بی بی سی اردو کی پہچان حالات حاضرہ کا پروگرام سیربین اکتیس دسمبر ۲۰۱۹ کی شب ریڈیو سے آخری بار نشر ہونے کے بعد ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا
یوں تو حالات حاضرہ کا پروگرام پہلے بھی نشر ہوتا تھا مگر سیربین کے نام سے یہ گویا ١٩٦٨ اکیاون برس سے نشر ہورہا تھا
چند برس قبل تک یہ پروگرام بی بی سی کے لندن سٹوڈیو سے نشر ہونے والا ایک فلیگ شپ پروگرام تھا تاہم کوئی دو برس سے سیربین بی بی سی کے اسلام آباد اسٹوڈیو سے نشر کیا جانے لگا
میرے لئے یہ باعث فخر ہے کہ میں ایسے پروگرام سے منسلک رہی، جس نے نشریات کی دنیا میں جو معیار قایم کیا وہ آج تک توڑا نہیں جا سکا ۔سن اکہتر کی انڈیا پاکستان جنگ، بنگلہ دیش کا قیام ، پاکستان میں ستتر کا مارشل لا، بھٹو کی پھانسی ، جنرل ضیا کی ہلاکت، بابری مسجد کا انہدام، راجیو گاندھی کی ہلاکت،تاریخ کے وہ اہم واقعات تھے ، جن کے دوران اردو کے سامعین کے لئے سیر ین کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا با اعتماد ذریعہ نہیں تھا جہاں سے لوگوں کو مستند خبریں مل پاتیں، پاکستان میں جہاں میڈیا سرکاری کنٹرول میں تھا اور یہ کوشش کی جاتی تھی کہ صحیح خبر عوام تک نہ پہنچےاکثر بی بی سی کی خبروں کو تنقید کا نشانہ بنا کر خبر کی ساکھ داغدار کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اوراسے ملک کے خلاف بیرونی سازش بتایا جاتا تھا ،مگر عوام میں سیربین کی اہمیت و مقبولیت کو کم نہ کیا جاسکا
اس ساکھ کی وجہ یہ تھی کہ کبھی کسی بھی خبر اور تجزیہ میں غلط بیانی نہیں کی جاتی تھی، ہر رپورٹ چھانٹ پھٹک کر نشر کی جاتی تھی تاکہ بی بی سی سے نشر ہونے والی کسی خبر کی تردید نہ ہو،
اس کا سہرا بی بی سی کے ادارتی عملے اور نیوز جمع کرنے کے سسٹم یعنی رپورٹرز مارک ٹیلی، ستیش جیکب، نوے کے عشرے میں بی بی سی اردو میں شامل ہونے والے ظفر عباس، عباس ناصر، رحیم اللہ یوسف زئی جیسے رپورٹرز کو جاتا ہے
انیس سو نوےکے شروع میں میں جب میں بی بی اردوسروس میں شامل ہو ئی تو میں نے دیکھا کہ سیربین کی تیاری میں بہت محنت کی جاتی تھی، یہاں آنے سے پہلے میں پاکستان ٹیلی وثرن نیوزاور ریڈیو پاکستان سے منسلک تھی دوستوں کا کہنا تھا کہ میں ریڈیو میں جلد ہی بور ہوجاؤنگی مگر حقیقت یہ ہے کہ پروگرام کے دوران مجھے سینئرساتھیوں وقار احمد، آصف جیلانی، راشد اشرف ، رضا علی عابدی سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
سیربین کی نشریاتی تاریخ میں بہت سے مرد ساتھیوں کے نام بہت نمایاں ہیں، جیسے حسن ذکی کاظمی،عبید صدیقی، محمد حنیف ،علی احمد خان، شفعی نقی جامعی، وسعت اللہ خان، شاہد ملک اور شاہ زیب جیلانی
مگرسینئر خاتون پروڈیوسر سارہ نقوی نے شاید ایک آدھ مرتبہ ہی سیربین پیش کیا، وہ کرنٹ افیرز سے خود دور رہیں یا رکھی گئیں، اس بارے میں کچھ کہنا تو ممکن نہیں، تاہم خواتین میں میں نے پہلی مرتبہ تواتر سے سیربین ایڈٹ اور پیش کرنا شروع کیا، اور اس کا کریڈٹ اس وقت اردو سروس کے سربراہ بیری لینگرج کو نہ دیا جائے تو زیادتی ہوگی، جنھوں نے خواتین کو بھی مواقع فراہم کیے۔ میرے بعد پھر یہ سلسلہ چل نکلا اورنعیمہ احمد مہجور، نصرت جہاں، ایلیہ حیدر، امبر خیری بھی سیربین کی ایڈیٹر اور پیش کار رہیں۔ گویاسیربین پرمرد حضرات کی ایک طرح اجارہ داری ختم ہوگئی،
میں کچھ عرصے آپ کے خطوط اور ہمارے جواب پروگرام سے بھی منسلک رہی ،تو اندازہ ہوا کہ سیر ین کے سامعین جنوبی ایشیا میں پھیلے ہوئےتھے مثلا نیپال، سری لنکا آور مشرق وسطی سے سامعین کا کہنا تھا کہ اس پروگرام سے ہمیں نہ صرف پاکستان اور انڈیا بلکہ دنیا بھر میں رونما ہونے والے اہم واقعات کا علم ہوجاتا ہے
ہونا تو یہ چائیے تھا کہ وقت کے ساتھ سننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا مگربتایا گیا ہےکہ ریڈیو پر سامعین کی تعداد کم ہو جانے کے باعث سیربین ریڈیو پر بند کیا جا رہا ہے اس میں شک بھی نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے باعث سامعین کو حالات حاضرہ کے متعدد پروگراموں تک رسائی حاصل ہو چکی ہے مگر ان پروگراموں میں سیربین نہیں ہوگا کہ
اکتیس دسمبردوہزار انیس کا سورج ڈوبنے کے ساتھ ہی سیربین ریڈیو پرہمیشہ کے لئے خاموش ہو چکا
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔
الوداع سیربین
ماہ پارہ صفدر














بہت ہی افسوسناک فیصلہ ہے ۔بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس کو بند کر دیا گیا ہے۔ اب ان خوبصورت آوازوں کو ہم کبھی بھی نہیں سن سکیں گے۔ گویا اب کے بعد اس طرح کی بہترین براڈ کاسٹر کو ہم ہمیشہ کے لئے کھو دیں گیں ۔ اور ایک اور تاریکی کی سیاہی امڈ آئی ہے۔ جس سے دنیا میں بہترین آوازیں خاموش کر دی گئیں ہیں ۔ بی بی سی ریڈیو کو یہ کریڈٹ جا تا ہے کہ اس ادارے میں
تمام افراد خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ تمام بی بی سی کی پوری ٹیم کو اللہ تعالی خیریت سے رکھے ۔ اور اللہ تعالی حامی وناصر ہو۔ ی
Aoa. Saibeen mera bhi pasandida program raha ha. Baray shouf sy main bhi our abu bhi bhi suntay thay. Is ko b b c tv par nashar kia jay bjay band krny k tu is ki wohi ahmiat barqarar rahay gi.
Rashid