کائینات اور دنیا کا ارتقائی سفر۔حصہ سوئم۔ڈاکٹر نگہت

0
217

زمین کا تفصیلی تعارف؛

زمین پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 56.7 °سینٹی گریڈ اوسط 15 ° سینٹی گریڈ اور کم سے کم درجہ حرارت منفی 89.2 ° سینٹی گریڈ ہے. فضا میں ہوا کا دباؤ 101.325 کلو پاسکل ہے جو کہ زندگی کے لئے بہترین ہے.

رقبہ کے لحاظ سے سطح زمین کا تقریباً 71% نمکین پانی کے سمندر سےڈھکا ہے، باقی 29% میں براعظم اور جزائراور میٹھے پانی کی جھيلیں وغیرہ شامل ہیں. پانی ہی زندگی کی شروعات ہے اور پانی زندگی کی تمام اقسام کے لئے ضروری ہے جس کا فی الحال ہمارے نظام شمسی میں ہماری زمین کے علاوہ دیگر کسی سیارے کی سطح پر وجود معلوم نہیں ہے. براعظموں اور جزیروں پر موجود دریائی،نہری نظام اور پانی کے دوسرے ذخائر میں ہائیڈرو سفیر شامل ہوتے ہیں جبکہ سمندر کے پانی میں نمک شامل ہوتا ہے. زمین کے زیادہ تر حصے برف سے ڈھکے ہیں جس میں براعظم انٹارکٹکا کی ٹھوس برف اور برفیلا سمندری حصہ شامل ہے.

زمین کی کشش ثقل خلا میں مختلف عوامل سرانجام دیتی ہے خاص طور پر سورج کے گرد مدار میں گردش کرنا اور چاند کا زمین کے گرد گھومنا. زمین 366.26 بار اپنے محور میں گھوم کر 365.26 شمسی دن مکمل کرتی ہے.

زمین پر مختلف موسموں کی تشکیل اپنے گردشی محور کی سطح میں 23.4° ڈگری جھکاؤ کی وجہ سے ممکن ہوتے ہیں.زمین کی گھومنے کی اوسطاً رفتار 29.78 کلومیٹر فی سیکنڈ اور 107200 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے اپنے محور میں چکر کاٹ رہی ہے ایک مکمل چکر کو ہم ایک دن کہتے ہیں جبکہ زمین ہمارے سورج کے مدار میں گردش 365.256363004 دن میں چکر مکمل کرتی ہے جسے ہم سال کہتے ہیں.

زمین کی پہلی تخلیق تین اہم تہوں میں ہوئی ہے بھوپٹل ، بھوپراوار اور كروڈ کہتے ہیں . اس میں سے اندرونی پرت ( inner core ) مائع حالت میں ہے جسے لاوا کہتے ہیں لاوا ایک ٹھوس لوہے اور نکل کی پرت کے ساتھ عمل کرکے زمین میں مقناطیسیت یا مقناطیسی میدان (Gravity) پیدا کرتا ہے. زمین بیرونی خلا (outer space)، میں سورج اور چاند سمیت دیگر اشیاء کے ساتھ عمل کرتا ہے۔ زمین اپنے محور کا تقریباً 366.26 بار چکر کاٹتی ہے یہ وقت کی لمبائی ایک ناكشتر سال ( sidereal year ) ہے، جو 365.26 شمسی دن کے برابر ہے ۔

زمین کے گرد ایک قدرتی سیارہ ( چاند ) اور اکتوبر دو ہزار تیرہ تک زمین کے گرد 1070 مصنوعی تحقیقی سیارے اور 10 سینٹی میٹر کے 21,000 سے زیادہ ملبے کے ٹکڑے زمین کے گرد گردش کر رہے تھے. زمین کا ایک دن 86,400 سیکنڈز کا بنتا ہے ۔ انیسویں صدی کے مقابلے میں آج کا ایک زمینی دن تھوڑا زیادہ بڑا ہے، اس کی وجہ زمین کا جھکاؤ اور گھومنے کی رفتار ہے. ہر نیا دن 0 سے 2 شمسی ملی سیکنڈز پچھلے دن سے زیادہ طویل ہے.

زمین سے سورج تک فاصلہ 149,600,000کلومیٹر اور سورج سے زمین تک روشنی پہنچنے میں آٹھ منٹ لگتے ہیں. زمین سے چاند تک کا فاصلہ 384,000 کلومیٹر ہے ۔ زمین کا وزن 5.9736 × 1024 کلو گرام ہے جو کہ ہندسوں میں 5,973,600,000,000,000,000,000,000 کلوگرام یعنی 5.9 سکسٹیلئین ٹن وزن بنتا ہے، جبکہ سورج ہماری زمین سے 333,000 گنا زیادہ وزنی ہے.

زمین کی کشش ثقل 150,000,000 کلومیٹر کے فاصلے تک سورج کی سیاروں تک پہنچنے والی مقناطیسی کشش زیادہ طاقتور ہے. زمین کے اس ثقلی دائرے میں کوئی بھی چیز زمین کے گرد گھومے گی اس سے زیادہ فاصلے پر سورج کی قوت اس چیز کو زمین کی پہنچ سے دور لے جائے گی. ہماری زمین ملکی وے کہکشاں کے مرکز سے 28,000 نوری سال کے فاصلے پر ہے

چاند نے زمین کے محور میں 4.53 بلین سال پہلے اپنی شروعات کی تھی. یہ اپنی کشش ثقل کی وجہ سے سمندر میں لہریں پیدا کرتا ہے، اس کے جھکاؤ کو مستحکم رکھتا ہے اور آہستہ آہستہ زمین کے گھومنے کی رفتار کو سست کرتا ہے.

زلزلے اور طوفانوں‌ کا طلسم

زمین کی ابتدائی تاریخ میں چاند خلا میں تیرتا ہوا ہماری زمین سے ٹکرا گیا جس سے زمین کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گیا، چاند زمین کی کشش ثقل کی قوت سے زمین کے گرد گھومنے لگا جب کے ٹکراؤ سے زمین پر ٹوٹنے والا حصہ پانی سے بھر گیا جسے ہم آج سمندر کہتے ہیں. زمین کی اندرونی ساخت تہوں کے صورت میں ہے جیسے پیاز کے چھلکے تہوں کے طور پر ہوتے ہیں. ان تہوں کی موٹائی کیمیائی خصوصیات یا میکانی خصوصیات کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے. زمین کی اوپری تہہ بھوپرپٹي ایک ٹھوس پرت ہے، انٹرمیڈیٹ میٹل انتہائی گاڑھی پرت ہے، بیرونی كروڈ مائع اور اندرونی كروڈ ٹھوس حالت میں ہے.

زمین کی اندرونی ساخت کے بارے میں معلومات کا ذرائع کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے. براہ راست ذریعہ، جیسے آتش فشاں سے نکلے لاوا کا مطالعہ، معدنیات سے حاصل شدہ اعداد و شمار وغیرہ، کم گہرائی تک ہی معلومات فراہم کر پاتے ہیں. دوسری طرف بالواسطہ ذریعہ کے طور پر زلزلے کی لہروں کا مطالعہ زیادہ گہرائی کی خصوصیات کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے.

زمین کے اوپری حصے کی یہ پرت دار ساخت، زلزلے کی لہرے اسی پرت کی وجہ سے ہوتی ہیں جسے ہم ٹیکٹانکس پلیٹ کہتے ہیں.

اس وقت تک کی آٹھ اہم پلیٹوں کے ممالک کی فہرست یہ ہے.

شمالی امریکہ پلیٹ – شمالی امریکہ، مغربی اتر بحر اوقیانوس اور گرین لینڈ
جنوبی امریکی پلیٹ – جنوبی امریکہ اور مغربی جنوبی بحر اوقیانوس
انٹارکٹکا پلیٹ – انٹارکٹیکا اور “جنوبی اوقیانوس”
ایشیائی پلیٹ – مشرقی بحر اوقیانوس، یورپ اور بھارت کے علاوہ ایشیا
افریقی پلیٹ – افریقہ، مشرقی جنوبی بحر اوقیانوس اور مغربی بحر ہند
ہندوستانی پلیٹ –
آسٹریلیا پلیٹ – بھارت، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور بحر ہند کے زیادہ تر
ناجكا پلیٹ – مشرقی بحر اوقیانوس سے ملحقہ جنوبی امریکہ
پیسیفک پلیٹ – بحر اوقیانوس کے سب سے زیادہ (اور کیلی فورنیا کے جنوبی کنارے

یہ ٹیکٹانکس پلیٹس زمین کے حصوں کو تبدیل کرتی رہتی ہے جس کی وجہ سے زمین کی شروعاتی تاریخ کے ثبوت تباہ ہو چکے ہے. زمین کی عمر 4.5 ارب سال سے لے کر 4.6 ارب سال ہے لیکن زمین کی سب سے پرانی چٹان 4 ارب سال پرانی ہے، 3 ارب سال سے پرانی چٹانیں اس وقت موجود نہیں اور نہ ہی زمین کے شروع کے وقت کے کوئی ثبوت موجود ہیں.

زمین جہاں پر برف گرتی ہے ؛

زمین پر برف کے دور آغاز 40 ملین ( 400 لاکھ سال) سال قبل شروع ہوا. زمین اگلے 500 ملین سال سے 2.3 ارب سال تک زندگی کے لئے موزوں ہے.

زمین کا مستقبل

ایک اشارعیہ ایک ارب سال بعد سورج کے اندرون میں ہیلئیم کی کمی ہو جائے گی اور سورج کے حجم میں 10% فیصد تک اضافہ ہو جائے گا ، یوں اگلے 3.5 ارب سال بعد سورج کے حجم میں 40% فیصد تک اضافہ ہو جائے گا، زمین پر آکسیجن بنانے والے عوامل ختم ہو جائیں گے جس سے جانور کچھ لاکھ سال مزید زندہ رہ پائیں گے. درجہ حرارت 70 ° سیلسئس سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا. اوزون تہہ کے خاتمے کے بعد زمین پر سورج کی تابکار روشنی زندگی کا خاتمہ کر دے گی ۔ سمندر ختم ہو جائیں گے اور دنیا کا اختتام ہو جائے گا..!!

سورہ واقعہ کی آیت ٦٠ سے ٦٢ میں ارشاد باری تعالی ہے ؛
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں ۔کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کر دیں ۔اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے۔ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟

سوری بنی اسرائیل کی آیت ٦١ میں ارشاد باری تعالی ہے ؛
دیکھو، ہم نے زندگی کے کس قدر مدارج بنا دیئے ہیں جو ایک دوسرے سے افضل ہیں ، پاس اسی طرح آخرت بھی زندگی کا ایک بلند اور بہتر درجہ ہے ۔

تحریر و تحقیق :‌ڈاکٹر نگہت نسیم

( نوٹ ؛
تحریر کے لئے مندرجہ زیل زرائع سے استفادہ حاصل کیا گیا
قران پاک کا ترجمہ و تفسیر
کتاب “‌دو قران”‌ ڈاکٹر غلام جیلانی برق
وکی پیڈیا
نیٹ کے مضامین
ڈاکومنٹری فلم زمین کی پیدائش
نیشنل جیوگرافک فلم زمین کی کہانی )

SHARE

LEAVE A REPLY