کراچی پھر لہو لہو ہے ۔نہ جانے ہمارے شہر کو کس کی نظر لگ گئی جوان خون اس شہر نے جتنا دیا ہے ملک میں شاید ہی کہیں اتنا جوان خون بہا ہو ،بلا کسی وجہ کے ۔پی ایس پی کے دو کارکن ۔اور اب ایم کیو ایم کے ایک جوان کارکن جو انتہائی تہزیب سے اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے اور اپنی سوچ کا اظہار کرتے تھے انہیں بھی جس طرح شھید کیا گیا ایک المیہ ہی ہے ۔نہ جانے ابھی ان لوگوں کو جو پاکستان کو سکون سے نہیں دیکھنا چاہتے اور کتنا خون درکار ہے ۔ہم تو ان خاندانوں سے صرف ہمدردی کا اظہار کر سکتے ہیں لیکن جن مشکلات کا سامنا انہیں ہوگا اُسے تو وہ خود ہی جانتے ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ اُن کی مشکلات کو حل فرما دے اآمین ۔
دوسری طرف بی بی کی برسی منائی گئی اور ہم اس پارٹی کے جوان لیڈر کی تقریر سُن کر سوچ میں پڑگئے کہ تقریر لکھنے والے نے یہ بھی نہ سوچا کہ وہ کیا لکھ کر دے رہا ہے یہ کیسے ملک سے پیار کرنے والے ہیں جنہیں اپنی سوچ پر بھی قابو نہیں ہے ۔یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ باتیں ان کے حق میں نہیں جاتیں بلکہ سوچنے والا طبقہ سوچتا ہے کہ کیا چاہتے ہیں ؟؟؟؟ ہم تو یہ لکھ کر دینے کو تیار ہیں کہ اگر بلاول صاحب سے تقریر میں لکھے کسی ایک جملے کا مطلب بھی پوچھا جائے تو وہ نہیں بتا سکینگے انہیں یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں کیا پیغام دیا ہے ۔زرداری صڈاحب اپنی باری کھیل چکے اب بلاول زرداری کو بھی اسی رنگ میں رنگنا چاہ رہے ہیں تو شاید نہیں جانتے کہ اب دو ہزار اٹھارہ ہے بلکہ اُنیس آگیا ہے ۔اب لوگ سوشل میڈیا کی بات کر رہے ہیں آپ کے منہ سے نکلا ایک لفظ لمحوں میں دنیا کے سامنے آجاتا ہے اور سوچنے والے سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا یہ ہیں ہمارے لیڈر کہلانے کے قابل لوگ ؟۔
بلاول صاحب نے جتنی باتیں پوچھیں جنہیں بہت سے تجزیہ نگاروں اور ٹی وی شوز کرنے والوں نے بڑھ چڑھ کر سنایا ۔کیا یہ وہ ساری باتیں نہیں تھیں جس کا جواب انہیں خود دینا چاہئے تھا کیونکہ پانچ سال حکومت انہوں نے کی اور پانچ سال دوست سے مل کر اُنکی حکومت کو چلوایا اور بقول زرداری صاحب کے انکے بغیر نون حکومت شل ہی نہیں سکتی تھی ۔کیا وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ مسائل جن کا زکر انہوں نے کیا کتنے حل کئے اُنکی لمبی حکومتوں میں، جو اس نو زائدہ حکومت سے جواب مانگ رہے تھے ؟؟؟ ہمیں بھی بہت سی باتوں ہپر تحفظات ہیں اس حکومت سے بھی لیکن ابھی پوچھنے یا اُن پر باز پُرس کرنے کا وقت نہیں ہے ،کہ زرا اس حکومت کو جوان تو ہونے دیں زرا چلنے تو دیں ۔ابھی تو اس نے کھڑا ہونا سیکھا ہے ۔اور اُس خار دار راہ کو صاف کر کے چلنا بہت مشکل کام ہوگا جو آپ کے والد صاحب اور انکل نواز چھوڑ کر گئے ہیں ۔بھٹو اور بی بی کا نام لینے والوں کو اب جاگ جانا چاہئے کہ اب صرف زرداری صاحب کے کارنامے سامنے ہیں اور پارٹی بھی اب زرداری صاحب کی ہی ہے ۔جس ڈگر پر انہوں نے پارٹی کو ڈال دیا ہے وہ ملک کے لئے کچھ نہ کر سکی بلکہ اپنے لئے بھی بس امارت اور دولت کا گڑھا ہی کھودا ہے ۔اگر یہ پارٹیاں ملک سے اور اس کے عوام سے مُخلص ہوتیں تو شاید آج پاکستان تعلیم اور صحت کے شعبے میں اتنا کمزور نہ ہوتا ۔کیونکہ ہمارے بچے جتنے زہین اور سمجھ دار ہیں دنیا میں شاید ہی کہیں ہوں لیکن ہم نے اُنہیں آگے نہیں آنے دیا جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں ۔
ہماری تو یہ سوچ ہے کہ اگر اب بھی ہم نے اپنے ملک کے جوانوں کو سیاست اور ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی طرف راغب نہ کیا انہیں اچھا ماحول اور اچھی سیاسی راہ نہ دی تو شاید ایک بہت بڑا بُحران ہوگا سیاسی قیادت کا ملک میں ۔۔کیونکہ موجودہ ماحول میں تو لوگ سیاست کا نام ہی سُن کر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں ،اور بات بھی ٹھیک ہے کہ سیاست ایک بڑی تعلیم ہے جسے ہم نے ملک کے لئے نہیں خاندانوں کے لئے رکھ چھوڑا ہے ۔یا پھر صرف اور صرف اپنا فائدہ لینے کے لئے ۔جب کہ میری سوچ ہے کہ سیاست میں صرف اُن لوگوں کو آنا چاہئے جوملک سے محبت رکھتے ہوں سچی محبت اور کام کرنا چاہتے ہوں دولت کے طلبگار ہوں نہ شہرت کے ۔کیونکہ آپ اچھا کام کریں گے لوگوں کے لئے جئیں گے شہرت آپ کو خود بہ خود مل جائیگی عزت خریدنے کی چیز نہیں ہے وہ عمل سے ملتی ہے چاہے کام چھوٹ ہو یا بڑا اگر اچھا ہے تو عزت خود بہ خود ملتی ہے کسی کے دینے سے یا پیسے سے حاصل نہیں ہوتی ۔
وقت ملا ہے تو اچھی سوچوں کو پروان چڑھاؤ بے شک وقت سخت بھی ہے اور کم بھی ،لیکن کام کرنے والوں کے لئے یہ رکاوٹیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں ۔ہمیں امید ہے کہ اب نئے لوگ کچھ نیا کام ضرور کرینگے جو ہمارے ملک کی تاریخ میں سنہرے حرفوں میں لکھا جائیگا ۔کیونکہ جو کچھ ملک میں ہورہا ہے وہ ایک روشنی ہی ہے جسے سب کو مل کر پھیلانا چاہئے کہ اب بہت ہو گیا ہم کسی کی باتوں میں نہیں آینگے بلکہ جو سچ ہے جو حق ہے اُس کا ساتھ دیں گے ۔
ہم اُن لوگوں پر بہت حیران ہیں جو اب بھی کرپشن کا خاتمہ نہیں چاہتے ،کیونکہ یہ ایک بہت اہم موقعہ ہے پی پی پی ،نون، اور باقی بھی سب پارٹیوں کے لئے کہ خود کو صاف ستھرا ثابت کریں ۔ہمیں اپنی عدلیہ سے امید ہے کہ وہ نا انصافی نہیں کرے گی ۔نہ بدلہ لے گی نہ انتقام کیونکہ جن کے دل میں اللہ کا خوف ہوتا ہے وہ ہر دَم ڈرتے ہیں اپنے رب سے کہ کہیں کوئی نا فر،مانی یا بے انصافی نہ ہو جائے ،ویسے تو دلوں کا حال اللہ کے علم میں ہے لیکن کچھ چیزیں انسان اپنی عقل سے بھی پرکھتا ہے ۔جو تبدیلی عدلیہ اور باقی اداروں میں آرہی ہے وہ نظر بھی آرہی ہے ۔انسانی اختیار میں جو کطھ ہے انسان وہ ہی کر سکتا ہے ۔
آج ہمیں ایک بات کی بہت خوشی ہوئی کہ ہم اپنے ملک میں کبھی ووٹ نہ ڈال پائے کیونکہ ہمیشہ ہی ہمارا ووٹ ڈل چکا ہوتا تھا ،اور ہم اپنا سا منہ لئے واپس آجاتے تھے ۔لیکن آج ہم شکر گزار ہیں ان لوگوں کے بھی جنہوں نے ہمیشہ ہمارا ووٹ ڈالا اور ہمیں اس تکلیف اور شرمندگی سے بچا لیا کہ ہم بھی یہ سوچتے کہ کاش ہم نے انہیں ووٹ نہ دیا ہوتا ،کیونکہ ملک کی تین بڑی پارٹیوں کا جو حشر ہم دیکھ رہے ہیں اُسے دیکھ کر ہمیں ایک ہی جملہ یاد آرہا ہے کہ “ دیکھو مجھے جو دیدئہ عبرت نگاہ ہو “۔لیکن ہمارے یہاں عبرت پکڑنے کی بھی کوئی تاریخ نہیں ملتی کیونکہ ہم اپنے تمام برے کاموں کو جائز اور صحیح مانتے ہیں ۔یہ احساس ہمیں اُن لوگوں کی باتیں سُن کر ہو رہا ہے جو نون اور پئ کی کرپشن کے بارے میں تاویلیں دیتے نظر آرہے ہیں ۔نون لیگ کے نرالے جس طرح نواز صاحب کے حق میں ٹی وی پر بیٹھ کر ثبوت دیتے اور اُن کے حق میں باتیں کرتے نظر آرہے ہیں وہ ہمیں اندر کہیں دَہلا دیتی ہے کہ ہم کس طرح برائی کی حمایت کر سکتے ہیں ۔ان سب سے ہمارا ایک سوال بھی ہے کہ کیا کوئی حاکم اپنے تمام پتے دکھا کر کھیلتا ہے ۔دوسری طرف جیالے سِر دھِڑ کی بازی لگا رہے ہیں کہ جو کچھ سامنے آیا ہے سب غلط ہے ۔ہم صرف محظوظ ہو رہے ہیں چیخیں سُن سُن کر ۔
کاش ہم ماضی سے نکل کر حال میں آئیں کہ نہ بے نظیر کا دور اب آئیگا نہ ہی بھٹو زندہ ہوگا بلکہ آپ نئے لوگ اپنے عمل سے باور کرائینگے کہ یہ لوگ اچھے تھے اور اچھائیاں چھوڑ گئیے ۔صرف اُن کو زندہ رکھنا ٹھیک نہیں اُن کے نقشِ قدم پر چلنا چاہئے تھا ۔نہ جانے ہم کب تک مردوں کو زندہ کرتے رہینگے اور زندوں کے حقوق سے کھیلتے رہینگے ۔
اللہ میرے ملک کے لوگوں کو اپنی امان میں رکھے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY