میں رہے اور جیسے ہی بخار چڑھے قیمتی انجکشن لگا دیا جائے ،ہم یہاں بھی داد دیتے ہیں ۔اس بات کی بھی داد دیتے ہیں ایک اتنے بڑےمعاملے کو کہا گیا کہ ہم تو اس پر بات بھی کرنا پسند نہیں کرتے بالکل ٹھیک فرمایا جہاں اپنی سُبکی کی صورت نکل رہی ہو وہاں کیسے بات کی جاسکتی ہے ۔ساری قوم تزبزب کا شکار رہے، کوئی بات نہیں حاکموں کی دولت جمع رہنی چاہئے ،کہ یہ ہمارے سب سے بڑے ہمدرد اور بہی خواہ ہیں کہ کہتے ہیں ڈالر کے زخیرے میں اضافہ ہو رہا ہے بالکل ٹھیک کیونکہ ہمارا روپیہ تو آپ جیسے سارے ملک سے باہر لے گئے تو اب ڈالر ہی میں اضافہ ہوگاا کہ یہ ہی آپ کی کرنسی ہے ۔ہم داد دیتے ہیں ۔۔۔

ہمیں اُس وقت بڑی شرمند گی محسوس ہوتی ہے جب ہم لوگوں کو کرپشن کے خلاف بولتے نہیں دیکھتے ۔جس طرح حکومت کو بچایا جا رہا ہے یا حاکموں کو سایہ فراہم کیا جارہا ہے وہ بھی ایک دُکھ کی بات ہے کہ کردار وہیں ختم ہو جاتے ہیں جہاں آپ جھوٹ اور سچ کی تمیز کھو دیتے ہیں جہاں آپ حق اور انصاف سے ہاتھ اُٹھا لیتے ہیں جہاں آپ کی سوچ اور فائدہ صرف اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری تک محدود ہو جاتا ہے کہ ہمارے فرائض میں تو ہر برائی کو روندنے اور ہر غلط کو مٹانے کا عمل داخل ہے لیکن ہم نے خود کو اُس جواب طلبی سے مُبرا سمجھ لیا ہے جو عمرَ عزیز کے ختم ہونے پر ہر شخص پر لازم ہوگی جہاں نہ بیٹا باپ کا ہوگا نہ بیٹی ماں کی اور سب سے پہلے ساتھ چھوڑے گا یہ دَھن اور دولت کہ ہر ایک کا وقت مقرر ہے اور جس نے فائدہ اُٹھا لیا وہ ہی سُر خرو ہوگا ۔لیکن ہم نے تو کتابوں سے ناطہ ہی توڑ لیا ہے ۔

اقبال کو پڑھنا ہم نے چھوڑ دیا ،قائد محمد علی جناح کو ہم نہیں یاد کرتے ۔لیاقت علی کی مثال ہم نہیں سامنے رکھتے ۔ہمیں یاد رہتا ہے کہ اُس نے آکسفورڈ سے پڑھا ہے ،اُس نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی ہے وہ برطانیہ کا پڑھا لکھا ہے اور ہم جو علم کامنبہ رکھتے ہیں ،جس کے آگے تمام علم ہیچ ہیں وہ ان تمام باتوں سے مرعوب ہوتے اور اپنی تعلیم کو حاصل کرنا دقیانوسیت سمجھتے ہیں ہم نے ہمیشہ لکھا کہ وہ لوگ جو اپنی اقدار اور اپنے کرداروں سے جڑے رہتے ہیں نہ اپنی پہچان کھوتے ہیں اور نہ ہی کسی سے پیچھے رہتے ہیں ۔
کاش آج ہم واقعئی داد دے سکتے کہ دیکھو ہمارے وزیرِ اعظم نے اپنا احتساب کرایا خود کو صاف ستھرا کیا ۔ملک کے اسپتال ٹھیک کئے ،اسکول کالج بنائے ۔کرپشن ختم کی ۔ادارے مضبوط کئے ۔روشنیاں پھیلائیں مگر ہم صرف شرمندہ ہو سکتے ہیں کہ ہمارے وزیرِ اعظم خود کو صاف ستھرا نہ کر سکے ۔اس کرسی پر کوئی بھی ہوتا ہماری سوچ یہ ہی ہوتی کہ حق بات کرنے میں شخصیت کہیں نہیں ہوتی ۔اپنی کمزوریوں پر قابو پانا سب سے بڑا جہاد ہے ۔

اللہ میرے ملک کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY