محبت (افسانچہ)۔۔۔شاہجہاں جعفری حجاب

0
121

شہد کی ایک مکھی اپنے ڈنک میں مٹھاس بھرے سمندر کے پاس گئ اور کہا، “تلخی سے حلاوت اچھی ھے۔ اپنی ترشی کو مٹھاس میں بدل دو۔ میں تمہیں میٹھا کرنے آئ ہوں۔” سمندر نے بڑی حقارت سے اس کی طرف دیکھا اور ہنس کر کہا، “میربے بےکراں وجود میں سمائے نمک کو تیرے ڈنک میں بھری مٹھاس کی ایک بوند کیا ختم کرے گی! تو ساری دنیا کا شہد بھی مجھ میں انڈیل دے تب بھی میرے کھارے پن کو ختم نہیں کر سکتی۔”

مکھی نے دکھی ہو کر چاند کی طرف دیکھا۔ چاند اسکی خاموش التجا سمجھ گیا۔ اس نے اپنی چاندنی سمندر کی لہروں پہ بچھا دی۔ میٹھی دلپذیر روشنی نے سمندر کو چاندی کی طرح جگمگا دیا لیکن اسکا کھارا پن برقرار رہا۔ مکھی نے چمن کے پھولوں کو ملتجی نظروں سے دیکھا۔ پھول شاخوں سے ٹوٹ کر سمندر پر برسے اور اسکی موجوں کو خوشبو اور رنگ سے مالا مال کر دیا مگر پھول بھی اسکے کھارے پن کو ختم نہ کر سکے۔ مکھی نے سورج سے فریاد کی۔ سورج کا دہکتا ہوا گولا چھن سے سمندر میں اتر گیا۔

مرتعش لہروں میں ایک ہیجان سا برپا ہوا اور پھر سکوت چھا گیا۔ کھارا پن پھر بھی باقی رہا۔ مکھی دل برداشتہ ہو کر ایک کاغذ پہ جا بیٹھی۔ اسکے ڈنک میں بھرا شہد کا قطرہ آنسو بن کر اس کاغذ پہ ٹپک گیا۔ مکھی اپنی مٹھاس چھوڑ کر اڑ گئ۔ کاغذ پر چلتا ہوا قلم رک گیا۔ شہد کی اس بوند کو قلم نے روشنائ کے طور پر اپنے اندر بھر لیا اور ایک کورے کاغذ پر ‘محبت’ لکھ کر اسے سمندر کے حوالے کر دیا۔

ایک ہی آن میں سمندر کا سارا کھارا پن شہد کی مٹھاس میں گھل گیا۔ سمندر نے لکھنے والے کی طرف حیرت سے دیکھ کر پوچھا، “کیا تم جادوگر ہو؟” جواب ملا، ” نہیں، میں شاعر ہوں۔”
۔

شاہجہاں جعفری حجاب

SHARE

LEAVE A REPLY