ہمیں حیرت ہوئی اپنے اوپر کہ ہم جو ہر وقت فیصلے کے آنے کی چیخ و پکار مچا رہے تھے نہ جانے کیوں فیصلہ آنے کے بعد ہمیں وہ خوشی نہیں ہوئی جو ہم سمجھ رہے تھے بلکہ ہم نے تو یہاں تک سوچا تھا کہ مٹھائی لا کر کھائینگے ۔لیکن نہ جانے کیوں ہمارے اندر ٹوٹ پھوٹ ہوئی یہ سوچ کر کہ کیا اسلامی ملک وہ ملک جو اسلام کے نام پر بنا جس کا قانون اسلام کی شقوں سے مزین ہے جس میں کہیں بے ایمانی اور دھوکے کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔جہاں حلف اُٹھایا جاتاہے کہ میں ملک اور عوام کا وفاراد رہونگا کوئی نقصان نہیں پہنچاؤنگا ، ملک کے کسی بھی ادارے یا کاز کو، وہاں کس طرح کرپشن نے فروغ پایا ،کس طرح ملک کو کنگال کیا گیا اور جھوٹ کا بازار گرم رکھا گیا ،بلکہ اب بھی باز نہیں آئے ،بیٹی ہو یا باپ چچا ہو یا بھائی ،بیٹے ہوں یا داماد اس قدر غلط بیانی ہے کہ ہمیں کبھی کبھی لگتا ہے کہ کیا بے حسی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ہم نے اپنا محاسبہ بھی ختم کردیا ہے
،کیا کبھی میاں صاحب نے سوچا کہ اُن کا جو ایک تاثر تھا لوگوں پر عوام پر وہ اس طرح چکنا چور ہوا ہے کہ شاید انکے تصور میں بھی نہیں ہوگا کہ ان تمام مہینوں میں انکی شخصیت کے جو رُخ عوام کے سامنے آئے ہیں انہوں نے میاں صاحب کے خاندان کے کسی بھی فرد کے لئے دلوں میں گنجائش باقی نہیں چھوڑی ہے ۔اور دکھ یہ ہے کہ اسکے زمے دار اور کوئی نہیں وہ خود اور اُن کا خاندان ہے ۔میاں صاحب یہ قوم وہ ہے جو اپنے اوپر کئے گئے بڑے سے بڑے ظلم کو معاف کر دیتی ہے ،لیکن جب ملک اور عوام کا معاملہ ہو تو پھر احتساب بھی کڑا ہی چاہئے ۔ کاش آپ بتاتے کہ یہ ایمپائر آپ نے کیسے کھڑی کی اگر بچوں کی بھی ہے تو وہ ہی آپ کو بچانے کے لئے میدان میں کود جاتے ۔لیکن بازی گری عروج پر ہے اور بازی گروں کا ٹولہ اپنے کرتب دکھنے میں ہر حد کو پار کر گیا ہے جس کا تصور بھی ہمارے زہن میں نہ تھا ۔جانتے تھے کہ گڑ بڑ ہے لیکن اتنی کہ کوئی تعداد ہی نہیں ہے ۔کیسا ظلم کیا آپ نے اپنے ہم وطنوں اور ملک کے ساتھ ۔۔؟ کاش آپ ژبوت دیتے کہ سب کچھ محنت سے کمایا ہے ؟؟؟؟؟
ہماری سوچ تو یہ ہے کہ اگر اب بھی ہم نے خود پر نظر نہ کی تو ایسے ایسے بازی گر ہمیں اپنے کمالات میں جکڑینگے کہ ہم نکل نہ پائینگے اس کرپٹ اور مفاد پرست ٹولے کے حصار سے ۔ہماری تو استدعا ہے کہ خدا را سوچو سمجھو اور اپنی مدد آپ کے تحت ہر اُس شخص کو رَد کر دو جس میں تمہیں جھوٹ اور فریب کا شائبہ بھی نظر اآئے ۔قومیں وہ ہی سُر خرو ہوتی ہیں جو اپنے ماضی سے سیکھتی اور اپنے حال کو بہتر کرتی اور مُستقبل کی فکر رکھتی ہیں ۔جب آپ کے سامنے منزل ہوتی ہے تو راستہ کتنا ہی پُر خار اور مُشکل کیوں نہ ہو ں سفر جاری رہتا ہے اور منزل قریب آتی ہے لیکن جب منزل کی طرف جانے کی دور دور کوشش نہ ہو توپھر راستہ ہو بھی تو نظر نہیں آتا ۔
