اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ایک اور ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری پر فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی۔

عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین پر 4 اگست کو فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

احتساب عدالت اسلام آباد نے ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس کے تمام ملزمان کو 4 اگست کو طلب کر لیا ہے۔

اس سے قبل آج ہی احتساب عدالت اسلام آباد نے پارک لین ریفرنس کی سماعت کی تھی۔

دورانِ سماعت عدالت نے آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کی استدعا پر سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی تھی۔

عدالت نے سابق صدر کے وکیل کو آئندہ سماعت پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آبادکی احتساب عدالت میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف پارک لین ریفرنس کی سماعت کے دوران فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی عدالت میں پیش کر دیا۔

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج اعظم خان نے پارک لین ریفرنس کی سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے دوران آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کیس میں نیب کے دائرۂ اختیار پر دلائل دیئے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر اس کیس میں تفتیش کا آغاز کیا ہے۔

دورانِ سماعت فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی عدالت میں پیش کر دیا۔

فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 4 کے مطابق آصف زرداری کے خلاف یہ کیس نہیں چلایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ بینک قرض واپسی کے لیے ریفرنس دائر ہونے سے پہلے کراچی میں کیس کر چکا ہے، بینک نے قانون کے مطابق کیس کر رکھا ہے تو نیب کا دائرہ اختیار نہیں بنتا۔

جج اعظم خان نے استفسار کیا کہ کیا بینک نے نیب انکوائری شروع ہونے سے پہلے کیس کیا تھا؟

نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ بینک نے انکوائری شروع ہونے کے بعد کیس دائر کیا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ قانون قرض سے متعلق کیا کہتا ہے، اس کیس میں بینک شکایت کنندہ ہی نہیں ہے، نیب کارروائی کیسے کر رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ ڈیفالٹ ہونے کی صورت میں اسٹیٹ بینک کے گورنر کی جانب سے مقروض کو نوٹس دیا جاتا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک کی جانب سے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY