اس میں کوئی شک نہیں کہ جُرم اور گناہ سے دنیا کی کوئی سرزمین اور ملک محفوظ نہیں۔ ہر ملک میں قسم قسم کے جرائم اور گناہ ہوتے ہیں۔ وہ ممالک جہاں قانون کا بول بالا ہے اور ملزم بچ نہیں پاتا وہاں بھی جرائم اور گناہ ہیں اور وہ ملک جو بہت خوشحال ہیں اور انکے عوام خوشحالی کی زندگی بس کر رہے ہیں وہاں بھی جرائم اور گناہ ہیں چاہے انکا تناسب کم ہی کیوں نہ ہو
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلامی مملکت خداداد پاکستان کی سرزمین ایسی سرزمین جہاں ایسا ایسا جرم اور گناہ ہوتا ہے کہ عقل انسانی سوچ نہیں سکتی کہ کیا ایسا بھی کیا جا سکتا ہے۔
اسی سرزمین پر چوہوں جیسے موذی جانوروں کی انتڑیوں سے تیل نکال کر بیچا جاتا ہے، گندہ اور چوتھے درجے کا ادرک تیزاب سے صاف کر کے اسے نمبر ون بنایا جاتا ہے۔ مگربہ کتوں اور بلیوں کا کھانا ٹن پیک ڈبوں میں انسانوں کو کھلایا جاتا۔، اور قانون اندھا گونگا اور بہرہ ہے
اب ایک ایسا جرم سامنے آیا ہے جسے پڑھ اور سُن کر ایک عام آدمی سوچتا ہے کہ انسان کیا اس درجے کا ظالم بھی ہو سکتا ہے
زندہ تو زندہ ہم اب مرنے والوں کو بھی چین سے نہیں رہنے دیتے قبر میں
لیجئے یہ تازہ ترین خبر دیکھیئے اور سوچیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور: نومولود کی میت نکال کر بھیک مانگنے والا ملزم گرفتار
پولیس کا کہنا ہے کہ بھکاری الیاس نے بادامی باغ کے قبرستان سے نومولود کی میت نکالی، ملزم میت لے کر چوک میں بھیک مانگتا پکڑا گیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے قبرستانوں میں میتیں بھی محفوظ نہ رہیں۔ بادامی باغ پولیس نے نومولود کی میت نکال کر بھیک مانگنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم الیاس نے بادامی باغ کے مقامی قبرستان سے نومولود کی میت چرا کر چوک میں بھیک مانگنا شروع کر دی۔ ملزم کو شک کی بنیاد پر چیک کیا گیا تو میت شہری شجاع الرحمٰن کے نومولود بیٹے کی نکلی۔ شجاع الرحمان کے ہاں 7 سال بعد بیٹا پیدا ہوا تھا جو چند گھنٹوں بعد انتقال کر گیا۔
ملزم الیاس نے میت دفنانے کے بعد قبر کھود کر نکال لی تھی۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے میت ورثا کے حوالے کر دی ہے۔
صفدر ھمدانی