ہماری نئی نسل اور پرانی بھی اگر اپنے مفادات کی فکر کرے اللہ کے احکامات کو مانتے ہوئے تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم اس بازی گر ٹولے سے نمٹ لینگے جس نے ہمیں اپنے سحر میں گرفتار رکھا کیونکہ بڑے بڑے بکرے چھری تلے آرہے ہیں زردار بھی تیز دھار کے نیچے ہیں اور کچھ دنوں میں ہمیں لگتا ہے کہ خواجے اور رانے بھی بہ شمول مشہود کے کہیں نہ کہیں قربانی کے لئے لائے جائینگے ۔ماڈل ٹاؤن کے شھید بھی آس لگائے ہوئے ہیں کہ انصاف ہوگا پھر چاہے اُسکے پیچھے کیسے ہی گانے والے اور مائیک توڑنے والے ہوں یا وعظ کرنے والے کچا چٹھا ضرور کھلنا چاہئے ،کہ مائیں وہ بھی تھیں جو ختم ہوئیں مائیں وہ بھی ہیں جن کے بچے زخمی ہوئے معزور ہوئے ۔جب کہتے ہو کہ ماں سانجھی ہوتی ہے تو سب ماؤں کے ساتھ انصاف کرو ۔۔۔
آج ہمیں اپنا بچپن بہت یاد آیا جب ہم دالان میں سفید چادروں والے پلنگ پر لیٹتے ۔والد صآحب اور والدہ بہن بھائیوں کے پلنگ بھی ساتھ ہی ہوتے ۔والد صاحب بستر پر لیٹے لیٹےہم بہن بھائیوں سے کہہ مکرنیاں بوجھواتے ۔اور ہم بہن بھائی اُن کا جواب دیتے دیتے ہی نیند کہ پری کی گود میں چلے جاتے ۔لیکن یہ باتیں ہمیں آج کل ہمارے سیاست دان ،تجزیہ نگار ،فلسفی اور علم و دانش سے بھرے لوگ پھر سے یاد دلا رہے ہیں کیونکہ ان کہہ مُکرنیوں کے جوابات ہمیں کہیں سے نہیں ملتے جو یہ حضرات بُجھواتے ہیں ۔کب کون کس کے حق میں بولنے لگے گا مخالفت کرتے کرتے پتہ ہی نہیں چلتا ،اور کون کس کی مُخالفت کرنے لگے گا موافقت کرتے کرتے یہ بھی بس عقل و دانش سے کہیں اوپر کی بات ہے ۔ہمارے یہاں ہر بات کا توڑ بھی موجود ہے اور ہر مسئلے کا زبانی حل بھی ۔اور ہم سارے بالکل مسحور ہو کر ان تمام باتوں پر کبھی کبھی یقین بھی کرنے لگتے ہیں اور کبھی کبھی ہمیں ،بے یقینی بے حسی تک لے جاتی ہے ۔
گرفتاریاں جس طرح ہو رہیئ ہیں ہم حیران ہیں کہ کیا مجرموں کو اسی طرح عزت دینی چاہئے ؟؟؟؟ وہ جس طرح چاہے جہاں چاہے گرفتاری دے جتنے لوگ ساتھ ہوں اُن سب کو چھوٹ دی جائے ۔جس شان سے داماد صاحب نے گرفتاری دی وہ بھی طُرفہ تماشہ ہے کہ پکڑنے والے بھی مات کھا گئے ،خیر پکڑنے والوں کو تو ہم کچھ نہیں کہینگے کہ بیچاروں کے لئے یہ تمام باتیں بہت ہی اچھنبے والی ہیں کہ بڑوں کو بیڑیاں پہنائیں وہ بیچارے تو ہمیشہ ان کے آگے جُھکتے اور سلوٹ کرتے آئے ہیں لیکن دُکھ جب ہوا جب صفدر صاحب نے ہاتھ میں تسبیح لئے جھوٹ بولا کہ انہیں ختمِ نبوت کے لئے آواز اُٹھانے پر پکڑا جا رہا ہے ۔ہمیں شدید حیرت ہے کہ کس طرح خود کو ھیرو بنانے کے لئے یہ لوگ ہر قسم کی غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں نہ اللہ کا ڈر ہے نہ خوف ۔حیرت ہے کہ کس طرح اتنی طاقت مل رہی ہے جھوٹ کو دروغ کو ملک میں صرف اور صرف ان چند لوگوں کی وجہ سے ۔
جس طرح میرے ملک میں کرپٹ لوگوں کی آؤ بھگَت ہو رہی ہے وہ بھی بازی گری سے کم نہیں ۔جس طرح مجرموں کے استقبال کی تیاریاں کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے وہ بھی عجیب بات ہے ہم نے دنیا میں کسی ملک میں ایسا نہیں دیکھا کہ ایک مجرم کو اتنی چھوٹ دے دی جائے کہ وہ جو چاہے اور جس طرح چاہے اپنی گرفتاری دے جیسے چاہے اداروں کا مزاق اُڑائے اور جب چاہے آنے کی نوید دے ۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ اگر ان دو خاندانوں کی ہی جائیدادیں ضبط کر کے نیلام کر دی جائیں تو قوم قرض کے جنجال سے نکل آئیگی ۔ بہت سے ملک ہیں جنہوں نے اپنے ملک سے کرپشن کے زریعے لے جایا گیا پیسہ واپس لیا ہے ،ہمارے لوگوں کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ملک کا پیسہ ملک میں واپس ہو اور ملک کے کام آئے ۔جسٹس صاحب نے ڈیم کے لئے فنڈ جمع کرنے کا بیڑا اُٹھایا بہت اچھی بات ہے ۔مگر جسٹس صآحب کیا ان لٹیروں سے انکی جائیدادیں واپس لے کر آپ ملک کا قرضہ بھی اُتارنے کا کام نہیں کر سکتے ضرور کر سکتے ہیں بس ہمت پکڑئے ساری قوم آپ کے ساتھ ہے ۔بس بارش کا پہلا قطرہ بن جائیے دھواں دھا رحمت کی بارش ہو جائیگی ساری قوم پر انشاء اللہ ۔یہ اعلان بھی کر دیجئے کہ انکی جائیدادیں جہاں کہیں بھی ہیں قُرق کر کے ملک کا قرضہ اتارا جائیگا مگر صرف بیان تک مت رہئے گا عمل بھی کیجئے گا کہ وقت کم ہے اور کام بہت زیادہ لیکن سب کچھ ممکن ہے ۔
ایک گزارش جو میں ہمیشہ اپنے کالموں میں کرتی آئی ہوں خدا را صادق اور امین کا وصف صرف اور صرف میرے پیارے نبی (ص) کے لئے ہے اُسے کسی کے لئے مت استعمال کریں،
اپنی مثالوں میں کسی شخصیت کا موازنہ نہ خُلفائے راشدین سے کیجئے نہ ہی اہلِ بیت سے ۔کیونکہ ہم اُنکے پیروں کی خاک تک کو نہیں پہنچ سکتے نہ کے اُنکے کردار تک پہنچ کی بات کریں ،ہماری درخواست ہے کہ اپنی بحثوں میں ان عظیم اور عالی مرتبت ہستیوں کا نام مت لائئے بلکہ کوشش کیجئے کہ انکے کرداروں سے سبق حاصل کریں اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں کہ یہ ہی ہماری کامیابی ہوگی کہ ہم اپنے عمل ٹھیک کر لیں ۔کہ جواب دہی ہماری بھی ہونی ہے ۔
اللہ میرے ملک کو ہر آفت اور پریشانی سے محفوظ رکھے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY