تین جولائی کو لاہور میں بارش نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے، شہر میں 300 ملی میٹر کے لگ بھگ بارش ریکارڈ کی گئی جس سے سڑکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، محکمہ موسمیات نے مزید 2 روز تک بارش کی پیشگوئی کی ہے ۔طوفانی بارش سے پیش آنے والے مختلف واقعات میں 6سے زیادہ افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بارش کا پانی کئی علاقوں کے گھروں میں بھی داخل ہو گیا۔ شہر بھر کی سڑکیں اور گلیاں تالاب میں تبدیل ہو گئیں اور بجلی بھی آنکھ مچولی کھیلتی رہی ۔

اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر دہائی مچ گئی ۔بارش نے اورنج لائن پراجیکٹ کا ڈھول بھی پیٹ دیا، جی پی او کے قریب سڑک کا بڑا حصہ پانی میں بہہ گیا، شگاف پڑنے سے روڈ بند ، جی پی او چوک دو ہفتے مرمت کیلئے بند کر دیا گیا جبکہ لاہور کے میئر مستقل ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کے جھوٹ بولتے رہے کہ شہر کے نوے فیصد علاقوں سے پانی نکل گیا ہے اور ایسی صورت حال امریکہ برطانیہ سمیت اور بھی بہت سے ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتی ہے۔ حیرت کی بات ہے ایسا موازنہ

ایسے میں جناح ہسپتال اور دیگر ہسپتالوں کی ایمرجنسی اور وارڈز پانی سے بھر گئے اور ٹرین اور پروازیں متاثر“ اور چونکہ یہ بارش لاہور میں برسی تھی سو ن لیگ کو اس سارے نقصان کا زمیدار قرار دینے میں لوگ گالم گلوچ پر اتر آئے ۔۔ یہاں تک کے انسانوں نے اپنے ہاتھوں سے انسانیت کے دروازے بند کر دیئے ۔۔ اور یوں الیکشن سے پہلے “ موک“ الیکشن ہو گیا جس میں نون لیگ برے طریقے سے ہار گئی ۔۔۔ اور شومئی قسمت اس ہار میں قدرت کی سازش سرفہرست نکلی۔

سب جانتے ہیں دنیا میں ایسی طوفانی بارشوں میں ایسا ہونا کوئی ناممکن بات نہیں ہے ۔ آسٹریلیاں میں کویئنس لینڈ اور اس کے گرد ونواح میں اکثر شدید بارشوں سے ایسی صورتحال ہو جاتی ہے ۔ حتی کہ ہمیں تو جنگلوں میں آگ لگ جانے کے خطرات سے گزرنا پڑتا ہے ۔ اس بار جنوری میں حکومت کے شیڈول سے پہلے ہی کسی نے جھاڑیوں میں آگ لگا دی جس کے شعلے آسمان تک بلند تھے اور کئی دوستوں نے دوسروں کے گھروں میں پناہ لی تھی ۔ آگ بجھانے والوں میں رضاکار سب سے زیادہ تھے ۔ متاثرہ گھروں اور گھر والوں کی مدد کے لئے سب سے پیش پیش حکومت نہیں انجانے لوگ تھے ۔ اور جب میں نے کل سوشل میڈیا پر سب سے کہا کہ “ بارش سیاسی نہیں ہوتی جو جس کے صوبے میں برسے گی اسی کی پارٹی زمیدار ہو گی ، ایسے موقع پر پہلے ایک دوسرے کی مدد کریں تاکہ جانی نقصان کم سے کم ہو ۔۔“ اور پھر جو مجھے تنقید و تنقیص کا سامنا ہوا ۔۔۔۔ سب سے زیادہ اعتراض کہ میں باہر رہتی ہوں اس لیئے مجھے بولنے کا حق نہیں ، میں محب وطن بھی نہیں ہوں اور یہ بھی کہ میں نون لیگ کی حمایتی ہوں اس لیئے شانت ہونے کی اپیل کر رہی ہوں ۔ جبکہ میں کسی پارٹی کو بھی دودھ کا دھلا نہیں سمجھتی اور ذاتی طور پر مجھے کسی پارٹی کے آنے جانے سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا ، اس لئے کہ میں وہاں ہوں ہی نہیں ۔۔۔

مجھے دکھ ہے تو بس ان رویوں کا جس سے پاکستان کو نقصان ہوتا ہے ۔۔ پاکستانی کیوں نہیں سمجھ رہے ۔ آخر پوری دنیا میں صرف مسلمان ہی کیوں عقل کا دشمن ہوا ہے ۔۔ سارے نقصان اور دھوکے مسلمان ہی کیوں کھاتے ہیں ۔۔ کیسے اس بے حسی سے نجات ممکن ہے ۔۔۔ زرمبادلہ پر جینے والے پاکستانی اب باہر رہنے والوں کو محب وطن ہونے کا سبق دیں گے ۔۔ شاباش ۔۔ جو سر اٹھانا کر جینا جانتے ہیں انہیں زیب دیتی ہیں ایسی باتیں ۔۔۔۔۔ واہ ری قسمت فوج پر بات کرو تو سننے کو ملتا ہے کہ میں فوج کے خلاف ہوں ، ملک دشمن ہوں ۔۔ اگر کسی کو باور کروا بھی دوں کہ میں پوری فوج کی دشمن نہیں ہوں بلکہ صرف ان جنرلوں اور کرنلوں کو پاکستان کا دشمن سمجھتی ہوں جنہوں نے شب خون مارا ہے ، ہمارے وطن کر دولخت کرنے میں ساتھ دیا ہے ۔ اس پر سب کہتے ہیں مجھے فوج کی حکومت نظر نہیں آتی کیا ۔۔ کیا وہ وزارت خارجہ خود نہیں چلا رہی ۔۔۔ دوستو آپ کی بات درست ہے پر سوچیئے ایسا کس نے ہونے دیا ؟ ہمارے کرپٹ حکمرانوں نے ۔۔ نون لیگ نے پورے پانچ سال تک کوئی وزیر خارجہ ہی مقرر نہیں کیا جو اپنی پالیسیاں دنیا تک پہنچتی ۔۔ فوج کو یہ طاقت انہیں حکمرانوں نے اپنی عیاشیوں کو کیش کرنے کے لئے دے رکھی ہے ۔۔ یعنی منہ بند ، منہ بند کھیلتے رہے ہیں ۔۔

دوستو ۔۔! بیروزگاری، بےگھری، ناانصافی سے بچنا ہے تو آپس کے سارے فرق مٹا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجایئں اور سرمایہ دارانہ معیشت کے سامنے دیوار بن جایئے ۔۔ پر ایک دوسرے کو پارٹی کا طعنہ مت ماریئے ۔ یقین جانیئے دنیا میں الیکشن ہوتے ہیں لیکن پاکستان جیسے احمقانہ اور ظالمانہ الیکشن نہیں دیکھے ۔۔ ہر حمائیتی خود کو پی اہم سمجھ کر دوسروں کی بے عزتی کر رہا ہے ۔ اس وقت سب سے زیادہ قابل رحم اور زد میں آئے ہوئے غیر جانبدار پاکستانی ہیں ۔ جنہیں اچھا برا سب نظر آ رہا ہے لیکن ایسے لوگوں کو کوئی محب وطن نہیں سمجھتا۔ عجب حال ہے ن لیگ کی بات کرو تو تحریک انصاف والوں سے گالی، اگر تحریک انساف کی بات کرو تو ن لیگ سے گالی اور اگر پیپلز پارٹی کی کوئی اچھائی بیان کردو تو ن لیگ اور پی ٹی آئی والوں کی مغلظات سنو

اس سیاست نے ہماری برداشت کے ساتھ ساتھ تہذیب کا جنازہ بھی نکال دیا ہے۔ اکثر لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ وہ اپنی ماں یا بڑی بہن برابر کسی خاتون سے بات کر رہے ہیں۔ ایسے میں الیکشن تو ہو ہی جائیں گے لیکن تہزیب اور رواداری کا جو جنازہ نکلا ہے اسکا نقصان اگلے سو سال بھی پورا نہیں ہو سکے گا

مجھے اب اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ کوئی مجھے کیا سمجھتا ہے ۔۔ مجھے اپنے حصے کا کام کرتے رہنا ہے اس لئے کہ مجھے اپنے وطن سے پیار ہے ۔۔ اس کا اچھا برا جتنی غیر جانبداری اور دردمندی سے میں دیکھ سکتی کوئی اور شاید کوئی تعصب اور جابندار کی عینک لگانے والا نہیں ۔۔۔

میرے ہم وطنوں میں اس سوچ کی کمی ہے کہ ایمرجنسی کی اہمیت کیا ہے اور اس سے کیسے نمٹا جائے ۔۔۔؟

1۔ جب مشکل آئے تو پہلے جانی نقصان سے بچنا اور بچانا ضروری ہے ۔۔
2۔ محفوظ مقام تک پہنچنے کی اپنی اور دوسروں کی فکر
3۔ کھانے پینے کی اشیا کا بندوبست
4۔ پھر سر جوڑ کے یہ سوچنا کہ ایسا کیوں ہوا ۔۔
5۔ اور کیا ایسا کریں کہ دوبارہ ایسا نا ہو ۔۔

پر ان باتوں میں سے کسی پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا ۔۔ یوں ان طوفانی بارشوں نے جہاں ن لیگ کی حکمرانی کے پول کھولے وہاں پر پاکستانی عوام کی سمجھداری اور قومیت کے بھی پول کھول دیئے ۔۔
سب ایک دوسرے کے گواہ ہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں سب ایک دوسرے پر الزام تراشی ، لڑائی اور طعنہ بازی کرتے رہے ۔۔

کل کے بعد مجھے اب پاکستانی عوام سے نہیں بلکہ پاکستان سے ہمدردی ہے کہ اسے ایسی قوم ملی جو آسمانی آفات کو بھی سیاست کے کھاتے میں ڈالنے کی ماہر ہے ۔۔۔ جو اس مشکل وقت میں بھی ایک قوم نہیں بلکہ ن لیگی اور انصافی ہیں ۔۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY