نوجوان نسل کو شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ فلموں کاایک زمانہ وہ بھی تھا جب صرف اداکاری اور چہرے کے تاثرات سے ہی ناظرین کو محظوظ کرنا ہوتا تھا کیونکہ اس وقت تک ابھی ’’ بولتی فلمیں ‘‘ ایجاد نہیں ہوئی تھیں بلکہ یہ ’’ خاموش فلموں ‘‘ کا دور تھا۔ ذرہ تصور کیجئے کہ بغیر بولے دیکھنے والوں کو مطمئن کرناکس قدر کٹھن ہوتا ہو گا۔ اگرچہ فلموں کی شروعات جو ظاہر ہے ‘بے آواز’ تھیں۔
28دسمبر 1895ء کو فرانس سے ہوئی تھی لیکن بے آواز فلموں کو مقبولیت کی بلندیوں تک لے جانے میں ایک نام ایسا بھی تھا، ’’ بولتی فلمیں ‘‘ ایجاد ہونے کے باوجود بھی اس کی فلمیںبڑے شوق سے دیکھی جاتی تھیں اور وہ نام ہے چارلی چپلن کا۔ جو اپنی منفرد اداکاری کے باعث آج بھی روز اوّل کی طرح مقبولیت میں اپنا ایک مقام بنا ہوئے ہے۔
چارلی چپلن کویہ انفرادیت حاصل رہی کہ اس کے فلمی کرئیر کا دورانیہ مسلسل 75 سالوں پر محیط تھا۔ اس نے بچپن ہی سے برطانیہ کے معروف تھیٹروں اور موسیقی کے ہالوں میں اپنے فن کا سکہ جمائے رکھا۔ 16اپریل 1889 ، برطانیہ کے شہر لندن میں پیدا ہونے والا یہ منفرد فنکار نہ صرف ایک اداکار تھا بلکہ ہدایتکار ،نغمہ نگار ، موسیقار،کہانی نویس، آب بیتی نگار، کمپوزر، منظر نویس اور فلمسازبھی تھا۔ اس کا اصل نام چارلس سپینسر چپلن تھا۔ بنیادی طور پر فن اس کو ورثے میں ملا تھا۔ اس کا والد چارلس سپینسر چپلن ایک صدا کار اور اداکار تھا جبکہ اس کی والدہ ہیناہ سپینسر بھی ایک اداکارہ اور گلو کارہ تھیں۔ چارلی کی مشکلات کا آغاز 1894ء سے ہی شروع ہوگیا تھا جب یہ صرف پانچ سال کا تھا۔ اس کی ماں کو ذہنی عارضہ کے باعث کولسڈن کے ایک پاگل خانے میں داخل کرانا پڑا جس کے سبب چارلی کو مجبوری کی حالت میں جنوبی لندن کے ’’ لیمبیتھ ورک‘‘ ہاؤس منتقل ہونا پڑا۔
لیمبیتھ ہی میں 94۔فرنڈیل روڈ پر چارلی ’’دی ایٹ لنکا شائر بوئز ‘‘ کے ساتھ رہتا تھا۔یہ بنیادی طور پر رقاصوں اور گلو کاروں کا قائم کردہ گروپ تھا جو مختلف مقامات پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہتے تھے ، اس گروپ کے انچارج سترہ سالہ نوجوان جان ولئیم جیکسن سے چارلی کی دوستی ہو گئی اور یہیں سے چارلی کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا موقع ملا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایک طرف چارلی چپلن کے فن میں نکھار آتا گیا تو دوسری طرف اس کی شہرت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ جس کے سبب اس نے 1910ء میں ’’ فریڈ کارنو ‘‘ نامی طائفے کیساتھ پہلی مرتبہ امریکہ کا دورہ کیا جس نے اس کے فن کو جلا بخشی۔1919ء میں چارلی نے اپنے وقتوں کے معروف فنکاروں اور تخلیق کاروں ڈی ڈبلیو گرفتھ، میری پک فورڈ اور ڈگلس فیئر بنکس کے ساتھ ملکر ’’ یونائٹڈ آرٹسٹس ‘‘ نام سے ایک فلم سٹوڈیو کی بنیاد رکھی۔دسمبر1913 ء میں امریکی تھیٹرز اور فلم سٹوڈیوز کے نامور مالکان میک سنیٹ، منٹا ڈفری،میبل نورمنڈ اور فیٹی آربکل نے جب ایک موقع پر کارنو طائفہ میں چارلی کا ایک ڈرامہ دیکھا تو سنیٹ کے منہ سے بے اختیار نکلا، ’’ واہ بہت خوب ‘‘۔
چنانچہ سنیٹ نے ڈرامہ ختم ہوتے ہی چارلی کو اپنی ’ کسٹون فلم کمپنی ‘‘ میں بھرتی کی آفر دے ڈالی جسے چارلی نے فوراً قبول کر لیا۔ چارلی کو سنیٹ نے اپنی آنے والی زیر تکمیل فلم میں انتہائی اہم رول دیا۔ خاموش فلموں کے حوالے سے فروری 1914ء کے اوائل میں بننے والی میک سنیٹ کی مزاحیہ فلم ’’ کڈ آٹو ریسز ایٹ وینس ‘‘ سے چارلی کو جو شہرت ملی تھی اس نے راتوں رات چارلی کو فن کی ناقابل تسخیر بلندیوں پر لا کھڑا کیا۔ چارلی کے اس کردا ر کو اتنی پذیرائی ملی جس نے ہر طرف اس کی کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دئیے اور دیکھتے ہی دیکھتے ’’ دی ٹریمپ ‘‘ خاموش فلموں کی بین الاقوامی پہچان بن گیا۔’’دی ٹریمپ ‘‘ کا کردار بنیادی طور پر ایک ایسے آوارہ گرد نوجوان کا تھا جو بنیادی طور پر ایک بااخلاق ، شریف النفس اور پروقار شخصیت کا مالک تھا۔ چنانچہ اس کے کردار کی مناسبت سے فیٹی آربکل نے اسے اس کے اپنے سائز سے لمبی پتلون اور ایک ڈربی ٹوپی ، کانکلن نے اسے سائیڈ سے بڑے بڑے چاکوں والا لمبا سا چیسٹر نما کوٹ اور فورڈ نے اسے 14 نمبر کے لمبے سے جوتے پہننے کو دئیے۔ یہ جوتے اس قدربڑے اور کھلے تھے کہ چلتے ہوئے اس کے پاؤں سے نکل جاتے تھے ، جس کا حل اس نے یہ نکالا کہ دائیں جوتے میں اس نے بایاں پاؤں اور بائیں جوتے میں اس نے دایاں پاؤں ڈالا تاکہ یہ بار بار اترنہ سکیں۔ موچھوں کے لئے اس نے مصنوعی بالوں کو استعمال کیا البتہ لکڑی کی چھڑی اس کی اپنی تھی۔
رفتہ رفتہ خاموش فلموں کا دور اپنے اختتام کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ 1920ء خاموش فلموں کا اختتامی دور کہلایا جبکہ 1920ء ہی میں ٹاکی یعنی بولتی فلموں کے آغاز کا سال ٹھہرا۔ یہاں سب سے دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب 1920ء میں بولتی فلموں کا آغاز ہوا تو چارلی کو سب سے پہلے جس فلم کی آفر ہوئی اس میں اسے ’’ دی ٹریمپ‘‘ کے کردار کی پیش کش کی گئی جسے اس نے سختی سے رد کر دیا۔ اس کا موقف تھا کہ ’’ خاموش فلموں کے ساتھ ہی پرانے کرداروں کو بھی خاموش ہی رہنے دیں ‘‘۔
1931ء میں چارلی کو ’’ سٹی لائیٹس ‘‘ نامی جس فلم کی پیشکش ہوئی بنیادی طور وہ بھی بغیر مکالموں کے تھی لیکن فرق یہ تھا کہ چارلی نے اس فلم کوایک نئے اندازمیں پیش کیا۔دراصل کچھ فلمسازوں نے چارلی کو اس نقطے پر قائل کر لیا تھا کہ وہ اس فلم کو خاموش فلموں کی رخصتی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جس میں برائے نام مکالمے تھے۔اس فلم کے اختتام تک ’’ دی ٹریمپ ‘‘ کو خاموش دکھایاگیا تھا جو اپنے آخری سین میں ایک طویل سنسان سی سڑک پر افق کے پار جاتا دکھایا گیا تھا۔ جس کے لبوں پر ایک گیت ہوتا ہے۔دراصل یہ خاموش فلموں کی رخصتی اور بولتی فلموں کی شروعات کی علامت کے طور پردکھانامقصود تھا۔1973ء میں اس کی بیماری شدت اختیار کر چکی تھی جس کے باعث یہ رفتہ رفتہ بولنے اور چلنے پھرنے سے محروم ہو گیا۔ 25 دسمبر 1977 ء کو ان کا انتقال ہوا۔
لکھاری خاور نیازی سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی ادروں سے منسلک رہ چکے ہیں۔













