دیکھویہ فخر ہلاک نہ کردے کہ حضور ﷺ کے رشتہ دار ہو۔۔۔ شمس جیلانی

0
757

یہ وہ تاریخی الفاظ ہیں جو کہ حضرت سعد بن ابی وقا صؓ سے حضرت عمر ؓ نے بطور نصیحت اس وقت فرما ئے تھے جبکہ وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مشورے پر انہیں ایران جانے والی فوج کاسپہ سالار اور گورنر بنا کر بھیج رہے تھے۔اس سلسلہ میں حضورﷺ کی ایک حدیث بھی ہے کہ جو اپنی تین نسلوں پر فخر کرے وہ اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ اور علی کرم اللہ کا قول ہے۔ کہ عمل کے بغیر نسب کسی کام نہیں ہے۔حضور ﷺ سے پہلے یہ عربوں میں بیماری عام تھی اورزیا دہ تر تلواریں اسی بات پرچلتی تھیں کہ ایک کہتا کہ میرا قبیلہ قابل ِ عزت ہے اور میں نے اور میرے بزرگوں یہ، یہ کارنا مے انجام دیئے ہیں ۔ جبکہ دوسرا کہتا تھا نہیں میرا قبیلہ زیادہ قابلِ عزت ہے؟ مگر حضور ﷺ نے یہ فرما کر کہ کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے ،صرف تقویٰ قابل احترام ہے۔ اور اس پر عمل کرکے بھی دکھا یا کہ جو لوگ خاندانی وجاہت کے عادی تھےان کو با رہا اس حرکت پر خجالت اٹھانا پڑی۔ جس سے سیرت مبارکہﷺ بھری ہوئی ہے۔ کیونکہ رمضان کے مہینہ کامقصد ہی ان بری عادتوں کو چھوڑ کر اپنی اصلاح کرنا ہے اسی لیئے آج میں اسی پر بات کررہاہوں۔ کیونکہ اس سے اسلام کو بہت نقصان پہلے پہنچا اور ابھی تک پہنچ رہا ہے۔ جیسے کہ ہندوستان میں مسلمان کے چھوت چھات کو اختیار کرلینے سے اسلام کی بڑھوتری رک گئی، ورنہ آجکل ہم بجا ئے مودی کی زیاد تیوں کا گلہ کر نے کہ وہاں حکمراں ہو تے۔ اس لیئے آرین بھی اسی طرح غیر ملکی تھے، جس طرح مسلمان تھے۔ جبکہ انہوں نے وہاں آکر وہ ظالمانہ سماج تشکیل دے کر ان کو اپنا غلام بنا لیا تھا جو کہ ہندوستان کے اصل با شندے تھے۔کہ سب انسان برہما جی کے مختلف اعضاء سے پیدا ہو ئے ہیں۔ پنڈت برہما جی کے سر سے پیدا ہوا لہذا اسے سب پر بر تری حاصل ہے، چھتری (راجپوت)سینے سے پیدا ہوئے ہیں وہ فوجی خدمات انجام دینگے اور کھتری پیٹ سے پیدا ہو ئے ہیں لہذا کاروبار وہ کریں گے۔ جبکہ شودر(جوکہ اصل باشندے تھے) برہما جی کے پیر سے پیداہو ئے ہیں وہ ان سب کے خدمت گار ہونگے، بیگار کریں گے اور نہ وہ ان کے مندروں میں جا سکیں گے اور نہ ہی ان کی مقدس کتاب کو چھو سکیں گے نہ ان کے برتنوں کوچھو سکیں گے؟ جب اسلام ہندوستان میں پہنچا تو ہر اول دستہ بزرگو ں پر مشتمل تھا جن کا اصول یہ تھا کہ محبت سب سے مگر نفرت کسی سے نہیں۔ وہ مقامی باشندوں کو شروع میں اپنے نجات دہندہ معلوم ہو ئے۔ اور وہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو نے لگے لیکن جب مسلمانو ں نے اونچی ذات کے ہندؤں کی پیر وی میں وہی اونچ ختیار کرلی تو ان کے خواب چکنا چور ہوگئے۔ کیونکہ مسلمان ہو نے کے بعدبھی ان کو وہی رہنا تھا کہ نہ ان کے ساتھ مساوات برتی جا ئے، نہ ہی آپس میں شادی بیاہ ہوسکیں، تو پھر انہیں کیا ضر ورت تھی کہ وہ اپنے خاندان کو بھی چھوڑیں جو کہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے؟ اور حاصل بھی کچھ نہ ہو؟ حتیٰ کہ گاندھی جی جنوبی افریقہ سے واپس آگئے اور انہوں نے جب یہاں کا جا ئزہ لیا تو انہیں اس ظالمانہ نظام کے ہاتھو ں اپنی سیاسی موت نظر آئی۔ انہوں نے وہ ہی پالیسی اختیار کی جو اسلام کا طرہ امتیاز تھا۔ خانقاہوں کی جگہ آشرموں نے لی۔ اور ان میں چھوت چھات ختم کردی۔ یہ وہ تبدیلی تھی ہندو دھرم میں کہ تحریک آزادی کے دوران جو اچھوت کہلاتے تھے سوچنے لگے کہ یہیں انہیں وہ مقام مل جا ئے جو کہ اونچی ذات کے ہندوؤں کو حاصل ہے تو اس سے اچھا اورکیا ہے۔ مسلم لیگ نے بہت کوشش کی اچھوت قیادت اور سکھ قیادت ان کے ساتھ مل جا ئے۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ اچھوت ابھی ہندوں میں ہی گنے جاتے تھے۔ اورسکھ جو کہ وحدانیت کے قائل تھے ان سے مغلوں سے جنگوں کی وجہ سے ان کی طرف بھی پیش قدمی رک گئی کہ سماجی اعتبار سے و ہ بھی پرانے رسم و رواج پر قائم تھے۔ اور تھوڑی سی کوشش سے اونچی ذات کے ہندو ؤں کے چکر میں آگئے۔ جبکہ اب ایک تیسرا عنصر بھی حصہ بٹانے لگا جوکہ جو عیسا ئیت تھی وہ مسلمانوں میں سے خاصہ حصہ لے گئے اس لیئے کہ وہ ہندوستانی بھی جو مسلمان ہو چکے تھے۔ وہ ان کے مشینریوں کے برتا ؤ سے کافی حد تک متاثر تھے کیونکہ وہ ان کے ساتھ کھاتے پیتے بھی تھے اٹھتے بیٹھتے بھی اور انگریز کا دور تھا انہوں نے ان کو نوازا بھی بہت۔ جبکہ ہم اور ہمارے علماء من حیث القوم اپنی روش کے مطابق ان کو کوئی مقام دینے کو تیار نہ تھے۔ یہ وہ کمزوریاں تھیں کہ گاندھی جی میدان مار گئے۔ آگے چل کر ان کی ہمتیں اور بڑھیں، پاکستان بننے کے بعدہم اپنوں کو بھی مطمعن نہ رکھ سکے اور مشرقی پاکستان جہاں پاکستان کی54 فیصد آبادی رہتی تھی وہ اقلیت سے تاریخ ِ عالم میں پہلی دفعہ جدا ہوگیا۔ اور وہی خرابیاں ابھی تک جا رہی ہیں۔ آگے کوئی نہیں جانتا ہے کہ کیا ہوگا۔ جس کا حل صرف اسلام تھا اور ہے مگر ہم اسلامی نظام پر بھی چلنے کو تیار نہیں ہیں جس کے لیئے ہم نے اللہ سے ایک ملک مانگا تھا۔ اور اس نے ہمیں نوازا بھی بہت مگر ہم وعدہ کر کے اس ساتھ مکر جا نے کی پالیسی پر ابھی تک قائم ہیں جو بھی آیا اس نے وعدے بہت کیئے مگر پورا کوئی بھی نہ کرسکا۔ ابھی ہم کرونا سے نہیں نپٹ پا ئے تھے کہ پنجاب پر ٹڈی دل نے سولہ اضلاع پر حملہ کر دیا۔ کاٹن کی پیدا وار پہلے ہی گھٹ گئی ہے۔ اس لئے کہ تمام بیجوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ بتدریج اپنی کوالٹی وقت کے ساتھ کھوتے رہتے ہیں۔ جبکہ ہم ریسرچ کے کاموں میں بہت پیچھے ہیں۔ پھر حکمرانوں کی پچھلے پچاس سال سے توجہ گنے پر رہی ہے اور زیادہ تر کاٹن ایریا شوگر ملوں کی وجہ سے کاٹن فیلڈ سے شوگر لینڈ میں جو تبدیل ہوا تھا وہ اب پچھتا ر ہے ہیں کہ گنا نہیں اٹھتا ہے کاشتکار کو منت کرنا پڑتی ہیں۔ اور جب مل اونر منت سماجت کے بعد گنا لیتا ہے تو تین تین سال ادائیگی نہیں کرتا ہے۔ یہ ہیں وہ خامیاں جن کا فی الحا ل کوئی علاج نہیں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا حل کیا ہے۔ جبکہ حل یہ ہے کہ رب اگر راضی ہو جائے تو وہ قادرِ مطلق ہے مدد کے لیئے فرشتے بھی بھیج سکتا ہے اور شروع میں وہ بھیجتا بھی رہا ہے۔ ہم اس کے ساتھ بھی ہر پھیر سے بعض نہیں آتے۔ اور اسے منا نے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ تو انجام کیا ہوگا۔ وہ تفسیر ابن کثیر میں سورہ الانعام کی آیت نمبر چھ پڑھ لیجئے۔ جواب مل جا ئے گا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں محفوظ .آمین

SHARE

LEAVE A REPLY