ہم نے گزشتہ مضمون میں بتایا تھا کہ آپ کس طرح عمل ِ صالح کریں تو آپکا پلڑا بھاری رہے گا؟ وہ کفیت دور ہوجائے گی جو علمائے کرام عمل صالح کر نے بعد بھی فر ماتے ہیں کہ اعمال قبول ہوئے یانہیں؟ اس کی بھی ضمانت اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ طہ اور آیت نمبر112میں دیدی ہے۔

اس آیت کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ اگر کوئی شخص ہو بھی مسلمان اور کام صالح کرے تو اس کا نامنظور ہونے کا خدشہ نہیں ہے“ البتہ اگر یہ شخص وہ شرطیں پوری نہیں کر رہا ہے جو ہم نے گزشتہ قسط میں بیان کی ہیں تو خطرہ ہے؟ اور اسے ڈرنا چاہیئے۔ لہذا یہ نوبت آنے ہی کیوں دے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے کسی بھی ضابطہ کی جس عمل سے خلاف ورزی ہورہی ہو وہ کرے ہی کیوں۔ جبکہ اس کا اہتمام اگر پہلے سے ہی کرلیا جائے جیسا کہ میں نے گزشتہ قسطوں میں بتلایا ہے تو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس طرح عمل کیجئے جیسے کہ بتایا گیا ہے اور بے دھڑک ہوکر سو جا ئیے۔

ہمارے ہاں اس لفظ کا بہت استعمال ہے کہ اللہ سے ڈرو؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ میں بندے کے لیئے ویسا ہی ہوں جیسا کہ بندہ میرے بارے میں گمان کر تا ہے۔اس ارشاد عالی میں ایک بہت ہی بڑی حقیقت پوشیدہ ہے لیکن سمجھنے والوں کے کہ ہر مسلمان کواپنا رکارڈ صاف رکھنا چاہیئے اسے ڈرنا نہیں چاہیئے؟ اس صورت میں اس کا گمان اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بارے میں انتہائی رحیم انتہائی مہربان کا ہوگا اپنے عمل ِ صالح کی بنا پر۔جس کے اعمال گندے ہوں وہ ڈرتا ہے اور اس کو ڈرنا چاہیئے اس لیئے کہ قرآن میں جہاں خوشخبری دی گئی ہے نیک اعمال پر، وہیں بتایا اور ڈرایا گیا ہے کہ میرا عذاب بھی سخت ہے۔ جیسے کہ سورہ ابراہیم کی آیت7 میں ہے۔ “اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دونگا۔اگر کفر (ناشکری) کروگے تو میرا عذاب بھی شدید ہے “ ہر مسلمان کو اللہ سبحانہ تعالیٰ سے پیار کرنا چاہیئے محبت کرنا چاہیئے۔

حضور ﷺنے ایک حدیث میں ارشاد فرمایااہے کہ ً“ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو تم اس طرح چاہو کہ لوگ تمہیں مجنوں کہیں“ ً کیونکہ فرمان عالی یہ بھی ہے کہ ً میں اپنے بندے پرستر ماؤں سے زیادہ مہربان ہو ں ً بندے کو چاہیئے کہ جس طرح کہ کوئی بچہ پسند نہیں کر تا کہ میری والدہ یا والد تک کوئی ایسی حرکت کرنے کی خبر پہنچے جوکہ ان کی نظروں سے مجھے گرادے خوار کردے؟مگر یہاں بندے کو اور زیادہ ہوشیار رہنا چاہیئے کہ یہاں فرق یہ ہے کہ ان کے پاس تو خبرکسی مخبر کے پہنچانے سے ہی پہنچتی ہے؟ مگر بندے کے بارےمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کے گناہ کا ارادہ کرنے سے پہلے ہی اس پر با خبر ہوجاتاہے جبکہ وہ اپنے ذہن می منصوبہ بناتا ہے۔

ہر مومن کا اگرایمان یہ ہو تو ناممکن ہے کہ وہ غلط کام کرے۔ اسکی حفاظت اللہ سبحانہ تعالیٰ خود کرتا ہے اور اس کا ضمیر اس کو روک دیتا ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہماری اکثریت زبان سے تو کہتی کہ اللہ خبیر ہے بصیر ہے حاضر ہے اور ناظر ہے۔ مگر دل کی گہرائیوں میں شیطان چھپا بیٹھا ہے وہ سبز باغ دکھا تا رہتا ہے۔ بات وہیں آجاتی ہے بقول علامہ اقبال مرحومؒ کے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں اس دوہری سوچ سے محفوظ رکھے۔آمین

SHARE

LEAVE A REPLY