ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی تحریک دوبارہ سرگرم ہو گئی، انتہا پسند تنظیموں نے ہندوؤں کو جمع ہونے کی کال دیدی، شہر میں نیم فوجی دستے اور اینٹی روئٹس فورسز تعینات کر دی گئیں۔
ایودھیا ایک بار پھرشدت پسندوں کی نشانے پر، رام مندر کی تعمیر کا جنون پھر سر چڑھ کر بولنے لگا۔ شیوسینا نے ہندوؤں کو شہر میں پہنچنے کی کال دیدی، انتہا پسند لیڈر اودھو ٹھاکرے نے اعلان کیا ہے کہ ایودھیا آنے کا واحد مقصد مندر کی تعمیر پر زور دینا ہے۔
پارٹی کے ہزاروں حامی بسوں اور خصوصی ٹرینوں سے ایودھیا پہنچ چکے ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ پوسٹر لگ گئے جن پر درج ہے پہلے مندر پھر حکومت۔
ایودھیا میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، پولیس، نیم فوجی دستے اور فساد شکن فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ وشو ہندو پریشد نے لاکھوں افراد کی آمد کی توقع ظاہر کی ہے۔
خیال رہے کہ 1992ء میں بھی بڑی تعداد انتہا پسند ہندو بے قابو ہو گئے تھے اور بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا۔ شہر کی انتظامیہ نے لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ صورتحال کنٹرول میں ہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم غیر ملکی میڈیا کے مطابق 3500 سے زائد مسلمان اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر چکے ہیں۔











