حریت فکر… اور درست راستے کو انتخاب کیے بنا نہ انسان، ملک، قوم، آگے نہیں بڑھ سکتے ……
اکثر غیر ملکوں میں مقیم باسی سوچتے ہیں کہ یہ ترقی ہے… اور مغرب جیسا کچھ نہیں…
حالانکہ… اصل سوال تو یہ اٹھتا ہے کہ ترقی در حقیقت کہتے کس کو ہیں… ؟؟؟
اور اسکے درست میعار کیا ہیں…؟
اور اسکے حصول کے درست رستے کیا ہیں…. کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان جس شے کو کامیابی تصور کر رہا ہوتا ہے… وہ در حقیقت کامیابی نہیں ہوتی اور اس منزل پہ کھڑے ہو کے انسان سوچتا ہے کہ یہ وہ سب تھا کہ جس کی تگ و دو میں عمر بتا دی میں نے اور یہی حال، قوم، ملک ، قبیلوں کا ببی رہتا ہے…..
جب تلک انسانی فکر…. حریت شناس، راز شناس، راہ شناس، اور عمل کی راہ پہ عروج حاصل نہ کر پایے… اس کی ترقی ناپید ہے….
دوسرے ملکوں میں رہنے والے مہاجر و مسافر یہ تو بتلا پاتے ہیں کہ یہاں یہ ترقی ہے…. اور یہ لوگ یہ کرتے ہیں… پر اس بات کی تہ کو کبھی نہ سوچ سکے کہ آخر وہ ترقی کہ جسے وہ ترقی کہ رہے ہیں….
اسکا راز کیا ہے….؟
اس راز تک یہ لوگ پہنچے کیسے….؟
اور اس تک پہنچکر پھر انکو اپنایا کیسے گیا….؟
اور انکو اپنانے کے بعد کون کون سے اھداف وہ حاصل کر پایے اور کون کون سے تکمیل سے رہ گیے…؟
اب ہم چونکہ ترقی کے خواہاں ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ان اھداف کو ہم سوچ بھی نہیں پا رہے…. اور جو بھی سوچ اور دیکھ پا رہے ہیں…. وہ سب آلودگی، مرعوبیت، نا سمجھی، اور ایک خاص ھدف کے سوا کچھ بھی نہیں….. وہ بھی وہ سوچیں ہیں جو تخیلاتی، غیر حقیقی، مادیت سے بھری، غیر معنوی، اور بس ضروریات و خواہشات کے حصول کی ایک خاص نہج سے آگے ہر گز بھی نہیں……
یعنی دین پہنچا ہم تک تو سنسنی پھیلانے والا…. سٹیج کے مخصوص کرداروں سے…. اور سیاست پہنچی ہم تک تو دین سے چڑے ہوئے… تھکے ہوئے شہسواروں سے کہ جنکے نزدیک دین ہی ہر کمزوری کی وجہ ہے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ…. اب چونکہ سیکھنے اور سکھانے والے دونوں ہی فکری طور سے ڈرے ہوئے، مغلوب زدہ، الجھے اور مفاد پرست تھے تو پرستش بھی پھر انہیں بتوں کے مندروں میں ہوئی… دین تو کیا سیکھنا اور سکھانا تھا…. اخلاقیات پہ وہ کاری ضربیں لگیں کے دین تک کا سفر راہ ہی میں گم گیا…. کیونکہ دین کی بنیاد تو…. اخلاقی اعلی و فطری اقدار پر تھی…. جن میں صداقت و امانتداری اولین تھے، درد مندی اسکی روح تھی اور یہ تینوں ہی اس سے الگ کر کے منافقت کے محلوں پر کھڑے مدرسوں، اور جہالت و فکر سے بے بہرہ سکولوں نے مزید آسانیاں پیدا کر دیں مرغوبیت کی راہ میں…. اب حصولِ تو فقط اپنے غلط کو بھی درست ثابت کرنا تھا اور عقل کا تو اس میں ہر گز کوئی کام ہی نہ تھا اور جو تھوڑا بہت تھا بھی تو وہ محض اپنے مصنوعی و کمزور اھداف کا تھا….. مگر اس سب کے بیچ وہ انسان کہ جسکا سفر انسان بننے کی مخلصانہ جدوجہد تھا کھو گیا….. اور جب راہیں گم ہو جائیں اور فکریں مرعوبیت اور خوف کا شکار تو پھر منزل کے حق ہونے سے بھی فرق ہر گز نہیں پڑتا سوایے انکے کہ جو حق کو مکمل سمجھتے ہیں….. اور اس تک ہہنچنے کا راستہ بھی مکمل دانشمندی اور درستگی سے اختیار کرتے ہیں….
