ملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح رح،مقدسہ بانو

0
2118

قائد ہم شرمندہ ہیں، ہم پنجابی، پٹھان، سندھی اور بلوچ ہی رہئے اب تک ایک جھنڈے تلے ایک قوم بن کر نہیں کھڑے ہو پائے اپنے اپنے قبیلوں کے شملے اونچے کرنے میں آج بھی سیاسی جنگ اپنے ہی گھر پاکستان میں لڑ رہے ہیں ۔قائد ہم شرمندہ ہیں اپنے ہی گھر میں اقلیتوں کو آج تک تحفظ نہیں دے پائے ۔۔۔

قائد ہماری روحوں پر اب اور بھی بوجھ بڑھ گیا اسلام کے نام پر بنائے گئے اسلامی مملکت پاکستان میں کلمہ گو کو کسی بھی سمت سے آنے والی گولی کافر کی صدا سے زندگی سے بہت دور لے جاتی ہے ۔۔۔قائد ہم آج بھی آپ کے فرمودات کو تھامے ہوئے ہیں۔۔

بس ہم تھامے ہوئے ہی تو ہیں کبھی سمجھا ہی نہیں ایک دن سب فرمودات کے بھی چھوٹے چھوٹے مقبروں پر جا کر سال میں ایک بار فاتح پڑھ لیا کریں گے ۔۔میرے قائد میرے راہبر وطن کی فضاؤں میں خون کی مہک بسائی جا رہئ ،قانون کی اندھی دیوی کو کو مہدب عدسہ فراہم ہو گیا ہے جو فیصلے جیب کے بھاری پن دیکھ کے با آسانی کرتی ہے ۔ائے قائد پاکستان تیرے وطن میں معصوم کونپلوں کو نوچ کر پاوں تلے مسلنا کتنا آسان ہوگیا۔۔ہوس زدہ بھیڑیوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مدرسوں کو قیام گاہ بنا لیا ہر روز کوئی ایک معصوم خدا کے گھر میں قوم لوط کا پیروکار مسجد کی حرمت پائمال کرتا ہے ۔اور۔ریاست کرسی کے نشہ میں چور ہاتھ میں تیشہ لیئے غریب کو غریب تر کر کے لہو لہو کر رہی ہے ۔۔ائے قائد ہم شرمندہ ہیں ۔۔
دعا
حرارت نے سنو ایمان کی موسم بدل ڈالے
لہو پھر بھی سلگتا ہے مسلماں کا۔
میرے مولا! میرے آقا ۔۔۔۔
لہو بہتا ھے مسلم کا
ٹھہٹھرتی سرد راہوں میں
سلگتے مرغزاروں میں
لرزتے سرد ہاتھوں میں
لرزتے خون آلودہ لبوں سے
دعائیں منجمد سی ھیں
کفن اوڑھے ہوئےبرفاب جسموں کو
کوئی ایسا مسیحا دے
جو ضامن ھوتیری روشن دلیلوں کا
مقدسہ بانو

SHARE

LEAVE A REPLY