اقبال رح کا شعر نگای سے گزرا تو دل بڑا ہی بے چین ہوا کہ آخر وہ کیا کہ گئے….. اور یہ شعر بھی کئ سال یورپ میں گزارنے کے بعد کہا…. جہاں انہوں نے یورپ کی تہزیب، اسکے تمدن، اسکے رازوں،سازشوں، نیتوں، منصوبوں، اسکی ترقی کے راستوں اور اھداف کو مکمل گہرائی سے ہر ایک شے کو پڑھا، سمھجھا اور جانا اور پڑھا بھی انکی درسگاہ میں رہتے ہوئے….
اور خوب غور فکر کے بعد آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ….
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ…
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف…
یعنی یہ جرمنی، لندن، یورپ جو تہزیب و تمدن، ٹیکنالوجی اور علم کے شاہکار ہیں…. اور اسوقت بھی تھے مگر اقبال رح ان سے مرعوب نہ ہو سکے…… اور آپکی فکر نے بتایا کہ سرمہ ہے میری آنکھ کا مدینہ و نجف….
یعنی آنکھ دیکھنے کا کام کرتی ہے اور علم بصیرت کو آنکھیں عطا کرتا ہے…. یعنی علم جو مدینہ سے ملا…. شہر علم کی مٹی سے…. اور جو بابلعلم سے ملا…. یعنی بصیرت کی نگاہیں کھولنے کے لیے اس طرف رخ کرنا اہم بتایا علامہ نے….
پر دکھ و کرب کا یہ عالم رہا ہے جہاں لایبریرز اور ریسرچ سنٹرز کھلنے چاہییے تھے کہ احادیث رسول کریم ص، اور قران اور نہج لبلاغہ پر غور و فکر کیا جاتا اس میں سے پوشیدہ رازوں کو کھولنے کا اہتمام ہوتا….
کہ ہم دیکھ پاتے کہ ان علمی خزانوں نے انسان کی ترقی کی کون کون سی راہیں متعین کی ہیں…. کون کون سے اھداف مقرر کیے ہیں…
کون کون سے ساینسی، عرفانی، اخلاقی نظام متعارف کروایے ہیں…. کیسے ان سے ترقی حاصل کی جا سکتی ہے….
مگر انسان نے کیا کیا…..
ہر شے کو نفرت، تقسیم اور شدت پسندی کی ایک سبیل بنا کر اس پر دینی شعار اور جہاد کا نام دے دیا حتی کہ چلتے پھرتے متحرک کارخانے گلی کوچوں میں شدت پسندی، نفرت، جہالت، تقسیم، عناد اور سنسنی کے پیدا کر دیے اور نام رکھ دیا دین کا اب اس پر جو خریدو فروخت کی گئ وہ فایدے کسی اور نے حاصل کیے….. اور جو استعمال ہویے وہ ہمیشگی کی زلت، پسپائی اور آگ کی منزل لیکر ہلاکت میں پڑ گئے….. مگر یقین و گمان کے تو کیا کہنے کہ دکھ نہیں… افسوس نہیں… اسقدر یقین ہے اپنی منزل کی درسگی کا کہ حضرت شیطان بھی شرما گئے ہونگے انکی ان قابلیتوں پر…..
اقبال رھ نے ترقی مغرب کو نہیں کہا…. بلکہ خاک مدینہ و نجف کہا….. مرعبیت اور خوف کو نہیں کہا دلیری شجاعت، بصیرت کو کہا….
اب مدینہ و نجف نہ تو انسان کے گھٹنوں کے اوپر کی شلوار پہننے کی تلقین کرتے ہیں… نہ ہی عورت کو بستر مرد پہ بیچارگی کی تصویر کی تلقین کرتے ہیں…. نہ ہی وہ یہ کہتے ہیں کہ معلم اگر کوئی تقریب رکھے تو اس کا قتل چھریوں کے وار سے کر کے مجاھد بن کر بے نیاز و بے حس بن کر اپنی جہالت کی سلطنت کے بے تاج بادشاہ بن کر خود کو فاتح تصور کرنے لگو…..
یقین رکھنا چاہییے…. ہر انسان کو پر منزل کے تعین کرتے وقت اس کے درست ہونے کا یقین کرنے سے کہیں بہت پہلے…..
اپنی فکری، زہنی تربییت اور درست میعاروں سے واقفییت ضرور کر لینی چاہییے ورنہ سب گنوا کے بھی سب گنوا دینے والا بن جاتا ہے انسان…..
معاشرے کی اٹھان کے لیے ادب کی تربییت نہایت اہم ہے،بے ادب معاشرے بد نصیب ہوتے ہیں. اور علم کی برکتیں اٹھ جایا کرتی ہیں…. اور مدینہ و نجف تو سب سے پہلی تربیت ہی انسان کے ادب کی کرتے دکھائی دیتے ہیں…. جہاں بے ادب بے وقیمت بن جاتا یے…
دین سکھانے سے کہیں بہت پہلے… ‘ادب’اور’ اخلاق’ کیساتھ ‘سوچنا کیسے یے..؟ کی تربیت دینا وقت اہم ضرورت ہے….
ہمیں کچھ دیر رک کر یہ سوچنا ہو گا کہ….
ظلم، نفرت اور قتل و غارتگری کی… ‘تہزیب’… دینے والے دین کے ٹھیکیدار کیسے بن جاتے ہیں آخر…؟
اور عوام کی سوچ اور فکریں اسقدر زنگ آلود کیوں ہیں….
کہ غلط اور درست کی شناخت سے بھی مھروم ہو چلے…. یعنی اتنی جہالت اور ہجوم کی پیروی کہ غلط و درست کی شناخت سے بے بہرہ اندھا دھند جس کا جو دل کرے کہتا کرتا جائے اور ظلم و بربریت کی مثالیں ائے روز قایم ہوتی رہیں… مگر کوئی ان سے ہٹ کر نہ دیکھ سکے نہ سوچ پایے نہ ہی کرنے کے لائق ہو سکے….
عوام پر بھی مکمل زمہ داری عاید ہوتی ہے کہ خدارا پیٹ اور شرمگاہ اور ریاکاری کے پرلطف ہجوم سے باہر بھی نکلے….. ابھر کر سوچے…. اور اپنی سوچ کے میعار کو بڑھایے اور زمہ داری لے… یہ بہت اہم ہے کہ عوام بھی اپنا شعوری اور فکری انداز بدلے کہ اگر سکھانے والا غلط ہو تو اس کو مسترد کر سکے… عوامی شعور کو ازادی کیسے ملیگی آخر.. ؟
افسوسناک ہے کہ….آج عقل حیران و افسردہ کھڑی ہے کہ… انسانوں اور قوموں میں سے…
عمل کی طاقت کہاں کھو گئ.. اخلاص کی روش کون چھین لے گیا…؟علم کی بے تحاشہ نما ئش میں.. انسان گمشدہ ہو گیا…!!!
یی بات ہر شخص قوم قبیلے ملت کو یاد رکھنی چاہییے کہ اگر تم حق پر ہو اور وہ باطل پر ہیں تب بھی باطل جیت سکتا ہے….. بھلے حتما تمہاری منزل کے حق ہونے کی مکمل دلیلیں موجود ہوں….
کیونکہ راستے کا اختیار کرنا بتاتا ہے کہ تم شکست کھاو گے یا فتح مند ہوگے اسکی مثال یوں لے سکتے ہیں کے ایک شخص جو بہت متقی، پرہیزگار، بہترین ہے مگر اپنی صحت سے لاہرواہ تو وہ بیمار پڑہی جایے گا اور ایک شخص بھلے کافر ہے مگر ہوشمند، ہوشیار اور اپنی صحت کا خیال رکھنے والا ہے….
اب وہ متقی و پرہزگار ہے مگر غلط کھاتا ہے… وہ کافر ہے مگر صحت کی ضروریات کو مد نظر رکھ کے کھاتا ہے تو وہ ٹھیک رہیگا…..
اسی طرح… انسانوں ، قوموں، ملتوں کے طرز عمل، روش، اور انداز زندگی اور رویے انکی ناکامیوں اور کامیابیوں کا تعین کرتے ہیں…. بلند منزل بلند طرز زندگی، طرز فکر، طرز انتخاب اور ظرف کی متقاضی ہوتی ہے….
وہ کامیاب ہیں حتی کے باطل پر ہیں اسکی کچھ وجوہات ہیں… کچھ اصول ہیں…وہ یہ کہ وہ باطل پر ہو کر بھی منتشر نہیں، یعنی متحد و یکجا ہیں…جبکہ تم حق پر ہو کر بھی متحد نہیں… تقسیم ، تحقیر، تزلیل، قتل و غارتگری تمہاری روشیں ہیں…
دوسرا یہ کہ وہ اپنے باطل آقا کے پیروکار ہیں… مطیع و فرنبردار ہیں… اسکا حکم مانتے ہیں… جبکہ تم…. اپنے حق کے آقا، پر بھی متفق نہیں… اپنی خواہش، مرضی جہالت، نادانی کی روشوں پر فخریہ عمل کرتے ہو…. نافرمانی تمہاری اولین صفت ہے…
وہ باطل پر ہیں پر عدل و انصاف اور امانتداری کو مقدم رکھتے ہیں….یعنی اب وہ امانت کسی شے کے حوالے سے ہو یا قانون کے حوالے سے یا اداروں میں کام کرتے ہویے قوانین کے حوالے سے یا زندگی میں عام سطح پر ہو……
مگر تم… حق پر ہو کر بھی قانون توڑنے والے، جھوٹ، فراڈ دھوکہ دہی، ملاوٹ، بے اصولی، یعنی ہر کام حتی کے بہن بھایوں کے حق کھا جانا، بیٹیوں بہنوں کو جایداد میں حصہ تک نہ دینا، انسانی، معاشرتی، قومی، یا کسی بھی نہج ہر غور کریں تو ‘خیانتکاری،’ میں مبتلا ہیں… اور سوچتے ہیں کہ مغرب میں ترقی ہے….
اور پھر یہ لوگ باطل پہ ہو کر بھی اہنے یہاں اپنے دینی، قومی، ورثتی اداروں کی حفاظت کرتے ہویے دکھائی دیتے ہیں… اپنے زاتی عناد، جھگڑوں اور دشمنیوں میں کبھی بھی اپنے ادارے تباہ و برباد نہیں کرتے بلکہ ہر حال میں استحکام کی کوشش کرتے ہیں…انکی بہتری کا سوچتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ادارے چلتے رہے تو ہی قوم ترقی کریگی…. اور
ہم بحیثیت قوم…. اپنے اداروں کو جڑوں سے اکھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں بجایے مثبت تنقید کے ہماری روش منفی عامیانہ سطحی تنوید ہوتی جسکا مقصد اپنی انا کی تسکین کے سوا کچھ نہیں ہوتا اب بھلے یی ادارے قومی، ملکی ہوں یا گھر کا وہ ادارہ جہاں نسلیں جنم لیتی ہیں اور اعلی یا پست اقدار کو اختیار کرنے کی پہلی منزل ہوتی ہیں مگر قومی اداروں کی طرح گھروں کو بھی تجارتی صنعتیں بنا لیا ہے ہم نے اور شادی وہ بزنس ڈیل ہے جہاں دو اشخاص یا خاندان نہیں بلکہ دو فرعون نما مالک اور خدا ایکدوسرے کے سامنے اپنے خدائی کے دعوے لیے ایکدوسرے کی تحقیر،، زلت، اور عزت نفس کی دھجیاں اڑاتے دکھائی دیتے ہیں…شادی جو کہ سادہ ترین عمل ہونا چاہییے تھا اس درسگاہ کی تباہی جہیز اور بے ہنگم رسومات کی نظر ہو چکی اور معاشرہ بے تطہیر، ناہاک اور آلودہ جسموں کا ایک ایسا ہجوم جہاں شہوتیں ناچتی ہیں اور خوایشات کی تکمیل کا ہر ناجایز رستہ فخریہ اپنا لیا جاتا اور اچھی درست سادہ اور حکمت کی بات کو شان کے خلاف سمجھکر اس بات کو رد کر کے آگے بڑھ جایا جاتا ہے اور اگر غلطی سے کوئی عمل پیرا ہو بھی جایے تب بھی عمر بھر طعنوں اور ناراضگیوں کی وہ فہرست ہوتی ہے کہ بمشکل اس کے اثرات ختم کیے جا سکتے ہیں….
اسکے علاوہ جو اہم سبب ہے انسانی، قومی، ملی ناکامی کا وہ حریت فکر، حریت بصیرت کا نہ ہونا…..
درست فیصلے کرنے کی کمزوری اور ہر فیصلے سے پہلے ناراضگیاں، تعلقات، رسم و رواج، علاقے، ماحول اور مزاج کے حساب سے دیکھنا سوچنا اور فیصلہ لینا نہ کے جو درست ہو
اس ہر یقین رکھتے ہویے…. اور سو بار سوچنے کے بعد کہ یہ واقعی حق، درست اور میعار عدل و حق کے حساب سے درست ہے…. اس پر دلیر ہو کر ڈٹ جانا
یعنی اج بحیثیت قوم یا انسان ہم فیصلے دے پہلے یہ نہیں دیکھتے کہ عدل کے تقاضے کیا ہیں….
انصاف کے درست میعار کون سے….
بلکہ یہ دیکھتے ہیں…. کہ یہ فیصلہ کرنے کے بعد فلاں مجھ سے ناراض ہو جسیے گا… فلاں سے مدد ملنا بند ہو جایے گی… فلاں جھگڑے ڈالے گا…. فلاں اس پر یہ بولے گا….
یعنی عدل و انصاف کے حساب سے نہیں خاندانی، رسوماتی، ملکی و غیر ملکی تعلقات، رحجانات، اور حالات دیکھے جاتے ہیں…. یعنی روٹی کا خوف… گھر کا خوف… جاب کا خوف… ان سب میں میں الجھے… لوگ جو بھی فیصلہ کرینگے وہ فیصلہ کہیں لیکر نہ جا سکے گا….. بلکہ مزیدچکر میں گھماتا رہیگا…. اور گھومتے جانے سے چکر تو ملتے ہیں منزل ہر گز نہیں ملتی یہی حال ہے آج کے انسان، معاشروں اور ملک کا….
سب سے بڑی شجاعت یہ نہیں کے کسی ملک کے بادشاہ یا طاغوت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالکر اس کو حق بات کی جایے… یا کسی فرعون کے سامنے ڈٹ جایا جایے یہ دلیری و شجاعت کے نچلے ترین درجے ہیں…. اصل روح شجاعت و دلیری…..
‘فکری’،’ نظریاتی’ شجاعت اور ‘ارادے کی مضبوطی ہونا ہے’… یعنی ‘حریت فکر’ یعنی بے نیاز و بے خوف انسان کا شجاعانہ دلیرانہ درست اصولوں کے تحت درست سوچ پانا…. اور اس سوچ پر عمل کے وقت اس بات سے زرہ برابر بھی نہ ڈرنا کہ کیا کیا لٹ جایے گا اور کیا کیا چھٹ جایے کون کون چھوڑ دے گا اور کون کون ساتھ رہیگا… یعنی مصلحتوں، خوف، تعصب…. اور ڈر سے ازاد فکر اور سوچ …. پر اس فیصلے اور درست فکر… کی صلاحیت کے لیے بصیرت درکار ہے… اور الہی بصیرت کے لیے عقل، قلب و روح کی طہارت اور علم کا غیر متعبانہ حصول و درست تربیت فکر…. پاکیزگی جن معاشروں سے اٹھ جایے وہاں ہر طرح کی آلودگی سر پہ ناچتی دکھائی دیتی ہے….
جبکہ دلیر اور شجاعانہ فیصلے کرنے والے اور اس ہر بنا خوف و خطر ڈٹ جانے والے…. مشکلات پسند اور مصلحتوں سے ابھر کر
سوچ پانے والے ہی کامیاب انسان، قوم اور ملت بن پاتے ہیں…. حریت فکر کی تربیت کے لیے فکری غلامی و غربت سے نجات اہم ترین ہے اب یہ نجات لینے کے لیے ہر شخص قوم و ملت کو ہر ممکن مثبت کوشش کرنا ہڑیگی کبھی منفی راہوں پہ چل کہ مثبت منزل نہیں ملا کرتی….. یہ انسانی زوال کے بڑے اسباب ہیں… جن ہر سوچنے کا ہمارے پاس وقت نہیں کہ ہمارا میعار ترقی… و کامیابی دولت، شہوت، اور ریاکاری ہیں اور منافقت طرز عمل، طرز زندگی…. اور راز جاننے اور نجف و مدینہ کی خاک کا سرمہپہننے کی بصیرت لینے کا وقت نہیں ہمارے پاس جبھی آج تک علم اور ریسرچ سنٹرز کی جانب ہماری نگاہ نہ جا سکی اور فکر اقبال کو ہم نے متروک قرار دیکر ڈبے میں بند کردیا جبکہ درست ہر وقت ہر زمانے اور ہر حالات میں درست یی ہوتا ہے بھلے ہم مان ہائیں یا نہیں…. ہم علم سے ناطہ جوڑ کر بھی جاھلوں کی اول صف میں کھڑے وہ تماشائی ہیں کہ جنکو دشمن جب جیسے جی چاہتا ہے استعمال کرتا ہے اور ہھینک دیتا ہے اور اسکے استعمال کو بھی ہم اہنا ازلی اعزاز سمجھتے ہیں….
جو انسان، ملک یا قوم اہنی قیمت نہیں سمجھتی ہلاکت اسکا مقدر بن جاتی ہے…..
فائزہ عباس













